ترکی کا انتخاب
Al-Risala, November 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلی عالمی جنگ (1918-1914) دو گروپ کے درمیان ہوئی تھی — ایک اتحادی طاقت (Allied Powers) کہا جاتا تھا، اور دوسرے کو محوری طاقت (Axis Powers) کہا جاتا تھا۔ اُس وقت ترکی کے سامنے یہ سوال تھا کہ وہ دونوں گروپ میں سے کس گروپ کا ساتھ دے۔ مولانا محمد علی جوہر (وفات : 1931) نے اپنے انگریزی ہفتہ وار کامریڈ (Comrade) میں ایک طویل مضمون شائع کیا تھا۔ اس مضمون میں انھوں نے ترکوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ ترکوں کا انتخاب
(choice) محوری گروپ ہونا چاہیے- آخر کار ترکی نے پہلی عالمی جنگ میں اے۔ نے داخلی حالات کے (choice) خوری گروپ ہونا چاہیے۔ آخر کار رسی نے پہلی عالمی جنگ میں اپنے دائمی حالات کے تحت محوری گروپ کا ساتھ دیا، لیکن اس جنگ میں محوری گروپ کو شکست ہوئی جس کی قیادت اُس وقت جرمنی کر رہا تھا۔ اس کے نتیجے میں ترکی کو شدید سیاسی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ اب اکیسویں صدی میں وہ وقت آ گیا ہے کہ ترکی کو ایک اور انتخاب (choice) کا مشورہ دیا یہ انتخاب دعوت الی اللہ کا انتخاب ہے۔ یہ انتخاب کسی ایک گروپ کی حمایت اور کسی دوسرے گروپ کی مخالفت کا انتخاب نہیں ہے، وہ ساری انسانیت کو اپنا نشانہ بنانے کا کام ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام ساری انسانیت کو اپنا انتخاب بنانا ہے، نہ کہ کسی ایک محدود گروہ کو۔ مزید یہ کہ دعوت الی اللہ کا انتخاب ایک غیر سیاسی مشن کا انتخاب ہے۔ اس انتخاب میں نہ شکست کا سوال ہے اور نہ نا کامی کا سوال۔ یہ انتخاب کسی گروہ کی عداوت پر مبنی نہیں ہے، بلکہ وہ پوری انسانیت کی خیر خواہی پر مبنی ہے۔ اس کے آغاز میں بھی کامیابی ہے، اور اس کے انجام میں بھی کامیابی۔ دعوتی مقصد کے لیے مشرقی یوپی، خاص طور پر لکھنؤ اور اطراف کے قارئین، حسب ذیل پتے پر رابطہ قائم کریں:
الرسالہ مشن کا مقصد مثبت سوچ اور خدا رخی زندگی کی تعمیر ہے۔ الرسالہ مشن کے ذریعے آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی واقع ہوئی، ہم آپ کی زبان میں اس کو مرتب کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے آپ کو دعوت دی جاتی ہے کہ آپ اس سلسلے میں اپنے تجربات اور واقعات اردو یا انگریزی میں، نام و پتہ ... کی مکمل تفصیل کے ساتھ، واضح اور متعین انداز میں لکھ کر روانہ فرمائیں: