Al-Risala · November 2012

From the Earliest Times to the Present

Al-Risala, November 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

822 صفحات کی اس کتاب میں عربوں کی علمی اور فکری تاریخ کو مستند ماخذ (authentic sources) کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔

اس کتاب کا ایک باب علمی اور ادبی ترقیوں (scientific and literary progress) کے بارے میں ہے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ عرب ایک زمانے میں ترقی کی اس حد تک پہنچے کہ ابن سینا کی کتاب کو میڈیکل بائبل کہا جاتا تھا (صفحہ 368)۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ بعد کی صدیوں میں عرب اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار نہ رکھ سکے: Reverence for the past with its traditions, both religious and scientific, has bound the Arab intellect with filters which it is only now beginning to shake off. (p. 381)

یعنی ماضی کی روایات کو مقدس سمجھنا عرب ذہن کے لیے ترقی کا بندھن بن گیا، علمی اعتبار سے بھی اور مذہبی اعتبار سے بھی۔ اب اس میں تبدیلی ہو رہی ہے، مگر ابھی وہ صرف آغاز کے درجے میں ہے۔ فلپ ہٹی نے جو بات عربوں کے بارے میں لکھی ہے، وہی بات پوری مسلم دنیا کے بارے میں درست ہے۔ اس عموم میں خود ترکی کی بھی شامل ہے۔ ترکی میں وہ سارے حالات پیدا ہوئے جو بقیہ مسلم دنیا میں پیدا ہوئے تھے۔ موجودہ دور میں پوری مسلم دنیا قدیم وجدید کی کشمکش سے گزری ہے۔

اس اعتبار سے، تر میں بھی وہی حالات پیش آئے جو دوسرے مسلم ملکوں میں پیش آئے۔ البتہ ایک اعتبار سے فرق ہے، وہ یہ کہ ترکی جغرافی اعتبار سے، یورپ کی سرحد پر واقع ہے، بلکہ جزئی طور پر وہ براعظم یورپ ہی کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوا کہ نشاۃ ثانیہ (Renainssance) کے بعد یورپ میں جو نئے حالات پیدا ہوئے، اُن کا براہِ راست اثر ترکی پر وہ واقعہ جس کو ”ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش“ کہا جاتا ہے، وہ دراصل اس علاقے میں پیش آنے والے تہذیبی انقلاب کا نتیجہ تھا، نہ کہ کسی اتفاق یا کسی ”سازش“ کا نتیجہ۔ ترکی کی مخصوص جغرافی پوزیشن کے نتیجے میں فطری طور پر ایسا ہوا کہ ترکی میں وہ پراسس شروع ہوا جس کو ویسٹرنائزیشن (westernization) یا سیکولرائزیشن(secularization) کہا جاتا اس تحریک کے علم بردار بہت سے نئے ترکی مفکرین تھے۔ مثلاً محمد نامق کمال (1840-1888) اور محمد ضیا گوکلپ (1924-1875)، وغیرہ۔ مشہور تنظیم ینگ ترک (Young Turk) بھی اسی کا ایک حصہ تھی۔

ترکی کا سلطان سلیم اول (وفات: 1520ء) سیاسی دائرے میں اس تحریک کا حامی تھا۔ چاہتا تھا کہ ترکی کی تجدید کاری(modernization) کی جائے۔ خاص طور پر حکومتی ادارے کو اس سلسلے میں سلطان نے ترکی کی فوج کو مغربی آلاتِ حرب سے مسلح کرنے کی کوشش کی، مگر اُس وقت ترکی کے حالات اس قسم کی تجدید کاری کے لیے موافق نہ تھے۔ چناں چہ مصلحین کی کوششیں زیادہ کامیاب نہ ہو سکیں اور خود سلطان سلیم کو تخت چھوڑ دینا پڑا۔ جیسا کہ معلوم ہے، ترکی میں اسلام عہدِ صحابہ میں پہنچ چکا تھا۔ ترکی اس سے پہلے رومی سلطنت کے قبضے میں تھا۔ مسلمانوں نے جب رومی سلطنت کو توڑا تو اس کے بعد ترکی کی مسلم مملکت کا ایک حصہ بن رومی سلطنت کے زمانے میں ترکی کی آبادی زیادہ تر مسیحی مذہب کو ماننے والی تھی۔ کے تحت یہاں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ عربی زبان وسیع پیمانے پر رائج ہوگئی۔ ترکی کے شہروں میں کثیر تعداد میں عربی مدرسے قائم ہوئے۔

ترکی کے یہ عربی مدرسے آخر تک روایتی انداز پر قائم رہے۔ ان مدرسوں کا ماحول مکمل طور پر قدامت پرستی کا ماحول تھا۔ ان مدرسوں سے بڑی تعداد میں علما پیدا ہوئے ۔ ترکی میں علما کو نہایت مضبوط حیثیت حاصل ہوگئی، یہاں تک کہ نئے خلیفہ کی خلافت اُس وقت مکمل ہوتی تھی جب کہ وہ جامع ایوب ( مقبرہ ابوایوب انصاری) میں حاضر ہو اور وہاں شیخ الاسلام ( مفتی اعظم قسطنطنیہ ) اس کی کمر میں روایتی تلوار اپنے ہاتھ سے حمائل کریں، یہ رسم نئے خلیفہ کی تاج پوشی کا ایک لازمی حصہ تھی۔

ان تاریخی اسباب کے نتیجے میں ترکی کے علما کو ترکی میں نہایت طاقت ور پوزیشن حاصل ترکی کے یہ علما دوسرے ملکوں کی طرح، اپنے محدود ماحول میں رہتے تھے، ان کو خارجی دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کی مطلق خبر نہ تھی۔ وہ اپنے اس قدامت پرستانہ مزاج کی بنا پر ترکی میں تجدید کاری کی تحریک کے شدید مخالف بن گئے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ’’مغرب میں پندرھویں صدی عیسوی میں متحرک ٹائپ کی ایجاد سے پرنٹنگ پریس کی دنیا میں حیرت انگیز انقلاب آ گیا تھا، لیکن علما نے اس نئی ٹکنالوجی کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ عربی یا ترکی کی کتابوں میں خدا اور رسول کا نام ہوتا ہے جس کو اس جدید طریقہ طباعت میں پامال نہیں کیا جا سکتا۔ ’’ 1577 عیسوی میں استنبول میں ایک عظیم الشان رصد گاہ قائم کی گئی تھی جس کو علما نے خلافِ اسلام قرار دے دیا۔ اتفاق سے اُنھیں دنوں وہاں طاعون کی وبا پھیل گئی۔ علما کا موقف تھا کہ یہ دراصل اسرارِ خدائی میں مداخلت کی سزا ہے۔ بالآخر 1580 عیسوی میں عوامی دباؤ کے سبب اس رصد گاہ کو منہدم کر دیا گیا‘‘، وغیرہ۔

( ادراکِ زوال امت، از: راشد شاز، جلد 2، صفحہ 177)

روایتی علما کی شدید مخالفت کی بنا پر ترکی میں جو حالات پیدا ہوئے، اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ ایک طرف تجدیدی مصلحین کی آواز دب گئی، اور دوسری طرف شدید دباؤ کے تحت سلطان سلیم اول کو 8 سال حکومت کرنے کے بعد 1520 عیسوی میں تخت خلافت چھوڑنا پڑا۔

Printed page