پیغمبر کا مشن
Al-Risala, November 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر کا مشن کیا ہے، اس کو قرآن میں انذار و تبشیر (20:17) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے دنیا کے تمام مردوں اور عورتوں کو باخبر کرنا، تاکہ آخرت میں جب تمام لوگ حشر کے میدان میں حاضر ہوں تو خدا کے سامنے کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو اس تخلیقی منصوبے کی خبر نہ تھی۔ پیغمبرانہ مشن کی اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: رسلاً مبشرين ومنذرين لئلا يكون للناس علی الله حجة بعد الرسل (165 :4) یعنی اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے :
They were messengers, bearing good news and giving warning, so that mankind would have no excuse before God. جغرافی اعتبار سے ترکی کا جائے وقوع بہت عجیب ہے۔ اس کا نصف حصہ ایشیا میں ہے اور بقیہ نصف حصہ یورپ میں۔ اس طرح ترکی گویا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے: Turkey is like a geographical bridge between East and West. ترکی کی یہ جغرافی حیثیت بظاہر خدا کے تخلیقی منصوبہ کا ایک خاموش اعلان ہے۔ بارے میں خدا کو یہ منظور ہے کہ وہ حکمت نبوت (prophetic wisdom) کو مشرق سے لے اور اس کو مغربی اقوام تک پہنچائے۔
قدیم زمانے میں ترکی دو بڑے ایمپائر کی سیٹ رہا ہے۔ بازنطینی ایمپائر اور عثمانی ایمپائر اس خصوصی تاریخ کی بنا پر ترکی میں بہت زیادہ تاریخی یادگاریں ہیں جو سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کا ذریعہ ہیں۔ موجودہ زمانے میں سفر اور کمیونیکیشن کی بنا پر ایک نیا ظاہرہ وجود میں آیا ہے جس کو عالمی سیاحت (international tourism) کہا جاتا ہے۔ ترکی اس اعتبار سے چند ٹاپ کے سیاحتی ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں مختلف ملکوں کے سیاح بڑی تعداد میں مسلسل آتے ہیں۔ میں ترکی میں دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے سیاحوں کی تعداد 31 ملین سے زیادہ تھی۔ میں آنے والے یہ لوگ سیکولر اصطلاح کے مطابق، سیاح (tourist) ہیں، لیکن اسلامی اصطلاح کے مطابق، وہ مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن میں سے ہر عورت اور مرد اس کا ضرورت مند ہے کہ اس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اس کی اپنی قابل فہم زبان میں پہنچایا جائے۔ ان سیاحوں کے بارے میں یہ کہنا درست ہوگا کہ مدعو خود داعی کے دروازے پر آکر دستک دے رہا ہے۔ وہ ترکی کے مسلمانوں سے کہہ رہا ہے کہ تمھارے پاس پیغمبر کا لایا ہوا خدائی کلام (Word of God) ہے۔ ہم تمھارے دروازے پر موجود ہیں۔ لاؤ وہ کلام ہم کو عطا کرو: We are here. Give us the Word of God you have received from the Prophet of Islam. اکیسویں صدی عیسوی میں پیدا ہونے والی یہ صورت حال، اپنی نوعیت کے اعتبار سے، زیادہ بڑے پیمانے پر عین وہی ہے جو ساتویں صدی عیسوی میں نسبتاً محدود پیمانے پر وجود میں آئی تھی۔ اس صورت حال کی حیثیت ایک دعوتی امکان (dawah opportunity) کی ہے۔ امت مسلمہ پر فرض ہے کہ وہ اس امکان کو دعوت الی اللہ کے لیے اُسی طرح استعمال کرے جس طرح ساتویں صدی میں پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے اس کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ اُس وقت مکہ مشرکانہ کلچر کا مرکز بنا ہوا تھا، حتی کہ خود مقدس کعبہ میں بھی کئی سو بت رکھے ہوئے تھے۔ اس مشرکانہ کلچر کی بنا پر ایسا تھا کہ
عرب کے مختلف حصوں سے لوگ برابر مکہ آتے تھے۔ آج کل کی اصطلاح میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مکہ کے مشرکانہ مرکز ہونے کی بنا پر عرب میں ایک قسم کی مذہبی سیاحت (religious tourism) وجود میں آ گئی تھی۔ مکہ ان ’’مذہبی سیاحوں‘‘ کا مقامِ اجتماع بنا ہوا تھا۔ یہ اجتماعات اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے، مشرکانہ اجتماعات تھے، لیکن اسی کے ساتھ یہ لوگ پیغمبرِ اسلام کے داعیانہ مشن کے لیے سامعین (audience) کی حیثیت رکھتے تھے۔ میں پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر روزانہ ان کے اجتماعات میں جاتے اور قرآن سنا کر ان کو دین حق کا پیغام اس لیے اصحابِ رسول کو ’’مقری‘‘ کہا جانے لگا، یعنی قرآن پڑھ کر سنانے والا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ مکہ میں رہتے ہوئے تمام عرب قبائل تک پیغمبرِ اسلام کا لایا ہوا خدائی پیغام پہنچ جائے۔ یہ پرنٹنگ پریس کے دور سے پہلے کی بات ہے۔ اُس وقت صرف یہ ممکن تھا کہ خدا کے کلام (قرآن) کو اپنے حافظے میں محفوظ کر لیا جائے اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنایا جائے۔ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا دور آ چکا ہے، اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ قرآن یا اس کا ترجمہ کتابی شکل میں تیار کر لیا جائے اور اس کو مطبوعہ صورت میں لوگوں تک پہنچایا جائے۔ گویا ساتویں صدی کے داعی اگر قرآن کے مقری بن کر دعوت کا کام انجام دے رہے تھے تو اکیسویں صدی کے داعی کو قرآن کا ڈسٹری بیوٹر (distributor) بن کر اسی پیغمبرانہ مشن کو جاری رکھنا ہے۔ کسی گروہ کے لیے سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ اس کو دنیا میں نظریاتی قائد کا درجہ حاصل ہو۔ دعوت الی اللہ کا کام ہی وہ کام ہے جو امتِ مسلمہ کو موجودہ زمانے میں نظریاتی قیادت کا درجہ عطا کر سکتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوت الی اللہ کا مشن ہے۔ اس مشن کے مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: لا يبقی علی ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند أحمد، رقم الحديث: 24215) یعنی زمین کے اوپر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر یہ کہ اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔ اس حدیثِ رسول میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ اسلام کا پیغام
ساری دنیا میں بسنے والے ہر عورت اور مرد تک پہنچ جائے گا۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ادخال کلمہ کا یہ واقعہ اسباب کے بغیر کسی پر اسرار انداز میں پیش آئے گا۔ قانون فطرت کے مطابق ، اس دنیا میں ہر واقعہ اسباب وعلل کے تحت پیش آتا ہے۔ یہی صورت ادخال کلمہ کے مذکورہ معاملے میں پیش آئے گی ۔ ادخال کلمہ کا یہ معاملہ بلا شبہ ایک معلوم مدخل (داخل کرنے والا) کے ذریعے ہوگا، نہ کہ کسی پر اسرار طریقے کے ذریعے۔
اس حدیث رسول میں دراصل پیشین گوئی کے انداز میں اُس دور کا ذکر ہے جس کو کمیونی کیشن کا دور (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بعد کی تاریخ میں اہل ایمان کو عالمی کمیونیکیشن کے ذرائع حاصل ہو جائیں گے اور اس طرح اُن کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ ان ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے وہ اسلام کے پیغام کو عالمی سطح پر پہنچا سکیں، جب کہ اس سے پہلے صرف مقامی سطح پر پیغام رسانی ممکن ہوتی تھی ۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے دعوہ ایمپائر کا نام دیا ہے۔