Al-Risala · December 2012

دورِ فتنہ کی واپسی

Al-Risala, December 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

عبداللہ بن زبیر (وفات: 73 ہجری) کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان آپس میں جنگ اُس زمانے میں مشہور صحابی عبداللہ بن عمر (وفات: 73 ہجری) موجود تھے، لیکن انھوں نے اس جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اُس زمانے کا ایک واقعہ کتابوں میں اس طرح آیا ہے: سعید بن جبیر تابعی کہتے ہیں کہ ایک دن عبداللہ بن عمر ہمارے پاس آئے۔ ایک آدمی نے اُن سے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے فتنہ کے خلاف جنگ کے معاملے میں۔ عبداللہ بن عمر نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے جنگ کرتے تھے، اور مشرکوں کے یہاں جانا فتنہ تھا، نہ کہ تمھاری طرح اقتدار کے لیے جنگ کرنا (صحیح البخاري، رقم الحديث: 4651)

ایک اور روایت میں اس طرح کے الفاظ آئے ہیں: نافع تابعی کہتے ہیں کہ فتنہ ابن زبیر کے زمانے میں دو آدمی عبداللہ بن عمر کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور آپ عمر بن الخطاب کے بیٹے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ آپ کو کیا چیز اس سے روک رہی ہے کہ آپ نکلیں اور اس جنگ میں شریک ہوں۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ نے میرے بھائی کا خون میرے لیے حرام قرار دیا ہے۔ پھر اُن آدمیوں نے کہا: کیا اللہ نے قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة (8:39) یعنی اُن سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ اس کے بعد عبداللہ بن عمر نے کہا: قاتلنا حتى لم تكن فتنة، و كان الدين لله ۔ تريدون أن تقاتلوا حتى تكون فتنة، ويكون الدين لغير الله (ہم نے جنگ کی، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا اور دین، اللہ کے لیے ہو گیا۔ اور تم لوگ چاہتے ہو کہ تم جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ لوٹ آئے اور دین دوبارہ غیر اللہ کے لیے ہو جائے) - صحيح البخاري، رقم الحديث: 4513 نافع تابعی کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمر کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ خدا نے اپنی کتاب میں یہ کہا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو تم اُن کے

درمیان صلح کراؤ (49:9)۔ آپ کو اس سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ وہ جنگ کریں جس کا حکم اللہ نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ تم مجھ کو اس آیت سے غیرت دلاتے ہو کہ مجھ کو لڑنا چاہئے، مگر مجھ کو یہ زیادہ محبوب ہے کہ تم مجھ کو اس آیت سے غیرت دلاؤ جس میں اللہ نے فرمایا کہ جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا (493)۔ اس آدمی نے کہا کہ اللہ نے تو کہا ہے کہ تم اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ وہ تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کر چکے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب کہ اسلام قلیل تھا، چناں چہ آدمی اپنے دین کی وجہ سے ستایا جاتا تھا۔ لوگ یا تو اہل دین کو قتل کر دیتے تھے یا وہ اس پر زیادتی کرتے تھے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا اور فتنہ باقی نہ رہا (صحیح البخاري، رقم الحديث : 4650) اس روایت میں ”وكان الدخول عليهم فتنة“ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی مشرکین کے یہاں جانا ایک فتنہ تھا۔ یہ جانے والے کون لوگ ہوتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہوتے تھے جو موحد اور داعی تھے۔ جب وہ مشرکین کے یہاں موحد کی حیثیت سے اور توحید کے داعی کی حیثیت سے جاتے تو مشرکین اُن کو طرح طرح سے ستاتے تھے، کیوں کہ توحید کا عقیدہ مشرکین کے عقیدہ شرک کے خلاف تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اُس زمانے میں مذہب ، سیاسی اقتدار کا ایک حصہ بنا ہوا تھا۔ اسی واقعے کو ایک قدیم مقولے میں اس طرح کہا گیا ہے: الناس علی دین ملوکھم (لوگ اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتے ہیں)۔

قدیم زمانے میں مذہب ، ریاست (state) سے وفاداری کی علامت بن گیا تھا۔ بادشاہ کے مذہب پر ہو، وہ ریاست کا وفادار سمجھا جاتا تھا، اور جو آدمی ریاست کے مذہب پر نہ ہو، وہ ریاست کا باغی قرار پاتا تھا۔ شرک اور اقتدار کے اس تعلق کی بنا پر قدیم زمانے میں وہ چیز پیدا ہوئی جس کو قرآن میں فتنہ کہا گیا ہے، یعنی مذہبی جبر (religious persecution)۔ یہ فتنہ یا مذہبی جبر خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا۔ خدا کی منشا یہ ہے کہ لوگوں کو مذہب کے معاملے میں آزادیِ اختیار (freedom of choice) حاصل ہو، تاکہ اُس کے مطابق ، آخرت میں اُن کے مثبت یا منفی مستقبل کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس بنا پر اللہ تعالی نے رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیا کہ اہلِ شرک اگر پر امن نصیحت

کے ذریعے مذہبی جبر کے اس کلچر کو ختم کرنے پر راضی نہ ہوں تو تم جنگ کر کے اس کلچر کو ختم کر دو، تا کہ انسان کو اختیار کی آزادی حاصل ہو جائے، جو کہ منصوبہ تخلیق کے مطابق، لازمی طور پر مطلوب ہے۔ قرآن کے الفاظ (8:39) پر غور کیا جائے تو یہ حکم صرف استیصال فتنہ کے لیے تھا، وہ کسی قسم کے نظام (system) کی اقامت یا نفاذ کے لیے نہ تھا، یعنی یہ حکم سلبی معنوں میں تھا، نہ کہ ایجابی معنوں میں۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ مذہبی آزادی کی راہ میں جو رکاوٹ حائل ہے، وہ ختم ہو جائے۔ اس کے بعد یہ آدمی کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو خدا کی اطاعت کے لیے استعمال کرتا ہے، یا خدا سے انحراف کے لیے۔ فتنہ ابن زبیر میں شریک ہونے والوں سے عبداللہ بن عمر نے کہا تھا کہ: قاتلنا حتى لم تكن فتنة، وكان الدين لله - وأنتم تريدون أن تقاتلوا حتى تكون فتنة، ويكون الدين لغير اس کا مطلب، دوسرے لفظوں میں، یہ ہے کہ قرآن میں جنگ کا حکم صرف ایک مقصد کے لیے دیا گیا تھا اور وہ تھا مذہبی تعذیب (religious persecution) کو ختم کرنے کے لیے، اور اصحابِ رسول نے جنگ کر کے اس کو ختم کر دیا۔ اب تم لوگ قرآن کی اس آیت کے نام پر اقتدار کی جنگ کر رہے ہو، جس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ دنیا میں مذہبی تعذیب کی جگہ سیاسی تعذیب (political persecution) کا دور یہ اصلاح کے نام پر صرف فساد ہے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔

عبداللہ بن عمر کے اس قول کو ایک حدیث کی روشنی میں سمجھیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو انتباہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: إذا وضع السيف في أمتي، لم يرفع عنها إلى يوم القيامة (الترمذي، رقم الحديث: (2202) یعنی جب میری امت میں تلوار داخل ہو جائے گی تو وہ اُس سے قیامت تک نہ اٹھائی جائے گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول پیشین گوئی کی زبان میں اُس صورتِ حال کی خبر ہے جو بعد کے زمانے میں امت کے اندر بہت بڑے پیمانے پر ایک واقعہ بن گئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے تقریباً 25 سال بعد مسلمانوں کے درمیان ’اصلاحِ سیاست‘ کے نام پر باہمی جنگ کا آغاز اس کو قدیم اصلاح کے مطابق ’’خروج‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ سیاسی جنگ

ایک بار شروع ہونے کے بعد دوبارہ کبھی ختم نہ ہوئی ۔ ہزار سال سے بھی زیادہ مدت سے یہ جنگ امت مسلمہ کے اندر جاری ہے، کبھی ایک صورت میں اور کبھی دوسری صورت میں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان مذہب کے نام پر سیاست شروع یہ طریقہ بلاشبہ اسلام کی اصل تعلیمات سے انحراف تھا۔ اگر اس طریقے کو اسلام کا مطلوب طریقہ قرار دیا جائے تو کوئی کہنے والا جائز طور پر یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلام نے مذہبی تعذیب کو ختم نہیں کیا، بلکہ اسلام نے مذہبی تعذیب کی جگہ سیاسی تعذیب کا طریقہ رائج کر دیا۔ اس طرح یہ ہوا کہ مذہبی تعذیب کا دور ختم ہو گیا، لیکن اس کی جگہ شدید تر انداز میں سیاسی تعذیب کا دور انسانی تاریخ میں یہ دوسرا دور اب تک جاری ہے۔ اس پورے دور کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ الفاظ (إذا وضع السيف في أمتي الخ) لفظ بلفظ درست ثابت ہوئے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ قدیم مذہبی تعذیب صرف جبر کے زور پر قائم تھی، اُس کی پشت پر کوئی فلسفہ یا نظریہ موجود نہ تھا، اس لیے اُس کو ختم کرنا آسان تھا، مگر بعد کے زمانے میں سیاسی تعذیب کا جو طریقہ رائج ہوا، اس کے ساتھ ایک مبّرّر (justification) موجود تھا۔ اُس کو اسلامی طور پر جائز کردہ تعذیب(Islamically justified persecution) کہا جاسکتا ہے۔ بعد کے دور میں پیدا ہونے والے تشدد کا یہی وہ نظریاتی پہلو ہے جس کی بنا پر اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ شروع ہونے کے بعد وہ پھر کبھی ختم نہ ہو سکا۔ اس معاملے میں اہم بات یہ ہے کہ قدیم طرز کا فتنہ صرف سیاسی جبر کا ایک فتنہ تھا، اُس کو جنگ کے ذریعے ختم کیا جا سکتا تھا، لیکن بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والا فتنہ ایک نظریاتی فتنہ ہے، اس کو جنگ کے ذریعے ختم کرنا ممکن نہیں۔ اُس کو ختم کرنے کے لیے ایک طاقت ور جوابی نظریہ (counter ideology) درکار ہے۔ کوئی بھی دوسری تدبیر اس دوسرے فتنے کو ختم کرنے کے لیے موثر (effective) نہیں ہو سکتی۔

Printed page