Al-Risala · December 2012

خلاصہ کلام

Al-Risala, December 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

اوپر جو کچھ لکھا گیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان نے اُس نوعیت کا ایک بہت بڑا واقعہ کیا ہے جس کو نظریاتی سرقہ کہا جاتا ہے۔ وہ چیز جس کو جدید تہذیب کہا جاتا ہے، وہ پوری کی پوری اسی جرم کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ اس جرم میں موجودہ زمانے کی پوری آبادی شریک ہے۔ جن لوگوں نے اس تہذیب کو وجود دیا، وہ اس جرم میں براہِ راست طور پر شریک ہیں، اور بقیہ لوگ جو تہذیب کے اس جرم پر نکیر (denial) کیے بغیر اُس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، وہ بالواسطہ طور پر اس جرم میں شریک ہیں۔ اس نظریاتی سرقہ (plagiarism) کے خلاف خالق کی کارروائی مستقبل بعید کی چیز نہیں یہ کارروائی اب عملاً شروع ہو چکی ہے۔ اس کارروائی کو ایک لفظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ خالق نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انسان کو مذکورہ جرم کی بنا پر زمین سے بے دخل کر دیا جائے۔ خالق کا یہ فیصلہ لائف سپورٹ سسٹم کے خاتمے کی صورت میں بتدریج ظاہر ہو رہا ہے۔ بظاہر وہ وقت بہت قریب آ چکا ہے جس کی پیشین گوئی قرآن کی مختلف آیتوں میں کی جا چکی تھی۔

نوٹ : صدر اسلامی مرکز کا مذکورہ خطاب سی پی ایس کے حسب ذیل ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے: پٹنہ (بہار) میں قارئینِ الرسالہ کی ماہانہ میٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ پتہ حسب ذیل ہے: A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)

Mahatwana, Phulwarisharif, Patna-601505, Bihar Mob. 9308477841, 0612-3255435

برادر محترم مولانا محمد اکرم الزہری (مسقط، عمان)

Printed page