ایک حدیث رسول
Al-Risala, November 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3062) یعنی بے شک اللہ اس دین کی تائید فاجر شخص سے کرے گا۔
اس حدیث میں ’فاجر‘ سے مراد وہی ہے جس کو موجودہ زمانے میں سیکولر کہا جاتا ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک دین کی تعلیم اور دین کی تشریح کا تعلق ہے، اس کو صرف مخلص اور مومن لوگ ہی انجام دیں گے، لیکن وسیع تر معنوں میں دین کی ایک اور ضرورت ہے اور وہ تائید دین یہ تائیدی رول (supporting role) کوئی بھی شخص انجام دے سکتا ہے، حتی کہ سیکولر افراد یا سیکولر نظام بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے موقع پر عبداللہ بن اریقط کا سفری رہنما کا رول اسی قسم کے ایک تائیدی رول کی حیثیت رکھتا ہے۔
اگر یہ مانا جائے کہ کمال اتاترک محض ایک سیکولر آدمی تھے، وہ نہ کوئی مذہبی آدمی تھے اور نہ ان کا مشن کوئی مذہبی مشن تھا، تب بھی یہ ماننا ہوگا کہ مذکورہ حدیث کے مطابق، اسلام یا مسلمانوں کے لیے کمال اتاترک کا تائیدی رول ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔