اخوان رسول
Al-Risala, November 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو کمیونی کیشن کے دور میں ادخال کلمہ کا یہ رول ادا کریں اس کا جواب ایک حدیث میں ملتا ہے۔ اُس کے الفاظ یہ ہیں : وددتُ أنا قد رأينا إخواننا۔ قالوا: أولسنا إخوانك يا رسول الله ، قال : أنتم أصحابي، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد (صحيح مسلم، رقم الحديث : 249) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھیں ۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ دونوں حدیثوں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول اور اخوان رسول دونوں کا مشن زمانے کے فرق کے ساتھ ، ایک ہی ہے، یعنی دعوت الی اللہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ اصحاب رسول نے دعوت کے اس کام کو قبل کمیونی کیشن دور (pre-communication age) میں انجام دیا، اور اخوان رسول وہ
لوگ ہوں گے جو اسی دعوتی مشن کو بعد کمیونی کیشن دور (post-communication age) میں انجام دیں گے۔
اصحابِ رسول کو قرآن میں خیر امت (3:110) کہا گیا ہے۔ خیر امت کے بارے میں حضرت عمر فاروق کا ایک قول ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: من سرّه أن يكون من هذه الأمة فليؤد شرط الله فيها (الطبري، 5/494)۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: من فعل فعلهم، كان مثلهم (القرطبي، 4/170)۔ دونوں روایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ خیر امت یا اصحابِ رسول کوئی پُر اسرار ٹائٹل نہیں۔ یہ دراصل ایک رول (role) کا عنوان ہے، اور وہ رول دعوتی رول ہے۔ پچھلے زمانے میں دعوتی رول ادا کرنے کے نتیجے میں اصحابِ رسول کو اصحابِ رسول ہونے کا درجہ ملا۔ اسی طرح بعد کے زمانے میں جو لوگ مطلوب دعوتی رول ادا کریں گے، اُن کو اخوانِ رسول کا درجہ ملے اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں تاریخی رول ہیں، نہ کہ پر اسرار ٹائٹل۔ ترکی کی امتیازی خصوصیات ہیں، اُن کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اہل ترکی کے لیے امکانی طور پر وہ مواقع حاصل ہیں جن کو استعمال کر کے وہ اسلام کی تاریخ میں وہ رول ادا کریں جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کا رول کہا گیا ہے۔ اس معاملے میں دوسرے مقامات کے مسلمان بھی اُن کا ساتھ دے سکتے ہیں، مگر قانونِ فطرت کے مطابق، غالباً ایک گروہ کے لیے قائدانہ رول (leading role) مقدر ہے اور دوسرے گروہ کے لیے تائیدی رول (supporting role)۔
ترکی کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ ترکی کی سرزمین میں بہت سے صحابہ کی قبریں ہیں۔ یہ اصحابِ رسول گویا خاموش زبان میں اہل ترکی کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کا دعوتی قافلہ یہاں آکر رک گیا تھا۔ اب تم اکیسویں صدی میں اب تم کو نئے حالات اور نئے وسائل کے ذریعے اس دعوتی سفر کو آگے بڑھانا ہے، یہاں تک کہ حدیثِ رسول کی پیشین گوئی کے مطابق، دینِ حق کا کلمہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل ہو جائے۔ یہی اخوانِ رسول کا رول ہے۔ مستقبل انتظار کر رہا ہے کہ بڑھنے والے آگے بڑھیں اور فرشتوں کے
ریکارڈ میں اخوانِ رسول کی حیثیت سے اپنا اندراج کرائیں۔
ترکی میں مدفون صحابہ خاموش زبان میں آواز دے رہے ہیں کہ اے اہل ترکی، تم دوبارہ اٹھو اور پیغمبر کے دعوتی مشن کو اس کی آخری تکمیل تک پہنچا دو۔ پھر وہ وقت آنے والا ہے جب کہ حشر کے میدان میں دوبارہ آواز دینے والا فرشتہ آواز دے کہ وہ لوگ آئیں جن کی بابت پیغمبر نے پیشگی خبر دی تھی، اور پھر سارے پیدا ہونے والے لوگ رشک کی نظروں سے دیکھیں گے کہ کتنے خوش قسمت تھے وہ لوگ جنھوں نے دعوتی کام کیا جس کے نتیجے میں آج اُن کو اخوانِ رسول کا درجہ مل رہا ہے۔ جدید ترکی کے لیے جو عالمی دعوتی رول مقدر ہے، اس کے لیے آسمان سے کوئی آواز نہیں اس قسم کا رول اجتہادی ہوتا ہے۔ اس لیے وہ ہمیشہ دریافت کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔ دورِ اول میں یثرب (مدینہ) کے لیے ایک عظیم دعوتی رول مقدر تھا، مگر اہل مدینہ کو اس کی خبر نہ تھی۔ پیغمبر اسلام کو بذریعہ وحی اس کی خبر دی گئی۔ چناں چہ آپ نے فرمایا: أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون يثرب، وهي المدينة (صحیح البخاری، رقم الحديث: 1748)۔ ترکی کا عالمی دعوتی رول گہرے غور وفکر کے ذریعے دریافت کرنا ہوگا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، قرائن (circumstances) واضح طور پر اس کا اشارہ کر رہے ہیں۔
یہ قیاس ترکی کی چند متعین خصوصیات کی بنا پر قائم ہوتا ہے۔ یہ خصوصیات بظاہر کسی دوسرے مسلم ملک میں موجود نہیں۔ ان خصوصیات میں سے چند یہ ہیں:
1- ترکی کا جغرافیہ ایک انوکھا جغرافیہ ہے۔ ترکی مسلم دنیا میں وہ واحد ملک ہے جس کو اپنے جائے وقوع کے اعتبار سے مشرق اور مغرب کے درمیان سنگم (junction) کی حیثیت حاصل ہے۔ 2- ترکی مسلم دنیا کا واحد ملک ہے جو مختلف اسباب کی بنا پر سیاحت کے نقشہ (tourist map) میں ٹاپ کا درجہ رکھتا ہے۔ اس طرح ترکی وہ واحد مسلم ملک بن گیا ہے جہاں ساری دنیا کے مدعو خود سفر کر کے داعی کے پاس پہنچ رہے ہیں۔
3- قدیم زمانے میں دعوت کا کام سیاسی انفراسٹرکچر (political infrastructure) کی بنیاد پر ہوا تھا، موجودہ زمانے میں نئی تبدیلیوں کی بنا پر دعوتی کام کے لیے سوشل انفراسٹرکچر (social infrastructure) درکار ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم دنیا میں اس وقت صرف ترکی وہ ملک ہے جہاں یہ مطلوب سوشل انفراسٹرکچر پایا جاتا ہے۔ میں نے اپنے سفر کے دوران اس کو سوشیو ایجوکیشنل انفراسٹرکچر (socio-educational infrastructure) کا نام دیا تھا۔ میں یہ سوشل انفراسٹرکچر جن لوگوں کی کوشش سے قائم ہوا ہے، اُن میں استاد فتح اللہ گولن اور ان کے پیرو ایک امتیازی درجہ رکھتے ہیں۔
4- ترکی کے اس جدید ڈویلپ منٹ میں مصطفیٰ کمال اتاترک کا تائیدی رول ہے۔ فطری طور پر ایک جرأت مند اور با عزم آدمی تھے۔ یہ کمال اتاترک ہی تھے جو ترکی میں ریڈیکل ریفارم (radical reform) لے آئے۔ مثلاً رومن رسم الخط کو ترکی کی زبان کا رسم الخط بنانا، مغربی طرز تعلیم کو ترکی میں رائج کرنا، وغیرہ۔
کمال اتاترک جو تبدیلیاں لائے، اُن کو مخالفِ مذہب (anti-religion) کہنا درست نہ زیادہ صحیح طور پر اتاترک کا مشن مخالفِ جمود (anti-stagnation) مشن تھا۔ ترکی کے سفر میں وہاں کی مشہور نیوز ایجنسی (Anadolia Ajansi) کے نمائندہ کو انٹرویو دیتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ جدید ترکی کا کیس اسلام کو سیکولر بنانا نہیں تھا، بلکہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے، وہ سیکولرزم کو اسلامی بنانا تھا:
The case of modern Turkey was not one of secularization of Islam, but in terms of result, it was Islamization of ترکی میں کمال اتاترک کی ریڈیکل کارروائیوں کے نتیجے میں بہت سی مثبت چیزیں پیدا مثلاً طویل جمود کا ٹوٹنا، لوگوں میں اوپن نیس (openness) کا آنا، جدید تعلیم کا فروغ، مغربی کلچر سے ڈائنا مزم (dynamism) کا آنا، مثبت سیکولر قدروں (positive secular values) کو فروغ،
جدید وسائل کو کسی تحفظ کے بغیر رواج دینا، ترکی زبان کے لیے رومن رسم الخط اختیار کرنے کی بنا پر کمپیوٹر کی تیز رفتار ترقی کا ممکن ہو جانا، عالمی انٹریکشن (global interaction) کا عمومی پھیلاؤ، حقیقت پسندانہ طرز فکر (realistic thinking) کا رواج، علاحدگی پسندی (separatism) کا خاتمہ، ہر شعبے میں جدید کاری (modernization)، وغیرہ۔
مصطفی کمال اتا ترک بظاہر کوئی مذہبی انسان نہیں تھے، وہ صرف ایک سیکولر انسان تھے۔ ترکی میں جو انقلابی تبدیلیاں ان کے ذریعے وجود میں آئیں، وہ باعتبار نتیجہ ایسی تھیں جن سے اسلامی دعوت کے نئے مواقع کھل گئے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ ترکی کی ایک امتیازی خصوصیت ہے جو کسی دوسرے ملک کو حاصل نہیں، وہ یہ کہ ترکی وہ ملک ہے جو دو راول کے پیغمبر حضرت نوح کی کشتی کی آخری منزل بنا۔ جیسا کہ معلوم ہے، تقریباً 5 ہزار سال پہلے حضرت نوح کے زمانے میں ایک بڑا طوفان آیا۔ اُس وقت حضرت نوح اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک کشتی میں سوار ہو گئے۔ یہ کشتی قدیم عراق (میسوپوٹامیا) سے چلی اور ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع کوہ ارارات (Ararat Mountain) کی چوٹی پر ٹھہر گئی۔
اس واقعے کا ذکر بائبل میں اور قرآن میں نیز مختلف تاریخی کتابوں میں بشکلِ کہانی موجود تھا، لیکن کسی کو متعین طور پر معلوم نہ تھا کہ وہ کشتی کہاں ہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں مسلسل برف باری کے دوران یہ کشتی برف کی موٹی تہ (glacier) کے اندر چھپ گئی۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں جگہ جگہ گلیشیر پگھلنے لگے۔ چناں چہ ارارات پہاڑ کے گلیشیر بھی پگھل گئے۔ اس کے بعد کشتی قابل مشاہدہ بن گئی۔
بیسویں صدی کے آخر میں کچھ لوگوں نے ہوائی جہاز میں پرواز کرتے ہوئے پہاڑ کے اوپر اس کشتی کو دیکھا۔ اس طرح کی خبریں برابر آتی رہیں، یہاں تک کہ 2010 میں یہ خبر آئی کہ کچھ ماہرین پہاڑ پر چڑھائی کرکے ارارات کی چوٹی پر پہنچے اور کشتی کا براہِ راست مشاہدہ کیا، پھر انھوں نے کشتی کا
ایک ٹکڑے لے کر اس کی سائنٹفک جانچ کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کشتی کی عمر متعین طور پر چار ہزار آٹھ سو سال ہے، یعنی وہی زمانہ جب کہ طوفانِ نوح آیا تھا:
A group of Chinese and Turkish evangelical explorers قرآن میں کشتی نوح کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ اُن میں سے ایک وہ ہے جو سورہ العنکبوت میں پایا جاتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: فَأَنْجَيْنَهُ وَأَصْحَبَ السَّفِينَةِ، وجعلناہا ايةً للعالمين (29:15) یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچالیا۔ اور ہم نے اس کو سارے عالم کے لیے ایک نشانی بنا دیا: