ترکی کی اسلامی تاریخ
Al-Risala, November 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام سے پہلے ترکی کے باشندوں کی اکثریت مسیحی مذہب (Christianity) کو ماننے ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں یہاں اسلام داخل ہوا۔ اس کے بعد یہاں مسلسل اسلام کا فروغ ہوتا رہا۔ اس وقت ترکی کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 99 فی صد ہے۔ ترکی میں اسلام اور مسلمانوں کا استحکام بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچا کہ یہاں ایک طاقت ور مسلم سلطنت قائم ہو گئی۔ اس کو عثمانی خلافت (Ottoman Empire) کہا جاتا ہے۔ 1299ء میں قائم ہوئی اور 1924ء تک باقی رہی۔ عثمانی سلطنت کے عروج کے زمانے میں اس میں ایشیا اور یورپ کے 12 ملک شامل تھے۔ استنبول کو عثمانی حکمراں سلطان محمد الفاتح (وفات: 1481ء) نے 1453ء میں فتح کیا۔ اُس وقت اس کا نام قسطنطنیہ تھا۔ بعد کو وہ استنبول کے نام سے عثمانی سلطنت کی راجدھانی بن گیا۔
قدیم زمانہ مبنی بر شمشیر سیاست کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں کسی مشن کو مضبوطی کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے مستحکم سیاسی بنیاد (political base) درکار ہوتی تھی۔ عثمانی سلطنت نے اسلامی مشن کو یہی مضبوط سیاسی بنیاد فراہم کی۔ اس قسم کی مضبوط سیاسی بنیاد کے بغیر قدیم زمانے میں اسلام کو فروغ حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ عثمانی ترکوں نے ایک مدت تک، نہ صرف ترکی، بلکہ مسلم دنیا کے بڑے حصے کو سیاسی دبدبہ کی یہی بنیاد فراہم کی۔ اس اعتبار سے عثمانی سلطنت کا کارنامہ ناقابل انکار ہے۔
لیکن بیسویں صدی میں عالمی حالات مکمل طور پر بدل چکے تھے۔ اب نئے حالات کے مطابق، ساورست کا رول ثانوی (secondary) بن چکا تھا۔ اب ترکی میں اسلام کے فروغ کے لیے ضرورت تھی کہ وہاں غیر سیاسی دائرے میں ایک مضبوط تعمیری بنیاد قائم کی جائے۔ قدیم زمانہ سیاسی اقتدار کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ اس کے بجائے اداروں (institutions) کا زمانہ ہے، یعنی غیر سیاسی شعبوں میں پرامن تنظیمیں بنانا، مثلاً تعلیم، صحافت، سماجی ترقی کے ادارے، پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کا استعمال، وغیرہ۔ نئے دو کے مواقع کو استعمال کرنے میں زوال یافتہ سیاسی نظام ایک رکاوٹ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اتاترک کا کمال ازم اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اسی نوعیت کا ایک آپریشن تھا۔ اس کے نتیجے میں ترکی میں کھلے پن (openness) کا نیا دور آیا اور یہ ممکن ہو گیا کہ نئے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کے حق میں غیر سیاسی دائرے میں ایک تعمیری بنیاد قائم کی جائے۔
مابعد اتاترک دور (post-Ataturk period) میں ترکی میں کچھ ایسے رہنما اٹھے جو نئے دور کے مواقع کو اسلام اور مسلمانوں کے حق میں منظم طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، ان نئے ترک رہنماؤں میں سے دور رہنما خصوصی اہمیت رکھتے ہیں— ایک، بدیع الزماں سعید نورسی، اور دوسرے استاد محمد فتح اللہ گولن۔ نئے ترکی کی تعمیر میں ان دونوں کا نمایاں حصہ ہے۔ بدیع الزماں سعید نورسی 1876 میں پیدا ہوئے اور 1960 میں اُن کا انتقال ہوا۔ جزئی طور پر سیاست میں حصہ لیا، لیکن جلد ہی اُن پر سیاست کی برائی واضح ہوگئی اور انھوں نے یہ کہہ کر سیاست سے علاحدگی اختیار کرلی: أعوذ بالله من الشيطان ومن السياسة۔
سعید نورسی کی تحریک کو نور تحریک کہا جاتا ہے۔ اُن کا طریقہ پرامن دائرے میں غیر سیاسی انداز میں کام کرنا تھا۔ اس طرح کام کر کے وہ مسلمانوں کو اعلیٰ مقام تک پہنچانا چاہتے تھے۔ دورِ جدید میں مسلمانوں کے احیاء نو کے علم بردار تھے۔ سعید نورسی کے ایک سیرت نگار کے الفاظ میں، ان کا مشن اسلامی تہذیب کی تعمیر نو (rebuilding of Islamic civilization) تھا۔
سعید نورسی کے پیروؤں کی تعداد کئی ملین تک پہنچتی ہے۔
اس سلسلے میں دوسرا نام استاد محمد فتح اللہ گولن (Fethullah Gulen) کا ہے۔ صدی عیسوی کے ترکی میں مقبول رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے پیرو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے انھوں نے تعلیم، صحت، سوشل ریفارم جیسے تعمیری شعبوں میں ممتاز کام انجام دئے ہیں، ترکی میں بھی اور ترکی کے باہر بھی۔ میں نے ترکی کے سفر کے دوران ان کے پیروؤں کے قائم کئے ہوئے کچھ اداروں کو دیکھا۔ ان اداروں کا معیار وہی تھا جو یورپ کے اداروں کا معیار ہوتا ہے۔ فتح اللہ گولن کا یہ سوچا سمجھا نظریہ ہے کہ۔ پرامن انداز میں تعمیری کام کرو اور عملی سیاست سے یہاں استاذ فتح اللہ گولن کے ایک سیرت نگار کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے:
ترکیکا نیا رول Turkey: Second Phase of Sahaba Mission جیسا کہ عرض کیا گیا، مئی 2012 کے پہلے ہفتے میں ترکی میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ کی دعوت پر میں نے ترکی کا سفر کیا۔ ایک ہفتہ قیام کے دوران میں نے ترکی کے مختلف تاریخی مقامات اُن میں سے ایک حضرت ابو ایوب الانصاری کا مقبرہ ہے جو استنبول میں واقع ہے۔ مقبرے کے ساتھ اب ایک بڑا سا کمپلیکس بنا دیا گیا ہے۔
3 مئی 2012 کو میں نے یہ مقبرہ دیکھا۔ جس وقت میں مقبرے کے سامنے کھڑا ہوا تھا، میرا دماغ اس کی تاریخ کے بارے میں سوچنے لگا۔ میں نے سوچا کہ ابو ایوب انصاری ایک صحابی رسول وہ مدینہ میں پیدا ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے مشن میں شریک ایک دعوتی سفر کے دوران 52 ہجری میں وہ ترکی آئے۔ اُس وقت اُن کی عمر تقریباً 80 سال ہو چکی تھی۔ یہاں پہنچ کر شدید بیماری کی حالت میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی تدفین قسطنطنیہ میں ہوئی۔
قسطنطنیہ کا موجودہ نام استنبول ہے۔ ترکی میں متعدد صحابہ کی قبریں ہیں۔ ابو ایوب انصاری کی قبر اُن میں سے ایک ہے۔
میں نے سوچا کہ ابو ایوب انصاری اور دوسرے صحابہ عرب میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد وہ پر مشقت سفر کر کے ترکی پہنچے اور پھر وہ یہاں کی سرزمین میں مدفون ہو گئے۔ یہ سوچتے ہوئے مجھے تاریخ کا وہ واقعہ یاد آیا جو 632 عیسوی میں عرب کے میدان عرفات میں پیش آیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے اصحاب کو خطاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا: إن الله بعثني رحمةً للناس كافةً فأدّوا عنّي (معرفة الصحابة لأبي نعيم، رقم الحديث: 3438) یعنی اللہ نے مجھے ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم میری طرف سے اس پیغام رحمت کو تمام انسانوں تک پہنچادو۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کے مطابق، آپ کے اصحاب، عرب کے باہر نکلے اور اطراف کے ملکوں میں وہ آپ کا پیغام پہنچانے لگے۔ مگر یہ جدید کمیونیکیشن سے پہلے کا زمانہ تھا۔ چناں چہ ایک حد پر پہنچ کر اُن کا دعوتی قافلہ رک گیا اور تمام انسانوں تک پیغام رسانی کا پیغمبرانہ مشن اُس وقت فطری طور پر، اپنی تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔
اس معاملے کی ایک علامتی مثال عقبہ بن نافع التابعی (وفات: 63 ہجری) کی ہے۔ عقبہ بن نافع ایک دعوتی گروپ کے ساتھ چلتے ہوئے افریقہ کے مغربی ساحل تک پہنچ گئے۔ یہاں ان کے سامنے اٹلانٹک سمندر حائل ہو گیا۔ یہاں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر انھوں نے یہ تاریخی جملہ کہا: اللهم إنّي لو أعلم وراء هذا البحر بلداً لَخُضْتُه إليه حتى لا يُعبد أحد دونك (خدایا، اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے اُس پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر میں گھس کر وہاں جاتا، یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے)۔
استنبول میں جب میں صحابی رسول کی قبر کے سامنے کھڑا تھا، اْس وقت یہ پوری تاریخ میرے ذہن میں تازہ ہوگئی۔ اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے پیغمبر اسلام کے اصحاب جو اپنے دعوتی مشن کے تحت
ترکی پہنچے اور یہاں کی زمین میں دفن ہو گئے، وہ خاموش زبان میں آواز دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ــــ اے امت محمد، تم کہاں ہو۔ اٹھو اور پیغمبر اسلام کے مشن کی تکمیل کرو، قبل کمیونی کیشن دور (pre-communication age) میں ہم نے پیغمبر کے مشن کو یہاں تک پہنچایا تھا۔ اب تم بعد کمیونی کیشن دور (post-communication age) میں ہو۔ تم اٹھو اور جدید مواقع کو استعمال زمین کے آخری حصے تک پیغمبر کے دعوتی مشن کو پہنچادو۔