فقہی ماڈل کا نقصان
Al-Risala, November 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
فقہ کا شعبہ ایک مستقل شعبہ (independent discipline) کے طور پر صحابہ اور تابعین کے
دور میں موجود نہ تھا۔ فقہ کی تشکیل بعد کو عباسی دور (1258-750) میں ہوئی ۔ فطری طور پر فقہ کے بہت سے مسائل وقتی حالات کے تقاضے کے تحت بنائے گئے ، مگر بعد کو وہ مقدس ہو کر اسلام کا ابدی حصہ سمجھے اس حد کو پہنچ کر فقہ کا شعبہ اُسی طرح ایک فرسودہ ڈھانچہ بن گیا جس طرح مسلم خلافت کے ادارے نے بعد کے زمانے میں ایک فرسودہ ڈھانچے کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ فقہ کی تشکیل کے زمانے میں پرنٹنگ پریس کا طریقہ دریافت نہیں کتابیں یا تو حافظے میں ہوتی تھیں یا ہاتھ سے اُن کو قدیم طرز کے معمولی کاغذ (parchment) پر لکھا جاتا تھا۔ اُس دور کے مسلم علماء ، قرآن کی حفاظت کے معاملے میں بہت زیادہ حساس بن گئے۔ اُس زمانے میں بعض لوگوں نے قرآن کا فارسی ترجمہ کیا۔ اس سے ایک مسئلہ پیدا ہوا۔ علما نے یہ فتویٰ دے دیا کہ ترجمہ جب لکھا جائے تو اُس کے ساتھ قرآن کا عربی متن (Arabic Text) بھی ضرور شامل کیا جائے۔ قبل از طباعت دور کا یہ مسئلہ بعد از طباعت دور میں بھی مقدس بن کر باقی رہا۔ معاملے کی ایک مثال حسب ذیل استقتا اور فتوے سے معلوم ہوتی ہے :
استقتا: کیا قرآن کا ترجمہ بغیر متن کے چھاپنا اور اس کی اشاعت کرنا جائز ہے۔ فتوی : قرآن کریم کا ترجمہ بغیر متن کے شائع کرنا جائز نہیں ہے۔ علماء کرام نے اس سے منع کیا ہے، اور اس کے ممنوع ہونے پر علما کا اجماع نقل کیا ہے۔ مفتی محمد شفیع عثمانی نے اس پر ایک مستقل رسالہ تحریر کیا ہے، اور اس میں علامہ شرنبلالی کے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ (النفحة القدسية في أحكام قراءة القرآن و كتابته بالفارسية) کا ذکر کیا ہے، اور لکھا ہے کہ اس میں ائمہ اربعہ سے بغیر متن ، قرآن کے لکھنے کو سختی کے ساتھ حرام کیا گیا ہے۔ مفتی محمد شفیع عثمانی نے لکھا ہے کہ قرآن مجید کا صرف ترجمہ بغیر عربی الفاظ کے لکھنا اور لکھوانا اور شائع کرنا ، باجماع امت حرام اور با تفاق ائمہ اربعہ (جواہر الفقه، جلد 1، صفحه (97)
مذکورہ فتوے کی بنیاد یقینی طور پر کسی نص پر مبنی نہیں ہے۔ اگر اُس کو درست قرار دیا جا سکتا ہے تو صرف ایک بنیاد پر اس کو درست قرار دیا جا سکتا ہے، اور وہ دور طباعت سے پہلے کے حالات کی نسبت سے
ایک وقتی احتیاط ہے۔ اب دورِ طباعت میں اس وقتی احتیاط کو برقرار رکھنا صرف ذہنی جمود کا ایک معاملہ ہوگا، نہ کہ حقیقۃً احتیاط کا معاملہ۔ دورِ طباعت میں قرآن کی حفاظت اتنے مستحکم انداز میں ہو چکی ہے کہ اب قدیم انداز کی کوئی احتیاط سرتا سر بے معنی ہے۔
مزید یہ کہ اس قسم کے مفتی صاحبان نے اپنے جامد ذہن کی بنا پر ایک اور فتویٰ دے رکھا ہے۔ یہ فتویٰ ’بے حرمتی‘ کے خود ساختہ تصور پر مبنی ہے۔ اس دوسرے فتوے کے مطابق، قرآن کے ترجمے کو اگر متن کے ساتھ شائع کیا جائے تو غیر مسلموں کے ہاتھ میں اس کو دینا جائز نہ ہوگا، کیوں کہ وہ قرآن کی بے حرمتی کریں گے۔ گویا کہ قرآن کے ترجمے کو اگر متن (text) کے بغیر شائع کیا جائے تو اس کا شائع کرنا نا جائز ہے۔ اور اگر قرآن کے ترجمے کو متن کے ساتھ شائع کیا جائے تو اس کو غیر مسلموں کے ہاتھ میں دینا نا جائز ہے، یعنی پہلی صورت میں طباعت نا جائز اور دوسری صورت میں استعمال نا جائز۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ذہنی جمود اپنے نتیجے کے اعتبار سے کتنا زیادہ ہلاکت خیز ہے۔ اس قسم کے جامد فتووں کا یہ ہلاکت خیز نتیجہ ہوا ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام عملاً معطل ہو کر رہ گیا۔ دعوت الی اللہ کے کام کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں چھپا پا جائے اور اس کو منظم طور پر لوگوں تک پہنچایا جائے ۔ لیکن مذکورہ قسم کے بے اصل فتوؤں کی بنا پر ایسا ہوا کہ مسلمانوں کے اندر دعوت الی اللہ کا ذہن ہی نہیں بنا۔ موجودہ زمانے میں پرنٹنگ پریس کا دور اس لیے آیا تھا کہ خدا کی کتاب کا ترجمہ ہر زبان میں چھاپ کر اس کو تمام انسانوں تک پہنچایا جائے، مگر دورِ پریس پر تین سو سال سے زیادہ کی مدت گزر گئی اور ذہنی جمود کی بنا پر اب تک یہ کام انجام نہ پا سکا۔
اس مثال کے برعکس، ترکی میں ایک دوسری مثال سامنے آئی۔ یہاں ترکی کے شہر استنبول میں ایک تاریخی مسجد (رستم پاشا مسجد) ہے۔ یہ بڑی مسجد ہے اور یہاں کثرت سے سیاح آتے ہیں۔ یہاں کے ترکی امام کو ہمارے ساتھیوں نے قرآن کے انگریزی ترجمہ (بغیر متن) کی کاپیاں دیں۔ امام صاحب نے اس کو خوشی کے ساتھ لیا۔ اس کے بعد انھوں نے بڑی تعداد میں قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ
ترکی سے چھپوایا اور اس کو مزید پرکشش بنانے کے لیے قرآن کے سائز کا ایک خوب صورت بیگ تیار اب وہ اس کو باقاعدہ نظم کے تحت مسجد میں آنے والے سیاحوں کو دے رہے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ انھوں نے مسجد کے صحن میں ایک میز پر قرآن کے ترجمے رکھ دیے ہیں۔ یہاں انھوں نے لکھ دیا ہے کہ یہ آپ کے لیے مسجد کی طرف سے فری سپرچول گفٹ (free spiritual gift) ہے۔ چناں چہ مسجد میں آنے والے غیر مسلم سیاح یہاں سے بڑی تعداد میں قرآن کا انگریزی ترجمہ بخوشی حاصل کر رہے ہیں۔
اس فرق سے جدید ترکی کے مثبت پہلو کا اندازہ ہوتا ہے۔ اتا ترک آپریشن کے بعد ترکی میں یہ ہوا کہ جمود ٹوٹ گیا اور لوگوں کے اندر کھلاپن (openness) آیا۔ اس کے مختلف مظاہر میں سے ایک مظہر یہ تھا کہ لوگوں کے اندر مذہبی جمود کا مزاج ختم ہو گیا۔ وہ چیزوں کو اُس کی حقیقت کے اعتبار سے دیکھنے لگے، نہ کہ قدامت پسندی اور کٹر پن کے اعتبار سے۔