Al-Risala · December 2012

شتمِ رسول کا مسئلہ

Al-Risala, December 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

ستمبر 2012 میں امریکا میں ایک فلم بنائی گئی۔ اس فلم کا نام تھا - انوسنس آف مسلمس - اس فلم میں ایسے مناظر دکھائے گئے تھے جو مسلمانوں کی نظر میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ’گستاخی‘ کے ہم معنی تھے۔ اس کے بعد دنیا بھر کے مسلمان بھڑک اٹھے۔ شرق سے غرب تک، ہر جگہ اس کے خلاف پرشور احتجاج ہونے لگا۔ ہر جگہ دھوم کے ساتھ جذباتی مظاہرے اور تقریریں کی ان مواقع پر مسلمان جگہ جگہ اپنے مظاہروں کے دوران جو پلے کارڈ (placard) بلند کیے ہوئے تھے، اُن کی نوعیت کا اندازہ اُن پر لکھے ہوئے حسب ذیل الفاظ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے: Obama, Obama, we like Osama!

Behead all those who insult the Prophet!

Insulting the Prophet is insulting 1.5 billion Muslims!

The Prophet is dearer to us than our lives!

اس سلسلے میں دنیا کے مختلف ملکوں میں جو پرشور مظاہرے کیے گئے، اُن میں سے ایک پاکستان کا وہ مظاہرہ تھا جو 28 ستمبر 2012 کو ’یوم عشقِ رسول‘ کے طور پر منایا گیا۔ اس واقعے کی رپورٹ لاہور کے ہفت روزہ سنڈے میگزین نوائے وقت (30 ستمبر 2012) میں شائع ہوئی ہے۔ کے کچھ حصے یہاں نقل کئے جاتے ہیں: ”پاکستانی قوم نے جمعہ کو یوم عشقِ رسول منایا۔ فلم کے خلاف ’یومِ عشقِ رسول‘ پر عوامی ردعمل کے دوران غیر معمولی توڑ پھوڑ اور تشدد کے واقعات اِن پر تشدد واقعات میں صرف جمعہ کو 32 افراد جاں بحق ہوئے اور 200 سے زائد افراد زخمی کراچی میں 5 سینما گھر، تین بینک اور لاتعداد دکانیں لوٹنے کے بعد جلا دی گئیں، گاڑیوں کو توڑا گیا، لوگوں پر ڈنڈے برسائے گئے، 4 پولیس موبائلیں اور بکتر بند گاڑیاں بھی جلا دی گئیں۔ اسپتالوں پر بھی حملے کئے گئے اور اربوں روپے کی املاک دھوئیں کی نذر ہو گئیں“۔ ”گستاخی رسول“ کے سوال پر اس طرح کے پرتشدد واقعات مسلمانوں کی طرف سے ہر جگہ ہورہے ہیں، پاکستان میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی۔ ان واقعات کی رپورٹ برابر پرنٹ میڈیا

اور الیکٹرانک میڈ یا دونوں میں آرہی ہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر ساری دنیا میں ایک سوال کیا جارہا ہے، وہ یہ کہ — پر امن گستاخی کے جواب میں مسلمان خود پر تشدد گستاخ کیوں بن جاتے ہیں، رسول کی شان میں گستاخی‘ کرنے والا صرف یہ کرتا ہے کہ وہ اس قسم کی ایک کتاب شائع کرتا ہے، یا اخبار میں ایک کارٹون چھاپ دیتا ہے، یا ایک فلم بنا کر اس کو انٹر نیٹ پر ڈال دیتا ہے۔ یہ اگر گستاخی ہے تو وہ یقینی طور پر ایک پرامن گستاخی ہے، لیکن اس کے جواب میں مسلمان جو کچھ کرتے ہیں، وہ مبینہ طور پر ایک پر تشدد ردِ عمل یا پر تشدد گستاخی کا معاملہ ہے۔

پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسلامی شریعت دی ہے، اُس میں واضح طور پر اس طرح کے معاملات میں ایک اصول بتایا گیا ہے، وہ اصولِ قصاص (2:178) کا اصول ہے، یعنی برابر کا بدلہ (equal retribution)- قصاص کی تعریف (definition) قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به، ولئن صبرتم لهو خير للصابرین (16:126)- تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا کہ تمھارے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کے الفاظ یہ ہیں: وجزاء سيئة سيئة مثلها، فمن عفا وأصلح فأجره على الله، إنه لا يحب الظالمين (42:40) یعنی برائی کا بدلہ ہے ویسی ہی برائی، پھر جس نے معاف کر دیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بے شک اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے معاملے میں اہل ایمان کے لیے دو میں سے ایک کا آپشن (option) ہے۔ ایک، عفو اور صبر کا آپشن اور دوسرا، قصاص کا اس طرح کے معاملے میں مسلمانوں کے لیے انھیں دو میں سے ایک کا آپشن جائز ہے، اس کے سوا کوئی تیسرا آپشن لینا اُن کے لیے سرے سے جائز ہی نہیں۔ قتل کے معاملے میں اسلامی شریعت کا ایک مسلمہ قانون یہ ہے کہ زمانہ جنگ میں بھی صرف مقاتل (combatant) کو مارا جائے گا، غیر مقاتل (non-combatant) کو مارنا جنگ کے زمانے میں بھی جائز نہیں۔ ایسی حالت میں

اسلام کیسے اجازت دے سکتا ہے کہ امن کی حالت میں غیر مقاتل یا پر امن افراد کو مارا جائے۔ عفو اور صبر کے آپشن کا مطلب یہ ہے کہ آپ پیش آمدہ معاملے پر ردِ عمل کی نفسیات کے تحت نہ سوچیں، بلکہ اصلاح کی نفسیات کے تحت سوچیں۔ آپ یہ سوچیں کہ جو شخص اس’’گستاخی‘‘میں ملوث ہوا ہے، وہ بھی ایک انسان ہے۔ اس کے اندر بھی وہی فطرت موجود ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر ہوتی اس لیے آپ ہمدردانہ انداز میں اس کی فطرت کو ایڈریس کرنے کی کوشش کریں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی اصلاح ہو جائے اور وہ توبہ کر کے اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہو جائے۔ اس معاملے میں دوسرا آپشن وہ ہے جس کو قرآن میں قصاص کہا گیا ہے۔ یہ ثانوی درجے کا اس کی حیثیت صرف ایک قانونی جواز کی ہے۔ جہاں تک اسوہ رسول کا معاملہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے معاملے میں ہمیشہ عفو اور صبر اور اصلاح کے طریقے کو اختیار فرمایا، کیوں کہ یہی طریقہ عزیمت اور خلقِ عظیم کا طریقہ ہے۔ جیسا کہ اس سلسلہ کلام کے تحت اگلی آیت میں ارشاد ہوا ہے: ولمن صبر وغفر إن ذلك لمن عزم الأمور (42:43) یعنی جس شخص نے صبر کا طریقہ اختیار کیا اور معاف کر دیا، تو بے شک یہ بڑی عزیمت کے اوصاف میں سے ہے۔ جراحت (harm) کی دو قسمیں ہیں—ایک، جسمانی جراحت (physical harm) اور دوسرے، نفسیاتی جراحت (psychological harm)۔ دونوں قسم کی جراحتوں کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطابق، جسمانی جراحت کی صورت میں ہمارے لیے دو آپشن ہیں—قصاص، اور عفو۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، قصاص کا مطلب ہے: برابر کا بدلہ لینا، یعنی جتنا کسی نے کیا ہے، ٹھیک اتنا ہی اس کے ساتھ کرنا۔ اس کے مقابلے میں، عفو کا مطلب ہے: یک طرفہ طور پر صبر کر لینا، نہ کوئی عملی کارروائی کرنا اور نہ زبان سے اس کے خلاف شکایت یا احتجاج کے الفاظ بولنا۔ گویا اسلامی تعلیم کے مطابق، جسمانی جراحت کی صورت میں اہل ایمان کے لیے دو آپشن ہیں، لیکن نفسیاتی جراحت کی صورت میں اُن کے لیے صرف ایک آپشن ہے، اور وہ صبر کا آپشن ہے۔

Printed page