Al-Risala · December 2012

بائبل کی ایک پیشین گوئی

Al-Risala, December 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

بائبل (پرانا عہد نامہ) میں ایک اسرائیلی نبی حبقوق کی زبان سے مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی درج ہے۔ حبقوق، یہود کی جلاوطنی (605 ق م) کے دور سے پہلے آئے۔ پیشین گوئی کے الفاظ یہ ہیں ؀ اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں ۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے۔ اُس کی راہیں ازلی ہیں:

He stood and measured the earth. He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills bowed. His ways are everlasting. (Habakkuk 3: 6)

بائبل کی اس پیشین گوئی میں یہ بتایا گیا ہے کہ بعد کے دور میں ایک عظیم انقلاب پیش آئے اس انقلاب کا قائد ایک شخص ہوگا۔ مگر بائبل کے شارحین یہ نہ بتا سکے کہ اس عظیم انقلاب سے مراد کون سا واقعہ ہے۔

لیکن بعد کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس سے مراد وہی انقلاب ہے جو بعد کو پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ کوئی بھی دوسرا واقعہ ایسا نہیں جو حقیقی طور پر اس طور پر اس پیشین گوئی کا مصداق بن سکے۔

حبقوق نبی نے جس وقت یہ پیشین گوئی کی، اُس وقت ایشیا اور افریقہ کے علاقے میں دو بڑی سلطنتیں (empires) قائم تھیں ؀ بازنتینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر ۔ یہ دونوں سلطنتیں قدیم طرز کی جابرانہ بادشاہت کی سب سے بڑی نمائندہ تھیں۔ لمبی مدت کے نتیجے میں وہ بہت زیادہ مستحکم ہو چکی تھیں۔ ان سلطنتوں نے آزادی اور ترقی کا دروازہ انسان کے اوپر بند کر رکھا تھا۔ یہی وہ سلطنتیں تھیں جن کو بائبل میں "ازلی پہاڑ" کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے

ان سیاسی پہاڑوں کو توڑ دیا اور اس طرح دنیا میں آزادی اور ترقی کا دور آیا، وہ دراصل اُسی انقلابی عمل کا نقطہ انتہا (culmination) تھا جو ساتویں صدی عیسوی اور آٹھویں صدی عیسوی میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تحت برپا ہوا تھا— یہی وہ انقلابی واقعہ ہے جس کو بائبل میں حبقوق نبی نے تمثیل کی زبان میں بیان کیا تھا۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انقلابی رول اتنا زیادہ واضح ہے کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے لفظوں میں اس کا اعتراف کیا ہے۔ اس کی ایک مثال امریکی مورخ چارلس (Charles Issawi) ہیں، جن کی وفات 2000 میں ہوئی۔

مولانا عبد الماجد دریا بادی (وفات: 1977) نے اپنی انگریزی تفسیر قرآن میں سورہ الانشراح کی تفسیر کے تحت اس سلسلے میں چارلس اساوی کا ایک قول اس طرح نقل کیا ہے کہ— یہ کہنا کوئی مبالغہ کی بات نہیں کہ اگر کسی ایک شخص نے تاریخ کے کورس کو بدلا ہے، تو وہ انسان محمد تھے: It does not seem too much to say that if any one man changed the course of history that man was Muhammad. (The Muslim World, Hartford, April 1950, p. 95)

یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا طویل زمانہ بادشاہت (kingship) کا زمانہ تھا۔ اس بادشاہت کے تحت ساری دنیا میں جبری نظام قائم تھا۔ آزادانہ سوچ اور آزادانہ تحقیق کا اختیار حاصل نہ تھا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ہزاروں سال سے علمی ترقی کا دروازہ انسان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔ ہر قسم کی ترقی آزادانہ سوچ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، اور قدیم بادشاہی نظام میں یہ آزادانہ سوچ سرے سے موجود نہ تھی۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی قربانیوں کے نتیجے میں قدیم بادشاہت کے تحت قائم شدہ جبری نظام ختم ہوا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ دنیا میں آزادی آئے اور انسانی قافلہ ترقیات کے دور میں پہنچے۔

Printed page