قصاص کا اصول
Al-Risala, December 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسا کہ عرض کیا گیا، اس طرح کے معاملے میں قصاص کا آپشن ثانوی آپشن ہے۔ مسلمانوں کو قصاص کا آپشن لینا ہے تو لازمی طور پر انھیں یہ کرنا ہوگا کہ وہ فریقِ ثانی کے ساتھ برابر کا معاملہ کریں، یعنی یہ کہ جتنا کسی نے کیا ہے، مسلمان بھی اس کے خلاف اتنا ہی کریں۔ اگر کسی شخص نے ایک کتاب چھاپی ہے تو مسلمان بھی اس کے جواب میں ایک کتاب شائع کریں۔ کسی نے اگر کوئی قابلِ اعتراض آرٹیکل یا کارٹون چھاپا ہے تو اس کے جواب میں مسلمان بھی اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لیے ایک اور اگر کسی نے اسٹیج پر ایک تقریر کی ہے تو مسلمان بھی اس کے جواب میں اسٹیج پر ایک تقریر اگر کسی نے ایک اخباری بیان دیا ہے تو مسلمان بھی اس کے جواب میں ایک مدلل اخباری بیان مسلمان اگر اس طرح کے معاملے میں پیغمبر کے اسوہ کے مطابق، عفو وصبر کا طریقہ اختیار نہیں کر سکتے تو اسلامی شریعت کے مطابق، اُن کو صرف یہ حق ہے کہ وہ قلم کا جواب قلم سے دیں اور تقریر کا جواب تقریر سے دیں۔ اس کے برعکس، قلم کا جواب پر تشدد مظاہرہ کے ذریعے دینا یا پر امن اعتراض کے جواب میں توڑ پھوڑ کرنا ایک ایسا فعل ہے جو بلاشبہ حرام کے درجے میں قابلِ ترک ہے۔ اصحاب رسول کی مثال سے یہی طریقہ ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مخالفین نے بہت بڑے پیمانے پر وہ سب کچھ کیا جس کو ”شتم رسول“ کہا جاتا ہے، مگر رسول اور اصحاب رسول نے کبھی اس کے جواب میں احتجاج اور ہنگامے کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ اس کے برعکس جو کچھ ہوا، وہ صرف یہ تھا کہ حسان بن ثابت انصاری اپنے اشعار کے ذریعے سے اس کا جواب دیتے تھے۔ واضح ہو کہ اُس زمانے میں شاعری کا وہی درجہ تھا جو موجودہ زمانے میں صحافت کا درجہ ہے۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ احتجاج (protest) ہمارا ایک مسلّمہ حق ہے، اس لیے مسلمانوں کو لازماً اس طرح کے واقعات پر احتجاج کرنا چاہئے، البتہ یہ ضروری ہے کہ اُن کا یہ احتجاج پرامن ہو۔ یہ شرط ایک ایسی شرط ہے جو عملاً کبھی پوری ہونے والی نہیں۔ عوامی احتجاج میں دو میں سے ایک برائی کا
پیش آنا یقینی ہے، یا تو وہ بظاہر پرامن احتجاج کسی مرحلے میں پہنچ کر لوگوں کو مشتعل کر دے گا اور پرامن احتجاج فوراً ہی پر تشدد احتجاج میں تبدیل ہو جائے گا۔ آغاز میں بظاہر وہ ایک پرامن احتجاج کی حیثیت سے شروع ہو گا، لیکن آخر میں وہ توڑ پھوڑ اور فساد اور تخریب کی شکل اختیار کر لے گا، جس کی ایک مثال پاکستان کے مذکورہ احتجاجی واقعے میں نظر آتی ہے۔
اگر بالفرض کوئی احتجاج واقعةً پرامن احتجاج ہو، وہ اول سے آخر تک امن کی شرط پر قائم رہے، تب بھی عملاً وہ ایک فساد کی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ اس کے نتیجے میں وہ سنگین برائی پیدا ہوتی ہے جس کو باہمی نفرت کہا جاتا ہے، اور نفرت بلاشبہ ایک منفعل تشدد (passive violence) ہے۔ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تشدد اگر ایک بم ہے تو نفرت ایک ٹائم بم (time-bomb)۔ احتجاج کا حق "شتم رسول" کے مسئلے پر ساری دنیا کے مسلمان پرشور احتجاج (protest) کر رہے ہیں۔ اس پرشور احتجاج کے جواز کے لیے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ــ حقوق انسانی (human rights) کے مسلمہ اصول کے تحت احتجاج ہمارا ایک جائز حق ہے۔
سڑکوں پر احتجاجی جلوس نکالنا کوئی سادہ بات نہیں۔ گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کو رسول اور اصحاب رسول نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ مسلمان آج جس طرح کے واقعات پر جگہ جگہ احتجاجی جلوس نکالتے ہیں، اُس طرح کے ناخوش گوار واقعات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زیادہ بڑے پیمانے پر موجود تھے۔ مثلاً مقدس کعبہ میں مشرکین کی طرف سے سیکڑوں کی تعداد میں بتوں کا نصب کیا جانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلے طور پر، نعوذ باللہ، مذمّم اور مجنون مگر حدیث اور سیرت کی کتابوں سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول نے کبھی اِس کے خلاف احتجاج کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ رسول اور اصحاب رسول کے اس ثابت شدہ عمل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ احتجاج کا طریقہ یقینی طور پر اسلام کا طریقہ نہیں۔ پھر احتجاج کا طریقہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو کہاں سے ملا۔ یہ طریقہ انھوں نے حقوق انسانی کی
جدید شریعت سے اخذ کیا ہے۔ یہ انسانی شریعت کی ایک دفعہ ہے جس کو 1948 میں اقوام متحدہ کے یونی ورسل ڈیکلریشن (universal declaration) کے ذریعہ وضع کیا گیا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زندگی کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے، حبل اللہ کے تحت جینا، اور دوسرا ہے، حبل الناس کے تحت جینا (3:112)۔ حبل اللہ کے تحت زندگی کا حق ملنا کسی امت کی مطلوب حالت ہے، اور حبل الناس کے تحت زندگی کا حق ملنا سرتا سر غیر مطلوب حالت۔ قرآن میں حبل اللہ اور حبل الناس کے الفاظ کسی امت کی دو مختلف حالتوں کو بتانے کے لیے آئے ہیں۔ امت کی ایک حالت وہ ہے جب کہ اس کے اندر خوف خدا کی روح موجود ہو اور وہ اپنے عمل کا نقشہ حبل اللہ، بالفاظ دیگر، خدائی تعلیمات (قرآن وسنت) سے اخذ کرے، اور حبل الناس کا مطلب یہ ہے کہ امت بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوگئی ہو اور اتباع شہوات (19:59) کی بنا پر وہ اپنے عمل کا نقشہ تعلیمات الہی سے اخذ کرنے کے بجائے انسان کے وضع کردہ ضابطوں سے اخذ کرنے لگے۔
حبل اللہ اور حبل الناس کی اس قرآنی تقسیم کے مطابق دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خود اپنی زبان سے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں وہ حبل اللہ پر قائم نہیں ہیں، بلکہ وہ حبل الناس پر قائم ہیں۔ وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اپنی احتجاجی روش کا جواز حبل اللہ میں نہ پا کر اس کو حبل الناس سے اخذ کر رہے ہیں، اور اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر وہ یہ کر رہے ہیں کہ اپنی غیر اسلامی روش کے لیے وہ حبل اللہ کے بجائے حبل الناس کا حوالہ دے رہے ہیں، جو کہ ان کی قومی خواہشات کے مطابق ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اتباع شہوات کہا گیا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ آپ قرآن کی مذکورہ آیت (3:112) کا مطالعہ کیجیے اور دیکھیے کہ اس میں کس گروہ کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ حبل اللہ کے بجائے حبل الناس سے اپنے لیے زندگی کا حق حاصل کر رہا ہے، یہ بلاشبہ ایک نہایت سنگین بات ہے۔ اس طرح مسلمان اپنے آپ کو اس گروہ کے ساتھ بریکٹ کر رہے ہیں جس کے بارے میں وہ خود صبح وشام یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے نزدیک ایک مغضوب اور ملعون گروہ کی حیثیت ہے۔