Then we saved him and those who were with
Al-Risala, November 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت نوح کی کشتی تاریخ انبیا کی قدیم ترین یادگار ہے۔ قرآن کے مذکورہ بیان کے مطابق، اس قدیم ترین یادگار کو محفوظ رکھنا اس لیے تھا، تاکہ وہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے علم میں آئے اور اُن کے لیے دین حق کی ایک تاریخی شہادت بنے۔
مگر یہ سادہ بات نہ تھی، اس عالمی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے بہت سی شرطیں درکار تھیں۔ کے لیے ضروری تھا کہ کشتی کا استوا (11:44) ایک ایسے ملک میں ہو جو اپنے جائے وقوع کے لحاظ سے عالمی رول ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو، کشتی نوح کے ظہور کا واقعہ ایک طے شدہ وقت پر پیش آئے، جب کشتی نوح ظاہر ہو تو عالمی کمیونیکیشن کا دور آچکا ہو، یہ واقعہ جب ظہور میں آئے تو اُس وقت گلوبل سیاحت (global tourism) کا دور بھی آچکا ہو، پرنٹنگ پریس کا زمانہ آچکا ہو، تاکہ خدا کی کتاب (قرآن) کے مطبوعہ نسخے لوگوں کو دینے کے لیے تیار کئے جاسکیں، دنیا کھلے پن (openness) کے دور میں پہنچ
چکی ہو، اسی کے ساتھ دنیا سے کچھ چیزوں خاتمہ ہو چکا ہو۔ مثلاً مذہبی جبر، کٹر پن (rigidity)، علاحدگی پسندی (separatism)، تنگ نظری (narrow-mindedness)، وغیرہ۔
ترکی کے پہاڑ (ارارات) پر کشتی نوح کا موجود ہونا استثنائی طور پر ایک انوکھا واقعہ ہے۔ گلیشیر کا پگھلنا جب اس نوبت کو پہنچے گا، جب کہ پوری کشتی ظاہر ہو جائے اور وہاں تک پہنچنے کے راستے بھی ہموار ہو جائیں تو بلا شبہ یہ اتنا بڑا واقعہ ہوگا کہ ترکی کا نقشہ سیاحت (tourist map) میں نمبر ایک جگہ حاصل کرلے گا۔ ساری دنیا کے لوگ اس قدیم ترین عجوبہ کو دیکھنے کے لیے ترکی میں ٹوٹ پڑیں گے۔ اس طرح اہل ترکی کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے ساری دنیا تک خدا کے پیغام کو یہ وہ وقت ہوگا کہ جب کہ ترکی میں آنے والے سیاحوں کے لیے قرآن سب سے بڑا گفٹ آئٹم (gift item) بن جائے گا جس میں پیشگی طور پر کشتی نوح کی موجودگی کی خبر دے دی گئی تھی۔ کشتی نوح اور ترکی جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت نوح کی کشتی قدیم عراق (میسوپوٹامیا) کے علاقہ سے روانہ وہ اپنے چاروں طرف مختلف مقامات کی طرف جا سکتی تھی، لیکن اس نے ایک خاص رخ پر اپنا پھر وہ چلتی ہوئی ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع ایک پہاڑ کے اوپر ٹھہر گئی۔ یہ سخت سردی کا علاقہ چناں چہ کشتی بھاری اسنوفال (heavy snow fall) کے نتیجے میں برف کے بہت بڑے تودے کے نیچے دب گئی۔ اس طرح لمبی مدت تک فاسلائزیشن (fossilization) کے عمل کے نتیجے میں وہ پتھر جیسی ہوگئی۔ اس طرح کشتی محفوظ رہی اور اکیسویں صدی میں برف پگھلنے کے نتیجے میں وہ ظاہر ہو کر لوگوں کے سامنے آگئی۔
ایسا کیوں ہوا۔ حضرت نوح کی کشتی کے لئے مختلف آپشن (option) موجود تھے، لیکن اس نے صرف ایک ہی آپشن لیا اور وہ ترکی کے پہاڑ کا آپشن تھا۔ ایسا بلا شبہ خدا کی ہدایت پر ہوا۔ اس معاملے کو اتفاقی واقعہ کے طور پر نہیں لے سکتے۔ ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم اس کو خالق کے منصوبے کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں۔
اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو جو رول مطلوب ہے، اس رول کے لئے زیادہ موزوں مقام اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر، ترکی اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ بعد کے زمانے میں ترکی مسلم ملک بنے گا۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ترکی ایک ایسا ملک ہے جو مشرقی دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان جنکشن (junction) کی حیثیت اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ مختلف اسباب سے ترکی میں ساری دنیا کے سیاح کثرت سے آئیں اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ مسلم ملکوں کی لمبی فہرست میں ترکی وہ واحد ملک ہوگا جو مذہبی کٹر پن (religious fanaticism) سے خالی ہوگا اور اس بنا پر وہ سب سے زیادہ موزوں ملک ہوگا جہاں سے کشتی نوح کا مطلوب رول ادا کیا جا سکے۔
یہ مطلوب رول کیا ہے۔ وہ بلاشبہ دعوت ہے، یعنی اللہ کے تخلیقی منصوبہ سے تمام مرد اور عورت باخبر ہو جائیں۔ اس مقصد کے لئے کشتی نوح ایک تاریخی شہادت (historical evidence) کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اُس خدائی منصوبہ کی ایک تاریخی یادگار ہے جس کا ظہور حضرت نوح کے ذریعہ کشتی نوح براہ راست طور پر حضرت نوح کی تاریخ کی مادی شہادت ہے اور بالواسطہ طور پر تمام نبیوں کی تاریخ کی مادی شہادت۔
اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھا کہ قیامت سے پہلے تمام انسانوں کے سامنے اس بات کا محسوس اعلان ہو جائے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا منصوبہ تخلیق کیا تھا۔ کشتی نوح اس خدائی منصوبہ تخلیق (creation plan of God) کی ایک ناقابل انکار شہادت ہے۔ اور مختلف اسباب سے اس شہادت کی ادائیگی کے لئے سب سے زیادہ موزوں مقام ترکی تھا۔
ضرورت ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان عموماً اور ترکی کے مسلمان خصوصاً اس خدائی منصوبے کو سمجھیں اور اس منصوبے کی تکمیل کے لئے وہ سارا اہتمام کریں جو اس کے لئے ضروری ہو۔ طور پر وہ کشتی نوح کے مقام کو ایک اعلیٰ درجہ کے ٹورسٹ اسپاٹ (Tourist Spot) کے طور پر ڈولپ (develop) کریں۔ وہاں آمد و رفت کی تمام سہولتیں مہیا کریں۔ پھر وہاں اعلیٰ معیار پر یہ
انتظام کریں کہ وہاں تربیت یافتہ افراد موجود ہوں، لائبریری موجود ہو۔ وہاں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں برائے ڈسٹری بیوشن یا برائے فروخت موجود ہو۔ وہاں اس بات کا اعلیٰ انتظام کیا جائے کہ کشتی نوح کے حوالے سے پیغمبرانہ مشن لوگوں کے سامنے اطمینان بخش صورت میں آسکے۔ کشتی نوح کے ظہور کا یہ مقام صرف ایک کشتی کے ظہور کا مقام نہ رہے، بلکہ وہ پورے معنوں میں جدید ترین معیار کا ایک دعوتی سنٹر بن جائے۔
خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، ہماری زمین کے لئے دو سیلاب مقدر تھا—ایک، حضرت نوح کے زمانے کا سیلاب اور دوسرا، وہ جو تاریخِ بشری کے خاتمے پر پیش آئے گا۔ کشتی نوح پہلے سیلاب کے لئے تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے، اور دوسرے سیلاب کے لئے اس کی حیثیت تاریخی ریمائنڈر (historical reminder) کی ہے۔ اکیسویں صدی عیسوی کے ربع اول میں کشتی نوح کا ظہور گویا اس بات کی وارننگ ہے کہ لوگو، تیاری کرو، کیوں کہ آخری طوفان کا وقت قریب آ گیا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس خدائی منصوبے کو سمجھیں اور اس کی تکمیل کر کے اللہ کے یہاں اجرِ عظیم کے مستحق بنیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں سال تک برف کے تودے میں دبے رہنے کے بعد کشتی نوح کا ظاہر ہونا صورِ اسرافیل سے پہلے کے دور کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ اس کے بعد اگلا واقعہ صرف صورِ اسرافیل ہوگا جو گویا اس بات کا آخری اعلان ہوگا کہ عمل کرنے کا وقت ختم ہو چکا اور عمل کا انجام پانے کا دور آگیا۔