Sir, this is a spiritual gift for you.
Al-Risala, February 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
26 جون 2011 کو نیو یارک سے فلیڈ یلفیا جاتے ہوئے ہم لوگ بیٹری ٹنل (Battery Tunnel) سے گزرے۔ یہ ٹنل تقریباً ڈیڑھ میل لمبی ہے۔ وہ بروکلین اور منہٹن کو جوڑتی ہے اور سمندر کے نیچے بنائی گئی ہے۔ اسی طرح ہم لوگ ایک اور ٹنل سے گزرے۔ اس کا نام ہے — یہ ہیڈسن ندی کے نیچے بنائی گئی ہے۔ یہ ٹنل منہٹن سے نیوجرسی کو ملاتی ہے۔ دور جدید میں انسان کو جو نئی چیزیں حاصل ہوئی ہیں، اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سمندر کے نیچے ٹنل کی صورت میں سڑکیں بنانا۔ اس قسم کے زیر سمندر راستے کئی جگہ بنائے گئے ہیں۔ مثلاً، بحرین اور سعودی عرب کے درمیان ، اور برطانیہ اور فرانس کے درمیان ، سویڈن اور ڈنمارک کے درمیان ، وغیرہ۔ قدیم زمانے میں اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا، مگر جدید ٹیکنالوجی نے اس کو ممکن بنا دیا ہے۔ امریکا کے سفر میں ایک شادی شدہ خاتون سے ملاقات ہوئی۔ اُن کے ساتھ دو چھوٹے بچے معلوم ہوا کہ یہ خاتون اپنے شوہر سے اختلاف کر کے اپنے بچوں کے ساتھ الگ ایک چھوٹے مکان میں رہتی ہیں۔ میں نے کہا کہ آج کل کے زمانے میں ایک عجیب چیز یہ ہو رہی ہے کہ شوہر کو اپنے بچوں سے محبت ہے، لیکن اس کو اپنی بیوی سے نفرت ہے۔ اسی طرح بیوی کو اپنے بچوں سے محبت ہے، اور اپنے شوہر سے نفرت۔ یہ تضاد کی بات ہے۔ اور فطرت کے قانون کے مطابق ، اس قسم کی متضاد سوچ (contradictory thinking) اور ذہنی ارتقا دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ میں نے کہا کہ آج کل یہ حال ہے کہ شوہر اور بیوی کے لیے اُن کا بچہ عملاً لٹل گاڈ (little god) ہوتا ہے۔ شوہر یا جس بیوی کے ذریعے یہ بچہ پیدا ہوا، اُس سے دونوں کو دوری ہوتی ہے۔ 26 جون 2011 کی شام کو دوبارہ ہم لوگ بن سلیم (Bensalem) واپس پہنچے، جہاں
خواجہ کلیم الدین صاحب کا مکان ہے۔ بن سلیم فلیڈ یلفیا کا ایک گاؤں ہے جس کو یہاں کی زبان میں کنٹری سائیڈ (countryside) کہا جاتا ہے۔ انڈیا میں گاؤں کا تصور ایک پس ماندہ بستی کا ہوتا ہے، لیکن امریکا میں گاؤں اتنے ہی زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں جتنا کہ شہر ۔ یہاں کے گاؤں کا انفراسٹرکچر اتنا ہی اچھا ہوتا ہے جتنا کہ شہر کا انفراسٹرکچر۔ مزید یہ کہ یہاں گرینری (greenery) بہت زیادہ ہوتی اس لیے اکثر لوگ رہائش کے لیے شہر کے مقابلے میں، گاؤں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ 27 جون 2011 کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد ساتھیوں کی کلاس ہوئی۔ اس میں میں نے کچھ تربیتی باتیں کہیں۔ میں نے ایک بات یہ کہی کہ عام طور پر لوگ چیزوں کو فیس ویلو (face value) پر وہ چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ نہیں سمجھ پاتے۔ مثلاً اس سفر میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی، جو باہر سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔ جدید اصطلاح میں ایسے لوگوں کو امیگرنٹ (immigrant) کہا جاتا ہے۔ یہ امیگرنٹ لوگ زیادہ تر تعلیم یافتہ تھے۔ یہاں آکر وہ یہاں کے مختلف ترقیاتی شعبوں میں سروس کرنے لگے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکا کو امریکیوں نے ترقی نہیں دی ہے، بلکہ امیگرنٹ لوگوں نے ترقی دی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات اگر یہ بات صحیح ہے تو یہ امیگرنٹ لوگ خود اپنے ملک کو کیوں ترقی نہ دے سکے۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ امریکا میں میرٹ (merit) کا اصول ہے۔ یہ اصول لوگوں کے اندر عمل کا محرک (incentive) پیدا کرتا ہے۔ لوگ زیادہ سے زیادہ کام کرتے ہیں، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ رٹرن ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ امریکا کو مسٹر امیگرنٹ (Mr Immigrant) نے ترقی نہیں دی، بلکہ امریکا کو مسٹر انسینٹیو (Mr Incentive) نے ترقی دی۔ امریکا کے سفر میں کئی امریکی مسلمانوں سے 9/11 (2001) کے سانحے کے موضوع پر بات ہر ایک نے خود ساختہ انداز میں اس کی تاویل کی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کا یہ طریقہ دیانت داری (honesty) کے خلاف ہے۔ جب آپ امریکا میں رہتے ہیں اور آپ نے یہاں کی شہریت کے فارم پر اُس کی شرطوں کو قبول کرکے اْس پر دستخط کیا ہے تو اب آپ کو پورے معنوں میں
محب وطن ہونا چاہیے ۔ اور حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ آپ 9/11 کے معاملے میں آفیشیل ورژن (official version) کو قبول کریں۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ آپ تضاد اور کنفیوژن سے بچ جائیں گے اور پھر آپ کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل بلا روک جاری رہے گا۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ امریکا کو موجودہ زمانے میں عالمی قیادت کا درجہ مل گیا ہے۔ یہ جدید انڈسٹری اور جدید کمیونکیشن کی بنا پر ممکن ہوا ہے۔ اکثر مسلمان اس پہلو سے امریکا کے بارے میں منفی خیال رکھتے ہیں۔ وہ طنز کے انداز میں کہتے ہیں کہ امریکا دنیا کا چودھری بننا مسلمانوں کے اندرداعیانہ ذہن ہوتا تو وہ کہتے کہ امریکا کی عالمی قیادت ہمارے لیے ایک سنہراموقع (golden opportunity) ہے۔ اس کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ امریکا نے عالمی دعوتی سیٹ کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ اس لیے ہمارے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ہم امریکا کے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے عالمی سطح پر دعوت الی اللہ کا کام کر سکیں۔
ایک صاحب نے کہا کہ امریکا مسلم ملکوں کے معاملات میں دخل کیوں دیتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس مداخلت کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اسی وجہ سے آپ لوگوں کو یہ موقع ملا کہ آپ اور آپ کی فیملی امریکا میں آکر سٹل (settle) ہوں اور عزت کے ساتھ یہاں رہ سکیں۔
27 جون 2011 کو خواجہ کلیم الدین صاحب کے یہاں تقریباً 800 بنڈل شپ مینٹ کے یہ قرآن کے انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر کے بنڈل تھے جو انھوں نے انڈیا سے جہاز سے اترنے کے بعد ایک بہت بڑے ٹرک میں یہ سامان آیا۔ صرف ایک ڈرائیور اس ٹرک کو لے کر آیا۔ یہ امریکی ڈرائیور تھا اسی نے ڈرائیو کیا۔ اُس نے سارا سامان ٹرک سے نکال کر گھر میں رکھا۔ اس میں تقریبا چار گھنٹے لگے۔ سامان اتارتے وقت ٹرک میں کچھ پرابلم آگئی تھی۔ نے صرف دو لفظ کہا— tough one۔ اس کے بعد وہ اس کو ٹھیک کرنے میں مشغول ہو گیا۔ 27 جون 2011 کی دو پہر کو ہم لوگ واشنگٹن ڈی سی گئے۔ وہاں ہم لوگوں نے وائٹ ہاؤس (White House) اور دوسری عمارتوں کو دیکھا۔ واشنگٹن ڈی سی میں لوگوں کے پاس بہت زیادہ
یہاں کی سڑکوں پر مجھے بظاہر ایسا محسوس ہوا جیسے واشنگٹن ڈی سی دو ٹھہری ہوئی چیزوں کا نام ہے۔ سڑک کے دونوں طرف ٹھہری ہوئی عمارتیں، اور سڑک کے اوپر ٹھہری ہوئی گاڑیاں۔ واشنگٹن امریکا کا دار السلطنت ہے جو ریاست کو لمبیا میں واقع ہے۔
امریکا کے مختلف شہروں میں میری ملاقات ہندو اور مسلمان دونوں فرقوں کے لوگوں سے ہوئی۔ میں نے پایا کہ دونوں ایک ہی خدشہ (fear) میں مبتلا ہیں، وہ یہ کہ میرے بعد میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کچھ لوگوں سے کہا کہ یہ بات آپ کو امریکا آنے سے پہلے سوچنا چاہیے اب جب کہ آپ اپنے بچوں کے ساتھ امریکا میں سیٹل ہو چکے ہیں، یہ سوچ بعد از وقت ہے۔ اب تو بہر حال آپ کو اس کی قیمت دینی پڑے گی۔ اس قسم کی سوچ حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔
ہرنڈن (واشنگٹن) میں مزعرشیہ کے مکان پر ہم لوگ ٹھہرے ۔ یہاں دوپہر کا کھانا کھایا۔ نماز کے بعد ایک مختصر نشست ہوئی۔ میں نے کہا کہ اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کئی بار ہماری نمازڑٹین (routine) کی نماز ہوتی ہے۔ ایسی نماز کا کیا فائدہ۔ میں نے کہا کہ ریٹن کی نماز میں بھی بڑا فائدہ ہے۔ جب آپ کیفیت والی نماز پڑھیں تو آپ نے شعور کی سطح پر خدا کو یاد کیا۔ اور اگر آپ نے ریٹن کی نماز پڑھی تو اس کا بھی فائدہ ہے۔ اس طرح نفسیاتی سطح پر آپ کو یہ اطمینان حاصل ہو جاتا ہے کہ خدا کی دنیا میں آپ خدا کے باغی نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ نماز کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک رمانئڈر شعوری نماز پر کیفیت رمانئڈر ہے، اور ریٹین والی نماز فارمل رمانئڈر۔ ایک نو جوان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ بہت حوصلہ مند (ambitious) تھے۔ اُن سے میں نے پوچھا کہ آپ شادی شدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کی شادی ارینج میرج تھی یا لو میرج۔ انھوں نے کہا کہ لو میرج۔ پھر میں نے کہا کہ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ شادی سے پہلے آپ کی بیوی آپ کو ایک اسپیشل خاتون دکھائی دیتی تھیں اور شادی کے بعد وہ آپ کو ایک عام خاتون دکھائی انھوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے کہا کہ یہ ایک واقعہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بہت بڑا سبق دیا ہے ۔ اس تجربے کو آپ جنرلائز کیجئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر چیز جس کو
اچھا سمجھ کر آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اُن سب کا حال یہی ہے۔ وہ چیز آپ کو پرکشش دکھائی دیتی ہے، مگر پانے کے بعد وہ سرتا سر بے کشش ہو جاتی ہے۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ دنیا کی چیزوں کو اپنا گول بنانے کے بجائے آپ آخرت کی چیزوں کو اپنا گول بنائیں۔ یہ آپ کے لیے ایک ماسٹر فارمولا ہے۔ ہرنڈن سے ہم لوگ یارڈلے (Yardley) کے لیے روانہ ہوئے۔ یارڈلے میں ڈاکٹر انیس میمن صاحب کے گھر پر ایک پروگرام تھا۔
انڈیا میں سڑک کے دونوں طرف درخت ہوتے ہیں، مگر امریکا میں یہ حال ہے کہ سڑک کے دونوں طرف اتنے زیادہ درخت ہوتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسافر دوطرفہ باغوں کے درمیان سے گزر رہا ہے۔ یہاں جن سڑکوں پر میں نے سفر کیا، تقریباً ہر ایک کا یہی حال تھا۔ یہاں کی سڑکیں عام طور پر بہت زیادہ چوڑی ہوتی ہیں۔ تمام سڑکیں، چاہے وہ شہر کی سڑکیں ہوں یا گاؤں کی سڑکیں، تمام سڑکیں بالکل یکساں ہوتی ہیں۔ یہاں خراب یا تنگ سڑکوں کا کوئی تصور نہیں۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر کار کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ اس لیے بار بار مجھے کار کے ذریعے سفر کرنا پڑا۔ زمانہ قیام میں میں نے ہارن (Horn) کی آواز نہیں سنی۔ یہاں کی سڑکوں پر برابر کاریں دوڑتی رہتی ہیں، لیکن انڈیا کے مقابلے میں، یہاں ہوائی کثافت (air pollution) بہت کم ہے۔ 27 جون 2011 کی شام کو میری لینڈ میں میں اپنے ساتھیوں کے همراه ایلی کاٹ سٹی (Ellicott City) گیا۔ یہاں مرز زیبا کے گھر پر ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں امریکا میں مقیم مسلم خاندانوں کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے شرکت کی۔ یہاں میں نے انگریزی میں خطاب کیا۔ نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تو آپ نے قریش کو جمع کیا اور آپ نے اُن کے سامنے اپنا مشن پیش کیا۔ لیکن کسی نے بھی اس کا مثبت جواب نہیں دیا۔ سب خاموش رہے۔ کے بعد علی بن ابی طالب کھڑے ہوئے جو اُس وقت 11 سال کے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ اس کے بعد ہمیشہ وہ آپ کے ساتھی بنے رہے۔
میں نے کہا کہ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تاریخ کا آغاز کرنے والے نوجوان
دوسرے صحابہ بھی اکثر نوجوان طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ کو دورِ جدید میں اس تاریخ کو دہرانا ہے۔ پھر میں نے ان نوجوانوں کو ایک ماٹو دیا۔ میں نے کہا کہ: Make education your profession, and make Dawah your mission. پروگرام کے خاتمے پر سوال و جواب ہوا۔ رات میں ہم لوگوں کا قیام مزگل زیبا کے مکان پر یہاں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ پروگرام کے خاتمے پر ہماری ٹیم کے ایک ممبر نے پروگرام میں شریک ایک لڑکی سے پروگرام کے بارے میں اس کا تاثر پوچھا۔ اس نے کہا: After this session, I have come to know my responsibility towards Dawah work. 28 جون 2011 کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد مزگل زیبا کے اہلِ خانہ اور اپنے ساتھیوں کی ایک نشست ہوئی۔ اس موقع پر میں نے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ ابلیس نے چیلنج دیا تھا کہ وہ سارے انسانوں کو بہکا دے گا، سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے: إلا عبادك منهم المخلصين (40: میںنے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کچھ بندوں کو مداخلت کر کے شیطان کے فتنے سے بچائے گا۔ اس مداخلت کی بنیاد یہ ہوگی کہ جو افراد اتنے باشعور ہوں کہ وہ شیطان کے زیرِ اثر آنے سے اپنے آپ کو بچالیں، وہ اللہ کے مخلص بندے قرار پائیں گے۔ میری لینڈ سے ہم لوگ واشنگٹن ڈی سی کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں 28 جون کی شام کو ڈاکٹر انیس کے گھر پر دوبارہ ایک پروگرام ہوا۔ یہاں خطاب کا موضوع تھا— امریکی مسلمانوں کی دعوتی ذمے داری۔ اس موضوع پر اظہارِ خیال کے بعد آخر میں سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں میں جو مذہبی اور سیاسی اختلافات ہیں، اُس کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ غلط فارمولا اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس طبقے کا فارمولا یہ ہے کہ— اختلافات کو مٹاؤ، تا کہ اتحاد قائم ہو۔ یہ درست نہیں۔ صحیح فارمولا یہ ہے کہ— اختلافات کو برداشت کرو، اختلاف کے باوجود اعلیٰ مقصد کے لیے متحد ہو جاؤ۔ اختلاف کا معاملہ اس کو مینیج (manage)
کرنے کا معاملہ ہے، نہ کہ اس کو مٹانے کا معاملہ۔
خواجہ کلیم الدین صاحب کے پڑوس میں جو گھر ہے، وہاں 29 جون 2011 کی صبح کو دو بھاری اس کے ساتھ مختلف مشینیں تھیں۔ معلوم ہوا کہ یہ لوگ درخت کاٹنے کے لیے آئے ہیں۔ انھوں نے مخصوص ٹیکنک کے ذریعے 4 درخت کاٹے_ اس کے بعد اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ مشین نے اس کو بھس بنا دیا۔ اس کے بعد ان لوگوں نے اس کو ٹرک پر رکھا اور چلے گئے۔ یہ کام یہاں پرائیویٹ کمپنیاں کرتی ہیں۔ وہ ایک درخت کو کاٹنے کے دو سو ڈالر لیتی ہیں۔ امریکا میں ایک لفظ کیپٹیو آڈینس (captive audience) استعمال ہوتا ہے، یعنی وہ لوگ جو کسی جگہ محصور ہوں اور ان کے پاس مطالعے کے سوا کوئی اور مشغلہ نہ ہو، مثلاً اسپتال میں داخل ہونے والے لوگ، جیل میں داخل ہونے والے لوگ اور سینئر سٹیزنس کے لئے بنائے گئے مقامات (senior citizens’ residence)_ اس طرح کے مقامات پر موجود لوگوں کو اگر کتاب یا لٹریچر فراہم کیا جائے تو دوسری مصروفیت نہ ہونے کی بنا پر لوگ ضرور اس کو پڑھتے ہیں۔ مسیحی مبلغین اس موقع کو کافی استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے دعوتی مشن سے وابستہ افراد بھی اس موقع کو استعمال کر رہے ہیں۔ یہ دعوت کو پھیلانے کا اچھا طریقہ ہے۔
29 جون 2011 کی صبح کو بن سلیم (Bensalem) میں ڈاکٹر وقار عالم سے ملاقات ہوئی_ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: الدنیا مزرعة الآخرة (دنیا آخرت کے لئے تیاری کی جگہ میں نے پوچھا کہ یہاں ایسے کتنے مسلمان ہوں گے جو اس قسم کا دینی ذہن رکھتے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اس کا اندازہ آپ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ میں نے ایک صاحب سے آخرت کی بات کی جو کہ ایک اسلامی تنظیم چلا رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ آخرت کا فیصلہ تو آخرت میں ہوگا، یہاں تو ہمیں دنیا کے اعتبار سے مسلمانوں کی خدمت کرنا ہے۔
اس واقعے سے اندازہ ہوا کہ موجودہ مسلمانوں نے اسلام کا ایک نیا ورژن دریافت کر رکھا بدھ ازم کو بے خدا ریلیجن (godless religion) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں نے بھی
ایک بے خدا اسلام (godless Islam) بنا لیا ہے۔ ان کا اسلام ایک لفظ میں، کلچرل ورژن آف اسلام (cultural version of Islam) ہے۔ ان کے یہاں بظاہر اسلام کا ایک فارم ہے، لیکن وہ ایک بے روح فارم (spiritless form) ہے۔ وہ دھوم سے سسٹم کی باتیں کرتے ہیں، لیکن فرد کے تزکیہ کا ان کے یہاں کوئی تصور نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صرف لیبل کا فرق ہے، ورنہ حقیقت کے اعتبار سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ دونوں کا مشترک طور پر یہ حال ہے کہ دنیا کی تعمیر ان کا واحد کنسرن ہے، آخرت کی تعمیر کا تصور دونوں میں سے کسی کے یہاں نہیں پایا جاتا۔ مغربی ملکوں میں امریکا واحد ملک ہے جہاں اللہ کے فضل سے الرسالہ کے دعوتی مشن کی ایک ٹیم بن گئی ہے۔ اور باقاعدہ انداز میں دعوت کا کام ہو رہا ہے۔ یہ مجھے خدائی منصوبہ معلوم ہوتا ہے۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں امریکا کو عالمی قیادت کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ اس لحاظ سے عالمی دعوت کے لیے سب سے زیادہ موزوں جگہ امریکا ہے۔ پیغمبرانہ دعوت کا طریقہ ہمیشہ یہ تھا کہ پیغمبر ام القریٰ (مرکزی شہر) میں مبعوث ہوتے تھے۔ یہی دعوت کا اسلوب ہے۔ ام القریٰ میں دعوت کا کام ہونا بالواسطہ طور پر دوسرے تمام علاقوں میں کام کرنے کے ہم معنی ہے۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں قرآن کی ایک تعلیم بالکل گم قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تمام نبی ہدایت یاب تھے اور ہر نبی کی زندگی میں ہدایت کا نمونہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف پیغمبر مختلف حالات میں آئے۔ یہ سب اپنے اپنے اعتبار سے نمونہ ہیں۔ جب بھی کسی جگہ کسی پچھلے پیغمبر جیسے حالات پائے جائیں تو وہاں حالات کی نسبت سے اس پیغمبر کا نمونہ قابل انطباق ہو جائے گا، مگر مسلمان اس تعلیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک مشہور قول ہے: