السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
Al-Risala, December 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
امید کہ آپ مع متعلقین بخیر ہوں گے۔ اللہ تعالی آپ کو اور آپ کے تمام اہل خانہ کو اپنی خصوصی نصرت اور رحمت سے نوازے اور دنیا اور آخرت کی سعادتیں عطا فرمائے۔ 12 اکتوبر 2012ء کو آپ سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ۔ ماضی کی بہت سی یادیں تازہ ہو گئیں۔ آپ ماشاء اللہ برابر دینی کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ان کوششوں کو قبول تاہم مجھے آپ کو ایک خاص کام کی طرف توجہ دلانا ہے۔ یہ کام دعوت الی اللہ کا کام ہے، یعنی غیر مسلموں تک اللہ کا پیغام پہنچانا۔ یہ بلاشبہ اہل ایمان کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ دعوت کا کام گویا کہ خاتم النبیین کی نیابت کا کام ہے۔ یہ کام بلاشبہ فرض عین ہے اور ہر مومن کو اپنے دائرے میں اس کام کو انجام دینا ہے۔
موجودہ زمانے میں دو واقعات ایسے پیش آئے ہیں جنھوں نے دعوت کے کام کو بہت زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ ایک ہے پرنٹنگ پریس، جس کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا کہ قرآن کا ترجمہ لسان قوم میں تیار کیا جائے اور اُس کو مطبوعہ صورت میں لوگوں کے درمیان ڈسٹری بیوٹ کیا جائے۔ اصحاب رسول کا طریقہ یہ تھا کہ وہ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے ، اس بنا پر اُن کو مقری کہا جاتا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام اہل ایمان قرآن کے ڈسٹری بیوٹر بن جائیں۔
اس معاملے میں دوسرا موافق دعوت پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مواصلات کی ترقی کی بنا پر ایک نیا ظاہر ہ وجود میں آیا ہے، جس کو عالمی حرکت (global mobility) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں سیاحت، تجارت، ملازمت اور دوسرے اسباب کے تحت ، لوگوں کی آمد و رفت
بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہر ملک میں دوسرے ملکوں کے لوگ پہنچ رہے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد غیرمسلموں کی ہوتی ہے۔ اس نئے ظاہر کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ مدعو خود چل کر داعی کے یہاں پہنچ رہا ہے۔ وہ خاموش زبان میں امت محمدی کے ہر فرد سے کہہ رہا ہے کہ ہم تمھارے دروازے پر ہیں۔ آؤ، ہم کو اُس ربانی پیغام سے آگاہ کرو جو اللہ نے تمھارے پاس بھیجا ہے۔ اب ہر مسلمان کو، خواہ وہ عرب میں ہو یا غیر عرب میں ، اس کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے پاس اسلامی کتابیں رکھے اور اس کو اُن لوگوں تک پہنچاتا رہے جو اس کے علاقے میں بار بار کسی نہ کسی سبب سے اس قسم کے مواقع آج کل ہر جگہ موجود ہیں۔ دفتروں میں، پارکوں میں، کانفرنسوں میں، غرض ہر اجتماعی مقام پر اس قسم کے مدعو برابر پہنچ رہے ہیں۔ اُن کو نہایت آسانی کے ساتھ دعوتی لٹریچر پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے ادارے سے قرآن اور سیرت رسول اور خصوصی اسلامی موضوعات پر مختلف زبانوں میں کتابیں تیار کی گئی ہیں۔ مثلاً قرآن کا انگریزی ترجمہ اور پرافٹ آف پیس (The Prophet of Peace)، وغیرہ۔
میں امید کرتا ہوں کہ آپ اور آپ کے ساتھی اپنے دوسرے دینی کاموں کے ساتھ اس کام کو اپنی سرگرمیوں میں شامل کریں گے، یعنی اسلامی لٹریچر کو غیر مسلموں تک پہنچانا۔ نئی دہلی، 15 اکتوبر 2012 دعا گو وحید الدین
عام طور پر کہا جاتا ہہے- کہ میں تشدد کا حامی نہیں، لیکن دشمنوں کی سازش سے واقف ہونا بہت ضروری براہِ کرم اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (ڈاکٹر محمد اسلم خان، سہارن پور) قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: إن تصبروا وتتقوا لا يضركم كيدهم شيئا (3:120)
یعنی اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ گویا کہ سازش سے واقف ہونا سازش کا توڑ نہیں ہے، بلکہ صبر اور تقوی کی روش اس کا توڑ قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کی بے صبری اور ان کے غیر متقیانہ مزاج سے واقفیت حاصل کی جائے، اور پھر اس کی اصلاح کی کوشش کی کیوں کہ مسلمانوں کے اندر صبر اور تقوی کی روش پیدا کرکے ہی سازش کو بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔ قانون فطرت کے تحت ’’سازش‘‘ کا خاتمہ ممکن نہیں، البتہ یہ ممکن ہے کہ مسلمان اپنے مثبت ردِ عمل کے ذریعے اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچا سکیں۔
جس چیز کو ’’سازش‘‘ کہا جاتا ہے، وہ دراصل ایک امرِ فطری ہے۔ اس کا تعلق خدا کی دی ہوئی آزادی یہ آزادی مصلحتِ امتحان کی بنا پر دی گئی ہے، اس لیے وہ قیامت تک باقی رہے گی، اس کو ہرگز ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ لا حاصل طور پر خود سازش کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو اتنا باشعور بنایا جائے کہ وہ اشتعال کے باوجود اشتعل نہ ہوں مشتعل نہ ہو کر سازش کو بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں اصل حقیقت تدبیرِ کار کی ہے، نہ کہ سازش سے باخبر اسی لیے قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ اے مسلمانو، تم سازش سے باخبر رہو، بلکہ یہ فرمایا کہ تم ہر حال میں صبر کی روش اختیار کرو۔ صبر کی روش اختیار کر کے تم سازش کا شکار ہونے سے بچ جاؤ گے۔ ایک منٹ آیا کہ اس میں آج کبھی اچھے مجتمع نہیں ہو گئے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ میری امت کی مرا ہی پرس ہیں ہوئیں۔ اس حدیث کا ب لیا ہے۔
اس کو واضح فرمائیں ۔ (حافظ ابو الحکم محمد دانیال ، بی ایس سی ، پٹنہ ، بہار ) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن أمتي لا تجتمع على الضلالة (ذخيرة الحفاظ للقيسراني، 1/364) یعنی میری امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت محمدی کے افراد جس چیز پر مجتمع ہو جائیں، وہ لازماً حق ہو گا ۔ اس حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ عام ضلالت کے وقت بھی امت محمدی کے کچھ افراد ایسے ہوں گے جو ہدایت پر قائم رہیں گے اور وہ حق کی نمائندگی کریں گے۔ قانون فطرت کے مطابق، امت محمدی میں بھی انحراف آئے گا، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ امت کا کوئی فرد بھی اس انحراف سے محفوظ نہ رہے۔ حدیث کے اس مفہوم کی تصدیق ایک اور روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: أن تستجمعوا كلكم على الضلالة (مسند إسحاق بن راهويه، رقم الحديث: (363) یعنی بعد کے زمانے میں جب امت میں عام بگاڑ آجائے گا، اُس وقت بھی کچھ افراد اس عمومی بگاڑ سے محفوظ رہیں گے۔
امت محمدی کے بارے میں یہ بات کسی پراسرار فضیلت کی بات نہیں۔ یہ دراصل ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو پیغمبر اسلام نے پیشین گوئی کے انداز میں بیان فرمایا۔ اصل یہ ہے کہ امت محمدی کی بنیاد جس دین پر قائم کی گئی ہے، اُس کا متن کامل طور پر ایک محفوظ متن ہے۔ پیغمبر اسلام کی یہ ایک استثنائی صفت ہے کہ آپ پر اتارا ہوا قرآن پوری طرح اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے۔ پیغمبر اسلام کی سیرت بھی تاریخی طور پر پوری طرح معلوم ہے۔ پیغمبر اسلام کا کلام بھی مستند کتابوں میں محفوظ ہو چکا ہے۔ کالا یا ہوادین اپنے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے، پوری طرح معلوم اور محفوظ ہے۔ یہ صورتِ حال اس بات کی ضمانت بن گئی ہے کہ امت کے زوال یا انحراف کے دور میں بھی دینِ اسلام کا ماخذ پوری طرح محفوظ ہو اور حق کے طالب افراد ہمیشہ اِس سے دینِ خداوندی کو اخذ کر کے ہدایت پر قائم رہیں ۔ امت محمدی میں دین سے انحراف عمومی ہو سکتا ہے، لیکن وہ کلی کبھی نہیں ہوگا۔