Al-Risala · December 2012

بچوں کی تربیت

Al-Risala, December 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مغربی ملک میں مقیم ایک مسلم خاندان نے اس کا اظہار کیا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے کچھ دنوں کے لیے آکر ہمارے یہاں ٹھہریں اور ہم سے اسلامی تربیت حاصل کریں۔ میں نے اس تجویز کو رد کر دیا۔ میرے نزدیک یہ تربیت کا ایک مصنوعی طریقہ ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی نتیجہ خیز کام صرف فطری طریقے کے مطابق انجام پاتا ہے۔ غیر فطری طریقہ کسی بھی کام کے لیے ہرگز مفید نہیں۔ اس سلسلے میں مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ اپریل 1981 میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے تحت میں بار بیڈوز (Barbados) گیا تھا۔ اس سلسلے میں وہاں کے مقیم مسلمانوں نے ایک مسجد میں میرا پروگرام رکھا۔ ایک صاحب اپنے ایک بچے کو اپنے ساتھ لے کر وہاں آئے۔ یہ بچہ جو تقریباً 12 سال کا تھا، وہ اصل اجتماع کے باہر ایک مقام پر اس طرح بیٹھا کہ اس کی پیٹھ میری طرف تھی اور اس کا چہرہ دوسری طرف۔ ایک شخص نے اُس سے کہا کہ تم اس طرح کیوں بیٹھے ہو، اندر چل کر لوگوں کے ساتھ بیٹھو۔ لڑکے نے نہایت بے پروائی کے ساتھ جواب دیا— می ناٹ (me not) یعنی مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ یہ واقعہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم خاندانوں کے لیے ایک علامتی واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج کل کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ محنت کر کے کماتے ہیں اور پھر محبت کے نام پر اپنی کمائی کا بڑا حصہ بچوں پر خرچ کرتے ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ محبت نہیں ہے، بلکہ وہ لاڈ پیار اور یہ ایک واقعہ ہے کہ بچوں کو بگاڑنے کا سب سے بڑا سبب یہی لاڈ پیار ہے۔ کسی بچے کا ابتدائی تقریباً 10 سال وہ ہے جس کو، نفسیاتی اصطلاح میں، تشکیلی دور (formative period) کہا جاتا ہے۔ یہ تشکیلی دور بے حد اہم ہے، کیوں کہ اس تشکیلی دور میں کسی کے اندر جو شخصیت بنتی ہے، وہ بے حد اہم ہے۔ یہی شخصیت بعد کی پوری عمر میں باقی رہتی ہے۔ حقیقت کو ایک عربی مقولے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : من شَبَّ علی شیئ شاب علیہ (آدمی جس چیز پر جوان ہوتا ہے، اُسی پر وہ بوڑھا ہوتا ہے)۔

لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تشکیلی دور (formative period) میں نام نہاد محبت کے ذریعے بچوں کو بگاڑ دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آج کل کے تمام والدین اپنے بچوں کو می ناٹ بچے (me not children) بنا دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کسی کرشمہ ساز تربیتی طریقے (charismatic method of training) کے ذریعے اصلاح یافتہ بن جائیں۔

میرے تجربے کے مطابق، اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے والدین اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں سنجیدہ نہیں۔ اس معاملے میں اگر کوئی باپ زیادہ سے زیادہ سوچ پاتا ہے تو وہ صرف یہ کہ وہ اپنے بیٹے کو گول ٹوپی اور اپنی بیٹی کو اسکارف پہنا دے اور پھر خوش ہو کہ اُس نے اپنی اولاد کو اسلامی تربیت سے مزین کر دیا ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں سنجیدہ ہو تو اس کے لیے میں چند عملی مشورے یہاں درج کروں گا۔

1- محبت کے نام پر لاڈ پیار (pampering) کو وہ اس طرح چھوڑ دیں جیسے وہ کسی حرام کو محبت کے نام پر جو لاڈ پیار کیا جاتا ہے، اُس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ بچے کو زندگی کے حقائق (realities) سے بالکل بے خبر کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کے اندر حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (realistic approach) نشوونما نہیں پاتا۔ مزید یہ کہ اس کے نتیجے میں بچے کے اندر ایک خود پسند شخصیت (self-centered personality) تشکیل پاتی ہے، جو کسی آدمی کے لیے کامیاب زندگی کی تعمیر میں بلاشبہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

2- اِس سلسلے میں یہ بات بہت زیادہ قابلِ لحاظ ہے کہ بچے کی عمر کا ابتدائی تشکیلی دور ماں باپ کے ساتھ گزرتا ہے۔ اس دور میں بچے کے اندر جو شخصیت بنتی ہے، وہ ہمیشہ بدستور اس کے اندر باقی رہتی والدین کو جاننا چاہیے کہ اس ابتدائی تشکیلی دور میں اگر انھوں نے بچے کی تربیت میں غلطی کی تو بعد کے زمانے میں اس کی تلافی کبھی نہ ہو سکے گی۔ بعد کے زمانے میں ایسے کسی شخص کی اصلاح کی صرف ایک ممکن صورت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ اس کو شدید نوعیت کا کوئی ہلا دینے والا تجربہ (shocking experience) پیش آئے جو اس کے لیے ایک نقطہ انقلاب (turning point) بن جائے، مگر بہت کم لوگوں کو اس

قسم کا ہلا دینے والا تجربہ پیش آتا ہے، اور ایسا ہلا دینے والا تجربہ مزید نادر (rare) ہے، جب کہ وہ آدمی کے لیے مثبت انقلاب کا سبب بن جائے۔

3- اپنے تجربے کی روشنی میں ایسے والدین کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ہمارے یہاں کا مطبوعہ لٹریچر اہتمام کے ساتھ پڑھوائیں، صرف ایک بار نہیں، بلکہ بار بار۔ اسی کے ساتھ وہ کوشش کریں کہ اُن کے بچے ہمارے یہاں کے تیار شدہ آڈیو کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ دیکھیں اور سنیں۔ کہ دہلی میں ہونے والا ہمارا ہفتے وار لکچر کا پروگرام پابندی کے ساتھ سنیں جو کہ ہر سنڈے کی صبح کو انڈین ٹائم کے اعتبار سے ساڑھے دس بجے شروع ہوتا ہے اور ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔ 4- یہ لازمی نوعیت کا ابتدائی پروگرام ہے۔ جو والدین اپنے بچوں کی اصلاح و تربیت کے خواہشمند ہوں، اُن کو لازماً اسے اختیار کرنا چاہئے۔ اگر وہ اس کو اختیار نہ کریں تو کوئی بھی جادوئی تدبیر بچوں کی اصلاح کے لیے کارآمد نہیں ہو سکتی۔

مولانا وحید الدین خاں کے ہفتے وار ویڈیو لکچرز کے لیے ملاحظہ ہو:

Printed page