دنیا سے انسان کے بے دخلی
Al-Risala, December 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
تہذیب کی ترقی کے نام پر مذکورہ سائنسی سرقہ کئی سوسال سے بڑے پیمانے پر جاری دنیا میں
جاری ہے، مگر اس مدت میں اہل تہذیب کے درمیان کوئی شخص نہیں اٹھا جو یہ اعلان کرے کہ یہ تمام تہذیبی ترقیاں خدائی قوانین (divine laws) کی بنا پر ممکن ہوئی ہیں۔ ہم کو چاہیے کہ ہم کھلے طور پر اس حقیقت کا اعتراف کر لیں۔ بے اعترافی کا یہ معاملہ اب اپنی آخری حد پر پہنچ چکا ہے۔ طور پر وہ وقت آگیا ہے، جب کہ کائنات کا خالق انسان کو زمین کے چارج سے بے دخل کر دے اور زمین کا اور پوری دنیا کا نظام حقیقت واقعہ کی بنیاد پر قائم کرے۔
دنیا کا یہ انجام پیشگی طور پر مقدر تھا۔ خدا نے پیشگی طور پر یہ اعلان کر دیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب کہ انسان کو زمین کے چارج سے بے دخل کر دیا جائے اور دنیا کا نیا نظام بنایا جائے۔ اس سلسلے میں قرآن کا ایک بیان یہ ہے: وما قدروا الله حق قدره، والأرض جميعا قبضته يوم القيامة، والسماوات مطويات بيمينه، سبحانه وتعالى عما يشركون (39:67)۔
اس آیت میں ’قدر‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ قدر کا مطلب ہے اندازہ کرنا، یعنی انسان جو کچھ دنیا میں کر رہا ہے، وہ اس لیے کر رہا ہے کہ اس نے خالق کا کم تر اندازہ (under-estimation) کر رکھا ہے۔ یہ کم تر اندازہ کیا ہے، اس کم تر اندازہ کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: افحسبتم أنما خلقناكم عبثاً وأنكم إلينا لا ترجعون (23:115) یعنی کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہمارے پاس نہیں لائے جاؤ گے۔ اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ یہ روایت قرآن کی مذکورہ آیت (وما قدروا الله حق قدره) کی مزید تشریح کرتی ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: عن ابن عمر أن رسول الله صلي الله عليه وسلم قرأ هذه الآية ذات يوم على المنبر "وما قدروا الله حق قدره، والأرض جميعاً قبضته يوم القيامة والسماوات مطويات بيمينه، سبحانه وتعالى عما يشركون“ ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول هكذا بيده ويحركها يقبل بها أو يدبر يمجد الرب نعته: أنا الجبار، أنا المتكبر، أنا الملك، أنا العزيز، أنا الكريم، فرجف بر سول الله صلي الله عليه وسلم المنبر حتي قلنا ليخرنّ به (السلسلة الصحيحة، 7/596)
یعنی عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ممبر کے اوپر قرآن کی مذکورہ آیت پڑھی۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئے کہا کہ اللہ اپنی تمجید کرے گا اور کہے گا کہ میں ہوں جبار، میں ہوں متکبر، میں ہوں بادشاہ، میں ہوں زبردست، میں ہوں کریم۔ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ، کہاں ہیں جبار، کہاں ہیں متکبر۔ یہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لرزہ طاری ہوا، یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ شاید آپ گر پڑیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت آگیا ہے جب کہ خالق کائنات ظاہر ہو اور براہ راست طور پر دنیا کا چارج لے لے ۔ اسباب کے اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ قرآن میں جس آنے والے وقت کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ وقت بالفعل آچکا ہے، اُس وقت کے آنے میں اب کوئی دیر نہیں۔ لائف سپورٹ سسٹم کی تباہی دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے انسان کو بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔ مثلاً پانی، روشنی، آکسیجن، نباتات، وغیرہ ۔ ان چیزوں کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے، یعنی معاون حیات نظام۔ سائنس کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین پر یہ معاون حیات نظام خطر ناک حد تک بگڑ گیا ہے، سائنس داں برابر یہ انتباہ دے رہے ہیں کہ زمین پر انسان کی آباد کاری بہت جلد ناممکن ہو جائے گی، یہاں تک کہ مشہور برٹش سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ نے اس صورت حال کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کو اب خلائی بستیاں (space colonies) بنانا چاہیے، حالاں کہ اسٹیفن ہاکنگ اور دوسرے تمام لوگ جانتے ہیں کہ یہ تجویز عملاً ممکن نہیں۔ زمین کا وہ حصہ جس کو آرکٹک (Arctic) کہا جاتا ہے، یہ برف کے بہت بڑے پہاڑ کی مانند ہے جو کئی ہزار مربع میٹر کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ برفانی پہاڑ زمین پر موسم کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ آرکٹک (قطب شمالی) کا یہ خطہ مختلف پہلوؤں سے زمین پر انسان کی آبادی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ مگر بیسویں صدی کے ربع آخر میں، جب سے گلوبل وارمنگ کے ظاہر ر نے شدت اختیار کی ہے، قطب شمالی کی یہ برف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے۔
سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق، شاید اندیشہ ہے کہ اگلے 10 برسوں میں یہ پورا برفانی پہاڑ پگھل کر سمندروں میں چلا جائے ۔ اس کی بنا پر مختلف قسم کے خطرناک نتائج پیدا ہوں گے جو زمین کو انسان کے لیے ناقابلِ رہائش بنا دیں گے۔ اس سائنسی تحقیق کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (14 اگست (2012 میں حسب ذیل عنوان کے تحت شائع ہوا ہے:
Arctic Sea Ice May Vanish in 10 Years (p. 19)