جب کہ کائنات کا مالک پوری تہذیب کو برخاست کردے-
Al-Risala, December 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
سترھویں صدی عیسوی سے پہلے دنیا میں روایتی دور قائم تھا۔ اس کے بعد دنیا میں سائنٹفک دور کا آغاز ہوا۔ سائنٹفک دور سے مراد وہ دور ہے جب کہ انسان نے نیچر (nature) پر آزادانہ غور وفکر اس غور وفکر کے بعد یہ ہوا کہ نیچر میں چھپے قوانین ایک کے بعد ایک دریافت ہونے لگے۔ مثلاً پانی میں اسٹیم پاور کی دریافت، اور مادہ (matter) میں بجلی (electricity) کی دریافت، جدید دنیا، خاص طور پر مغربی دنیا میں کئی سوسال تک اس موضوع پر ریسرچ ساری رہی، یہاں تک کہ فطرت میں چھپے ہوئے ہزاروں قوانین دریافت ہوگئے۔ ان کے ذریعے ایک نئی ٹکنالوجی بنی اور بہت سے نئے فنی علوم وجود میں آئے۔ وہ ظاہر ہے جس کو جدید مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، اس کی تشکیل تمام تر انھیں دریافت کردہ قوانین فطرت پر مبنی ہے۔
یہ قوانین جو موجودہ زمانے میں معماران تہذیب نے دریافت کیے، اُن کو سائنسی قوانین (scientific laws) کہا جاتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ سائنسی قوانین نہیں ہیں، بلکہ وہ خدائی قوانین (divine laws) ہیں۔ خدائی قوانین کو نظامِ فطرت سے لینا اور اُن کو سائنِس قوانین کے نام پر اپنا بنا کر پیش کرنا، یہ بلا شبہہ ایک سپر سرقہ (super plagiarism) کا کیس ہے۔ تہذیب جدید کے معماروں کا یہ واقعہ بھی بلا شبہہ اسی قسم کا ایک سرقہ ہے۔ امریکی صحافی کا سرقہ اگر جرنلسٹک سرقہ (journalistic plagiarism) تھا تو معماران تہذیب کا سرقہ سائنٹفک سرقہ (scientific plagiarism) ہے۔ امریکی صحافی نے تو صرف اپنے ایک آرٹیکل میں نظریاتی سرقہ کا ارتکاب کیا تھا، جب کہ مغربی تہذیب کا پورا کا پورا ریڈیوپلمنٹ اسی قسم کے عظیم تر نظریاتی سرقہ کی بنا پر ہوا امریکی جرنلسٹ کا سرقہ اگر صرف ایک انفرادی سرقہ تھا تو مغربی تہذیب کا سرقہ اس کے مقابلے میں ایک عالمی سرقہ (global plagiarism) کی حیثیت رکھتا ہے۔