Al-Risala · November 2012

ترکی کا رول

Al-Risala, November 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

ترکی، مشرقِ وسطی کا ایک ملک ہے۔ وہ جزئی طور پر ایشیا میں واقع ہے اور جزئی طور پر یورپ دو براعظم کے درمیان اِس کا واقع ہونا اس کی تاریخ بنانے میں ایک مرکزی عامل ہے، اس کے کلچر میں اور اس کی سیاست میں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ترکی، مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے:

Turkey is a country of the Middle East lying partly in Asia and partly in Europe. Its location in two continents has been a central factor in its history, culture and politics. Turkey has often been called a bridge between East and West. (EB. 18/782)

ترکی کے ایشیائی حصے کو اناطولیہ (Anatolia) اور اس کے یورپی حصے کو تھریس (Thrace) کہا جاتا ہے۔ ترکی کا یہ مختلف جغرافیہ کیسے بنا۔ ارضیاتی سائنس کے ماہرین نے اس معاملے کی تحقیق کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ 200 ملین سال پہلے زمین ایک سالم کرہ کی صورت میں تھی، پھر اس کی سطح پر جگہ جگہ پھٹنے کا

اس نظریے کو جغرافیہ میں ڈرفٹنگ کانٹی نینٹ تھیوری (drifting continent theory) کہا یہ عمل دھیرے دھیرے تقریباً 140 ملین سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد سطح زمین کا پانی سمندروں صورت میں جمع ہو گیا اور خشکی کے علاقے 5 الگ الگ براعظم بن گئے۔ گویا کہ ترکی کا موجودہ جغرافی نقشہ بننے میں ایک سو ملین سال سے زیادہ وقت لگ گیا۔

ترکی کا یہ مختلف جغرافیہ اتفاقاً نہیں بنا۔ اس کے پیچھے یقیناً خالق کی منصوبہ بندی شامل تھی۔ اسی مختلف جغرافی ساخت کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ بعد کے زمانے میں ترکی انسانی تاریخ میں ایک مختلف رول ادا کر سکے۔

اسلام کا ظہور عرب میں ہوا۔ مخصوص اسباب کی بنا پر عرب کے لوگ بڑی تعداد میں شام (Syria) جایا کرتے تھے۔ شام کا ملک ترکی سے ملا ہوا ہے۔ اسلام کا ظہور جب عرب میں ہوا اور اہل ایمان عرب کے باہر اطراف کے ملکوں میں تبلیغ کے لیے جانے لگے، تو اُن کی ایک تعداد شام سے گزر کر ترکی میں بھی داخل ہو گئی۔ یہ عمل صحابہ کے زمانے میں شروع ہو گیا تھا۔ چناں چہ ترکی میں بہت سے اصحاب رسول کی قبریں پائی جاتی ہیں۔ اُن میں سے ایک حضرت ابو ایوب انصاری ہیں جن کی قبر استنبول (قسطنطنیہ) میں واقع ہے۔ اس طرح ترکی کی ایک طرف قدیم مذہبی روایات کا حامل بن گیا اور دوسری طرف آبنائے باسفورس کے اوپر برٹش انجینئروں کا بنایا ہوا جدید طرز کا پل علامتی طور پر، یورپی ٹیکنالوجی کی یاد دلاتا ہے۔ اس طرح ترکی گویا مشرقی تہذیب اور مغربی تہذیب کے درمیان ایک سنگم (junction) کا کام کر رہا ہے۔

ترکی کا یہ مخصوص جغرافیہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ ترکی کا مشن کیا ہے۔ وہ مشن ہے— مشرق سے ملی ہوئی خدائی ہدایت (divine guidance) کو اہل مغرب تک پہنچانا۔

اس وقت دنیا میں تقریباً 60 مسلم ملک یا مسلم اکثریت کے علاقے ہیں، مگر ان میں سے کوئی بھی ایسا ملک نہیں جہاں مذکورہ حالات پائے جاتے ہوں۔ یہ مطلوب حالات استثنائی طور پر صرف ترکی میں پائے جاتے ہیں۔ اس لیے تقریباً یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ دعوت الی اللہ کے معاملے میں آج جو رول

مطلوب ہے، اس کا مرکز صرف تر بن سکتا ہے، ترکی خدا وند رب العالمین کا انتخاب ہے۔ اس معاملے میں، باعتبار نتیجہ، کمال اتاترک کا بھی ایک معاون رول (supporting role) مسلمانوں کے مذہبی طبقے میں عام طور پر کمال اتاترک ایک بدنام شخص کی حیثیت رکھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کمال اتاترک نے جو کچھ کیا، وہ ایک ریڈیکل آپریشن (radical operation) تھا، اور کسی بڑی تعمیر کے لیے ہمیشہ اس قسم کا ریڈیکل آپریشن ضروری ہوتا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، کمال اتاترک اسلام دشمن نہ تھے، وہ دراصل اسلام کے نام پر بنائے ہوئے خود ساختہ ڈھانچے کو توڑنا چاہتے تھے۔ اُن کا نشانہ یہ تھا کہ ترکی کے لوگوں میں کٹر پن اور جمود ختم ہو۔ ترکی میں کھلے پن (openness) اور روشن خیالی (enlightenment) کا دور آئے۔ ترکی کے لوگوں کو قدیم توہم پرستانہ دور سے نکال کر جدید سائنسی دور میں داخل کیا جائے۔ سیکولر ایجوکیشن کو فروغ دیا جائے، وغیرہ۔ اس قسم کی انقلابی تبدیلی ریڈیکل آپریشن کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ کمال اتاترک ترکی میں جو ریفارم لانا چاہتے تھے، اس کا اندازہ خود اُن کے ایک قول سے انھوں نے کہا تھا کہ سائنس زندگی کی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد رہنما ہے۔ کمال ازم کی حقیقت کمال اتاترک کی تحریک کو کمال ازم (Kemalism) کہا جاتا ہے۔ کمال ازم کی تحریک اینٹی اسلام تحریک نہ تھی۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، کمال ازم کی تحریک مخالف جمود (anti-stagnation) تحریک تھی۔ ترکی میں کمال اتاترک کا دور 1920 کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ترکی مکمل طور پر ذہنی جمود کا شکار ہو چکا تھا۔ یہ وقت تھا جب کہ ترکی کے پڑوسی علاقہ یورپ میں ماڈرن ایجوکیشن اور ماڈرن انڈسٹری آ چکی تھی، مگر ترکی کی قدیم روایتی دور میں پڑا ہوا تھا۔ صورتِ حال کے ردِ عمل کے طور پر ترکی کے بہت سے لوگوں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ ترکی کو ماڈرنائز کیا کمال اتاترک دراصل اسی ذہن کے قائد کے طور پر ابھرے۔

ترکی میں کمال اتاترک کو 1923 میں سیاسی اقتدار ملا۔ اس کے بعد انھوں نے ملک میں

ریڈیکل اصلاحات کیں۔ خاص طور پر تعلیم اور انڈسٹری میں ترکی کو یورپ کی ترقیاتی سطح پر لانے کی اتاترک سے پہلے ترکی میں تعلیم کی شرح بمشکل 20 فی صد تھی، مگر کمال آپریشن کے نتیجے میں ترکی میں تعلیم اتنی تیزی سے بڑھی کہ جلد ہی وہ 90 فی صد تک پہنچ گئی: The literacy rate did increase greatly after the ترکی کے ایک مورخ نے لکھا ہے کہ کمال انتظامیہ نے ترکی میں بڑے پیمانے پر اس نے ترکی میں سیکولرازم کو فروغ دیا اور حکومتی نظام کو ماڈرنائز کیا۔ تعلیم کو ترقی دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انڈسٹری اور بینکنگ کے نظام کو بہت زیادہ وسعت دی گئی: Kemalist administration brought about a thorough کمال اتاترک کے انھیں اقدامات کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ترکی، جدید اصلاح کے مطابق، ایک ترقی یافتہ ملک (developed country) بن گیا ہے۔ وہ یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں کی مانند ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ ترکی کے ادارے (institutions)، ترکی کی انڈسٹری، ترکی کے شہر، ترقی کے اعتبار سے یورپ کے ملکوں سے پیچھے نہیں ہیں، حتیٰ کہ جو ورک کلچر (work culture) یورپ میں پایا جاتا ہے، وہی ورک کلچر ترکی میں بھی موجود ہے۔

یہ ایک واقعہ ہے کہ کمال اتاترک نے اپنے 18 سالہ دور اقتدار میں کئی غلطیاں کیں، مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ہر مصلح غلطیاں کرتا ہے، اس میں کسی مصلح کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ دیکھنے کی اصل چیز بعد کا نتیجہ ہے، نہ کہ آپریشن کے زمانے کی بعض غلطیاں۔ آج ترکی کو ترقی کے اعتبار سے جو درجہ حاصل ہے، وہ بلاشبہ کمال اتاترک کی ریڈیکل اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس اعتبار سے، ترکی دوسرے مسلم ملکوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔ دوسرے مسلم ملکوں کو چاہیے کہ وہ

اتاترک آپریشن کے بعض منفی پہلوؤں کو نظر انداز کریں اور اس کے مثبت پہلوؤں پیروی کرتے ہوئے اپنے ملکوں کو جدید معیار پر ترقی یافتہ بنائیں ۔

Printed page