Al-Risala · December 2012

Shift of Emphasis, 2nd September 2012

Al-Risala, December 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

Discover Your Ignorance, 16th September 2012 The Issue of Blasphemy in Islam, 30th September 2012 Relative Value of Things, 14th October 2012 17 - سی پی ایس کی دہلی فیلڈ ٹیم (DFT) کے ذریعے دعوت کا کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں مقامی طور پر دعوتی کام کرنے کے علاوہ ٹیم کے لوگ دوسرے امکانات کو دعوت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً بک فیر، وغیرہ۔ اس سلسلے میں ٹیم کے لوگوں نے تین بک فیر میں شرکت کی — گوالیار بک فیسٹ (مدھیہ پردیش) 19-10 اگست 2012 ، اندور بک فیسٹ (مدھیہ پردیش) 23-14 ستمبر 2012 ، ناگ پور بک فیسٹ (مہاراشٹر یہ) 28 ستمبر تا 7 اکتوبر 2012 - ان بک فیرز میں دہلی فیلڈ ٹیم کے ممبر مسٹر جنید الاسلام نے اپنے ذاتی انتظام کے تحت بک اسٹال لگایا۔ یہاں سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے اسلامی لٹریچر اور قرآن کے ترجمے حاصل کیے۔ دعوتی اعتبار سے یہ بک اسٹال بہت کامیاب رہا۔ یہاں اس سلسلے میں چند تاثرات نقل کیے جاتے ہیں: • Overwhelming response from all age groups. I fell very ill and had 103 degree' fever, I prayed to God and in the morning to my surprise, my fever was gone. And after that for the next 10 days, I attended the book fest. An Assistant Commissioner, Muhammad Yunus came at the stall (Gwalior) with a non-Muslim friend. He had several questions about the ideology. I explained to him. He had read the book in one day and came back the next day as a different person. Yunus said that after talking with me the non Muslim youth's mind had also undergone a change as he was also negative about Islam. I told Yunus that you should give the Quran to all at Eid. The idea struck him and he placed an order of 175 Quran and the non Muslim youth also bought some copies along with other books.

میں بہت دنوں سے قرآن کو سمجھنا چاہتی تھی۔ آپ نے مجھ کو قرآن پڑھنے کا موقع دیا، شکریہ (مز پونم بترا، اندور) کٹر وادی و چار دھار اسے بچنے اور سچا گیان حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے، اور وہ ہے سچائی کو خود سے ڈسکور کرنا۔ اس مقصد کے لیے میں قرآن پڑھنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے، اور وہ صحیح راستہ دکھاتا اگر چہ اس پر کچھ پردے پڑے ہوئے ہیں، لیکن ہم کو خود ہی ان پردوں کو ہٹانا ہوگا۔ (مہیش یادو، اندور) قرآن میں آسان طریقے سے بتایا گیا ہے کہ بندہ اپنے خدا کو کس طرح پا سکتا ہے۔ خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ وہاں شرمندگی نہ ہو، چہرہ اجلا رہے، یہی سب سے بڑی چیز ہے۔ (دوا کر دو گولے، ناگ پور) سی پی ایس کے لٹریچر میں مذہب کو جس طرح پازیٹیو انداز میں پیش کیا گیا ہے، اس کے لیے ہم آپ لوگوں کے بہت شکر گزار ہیں۔ (راجیش مدھو لکر، ناگ پور)

میں بہت دنوں سے اسلام کے بارے میں سوچ رہی تھی، مجھ کو سی پی ایس کے بک اسٹال سے اچھی کتابوں کا سیٹ شاید میں ان کتابوں کے ذریعے اسلام کو سمجھ سکوں۔ (مر سونیا منے، ناگ پور)

18- الرسالہ مشن سے متعلق مولاناعبدالباسط عمری، دوحہ، قطر کا ایک تاثر یہاں نقل کیا جاتا ہے: ”ہم احساس محرومی میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ احساس یافت میں جینے کے قابل بنایا۔ بے شعور تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں شعور عطا کیا۔ ہم ظواہر اسلام میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ روحِ اسلام سے متعارف ہونے کا موقع دیا۔ اسلام ہمارے لئے ہاتھ کی چھنگلیا کی طرح تھا، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ اسے ہماری حقیقی زندگی میں شامل کیا اور اس کو ہمارے لئے روحانی غذا اور ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہم خدا کی شعوری دریافت سے محروم تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں خدا کی شعوری دریافت سے ہم خدا کو مانتے ہوئے خدا سے دور تھے، ہمیں معلوم تھا کہ خدا ارحم الراحمین ہے اور ہمیں اس سے

حب شدید ہونا چاہیے، لیکن خدا کی دی ہوئی عظمتیں ہم کو کم لگتی تھیں، یہی وجہ تھی کہ ہم حقیقی جذبات شکر سے محروم تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ بتایا کہ خدا کے ارحم الراحمین ہونے کو کس طرح دریافت کیا جائے اور خدا سے حب شدید کا طریقہ کیا ہے۔ ہم صرف نفی غیر کو جانتے تھے اور اسی کو خالص توحید سمجھے ہوئے تھے۔ نفی ذات کیا ہے، اس سے ہم کلی طور پر بے خبر تھے، یہی وجہ تھی کہ ہم سچی تواضع سے بھی محروم تھے۔ اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ نفی ذات کا شعور عطا کیا۔ ہم اللہ اکبر کا مطلب یہ سمجھتے تھے کہ اللہ بڑا ہے، اس لئے’’لوگو‘‘ تم بڑے نہیں ہو، اس سے فخر اور ذاتی بڑائی کا احساس پیدا ہوتا تھا، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں بتایا کہ اللہ اکبر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ بڑا ہے، اس لئے’’میں‘‘ بڑا نہیں ہوں۔ اس سے تواضع کی اسپرٹ پیدا ہوتی ہے۔ ہم کنفیوژن میں جیتے تھے۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا؟ وہ کون سا کام ہے جس کو ہمیں اپنا سپریم کنسرن بنانا چاہئے۔ اس وقت اسلام کے نام پر اٹھنے والی مسلم تحریکوں کا حال وہ ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: کل حزب بما لديهم فرحون ہر ایک یہ کہتا کہ کرنے کا کام تو یہ ہے جو ہم کر رہے ہیں۔ اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں اس کنفیوژن سے نکالا اور ہمیں بتایا کہ دعوت اور معرفت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز ہمارا مقصد زندگی نہیں، کوئی بھی دوسرا کام ہمارے لئے سپریم کنسرن کی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہم مایوسی اور شکایت کی نفسیات میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں دکھایا کہ اس دنیا میں ہر طرف امکانات ہی امکانات ہیں۔ ہمیں بس انہیں دریافت کرنے کی ضرورت ہے، اس کے بعد ہمارے اندر شکر ہی شکر پیدا ہوگا، ہمارے اندر سے شکایت اور مایوسی کا کلی طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔ ہماری حالت یہ تھی کہ ہم دعوت اور عداوت دونوں میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ خالص دعوت الی اللہ کو ہمارے اوپر کھولا اور ہمیں پورے معنوں میں ساری انسانیت کے لئے کامل خیر خواہ بنایا۔ ہم قومی فخر میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہم کو خدا کے شکر میں جینا سکھایا۔ ہم اسلام اور مسلمان دونوں کو ایک چیز سمجھتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ بتایا کہ اسلام اور مسلمان دو بالکل الگ الگ چیزیں ہیں، وہ ہرگز ہم معنی ہم تشدد کلچر اور نفرت کلچر میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں امن کلچر میں جینا سکھایا۔ اسلاف کی عظمت میں جیتے تھے، ہم اس کیفیت میں جیتے تھے کہ ماترك الأولون للآخرين شئينا۔ وجہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی عقل اور اللہ کا عطا کیا ہوا دماغ بند پڑا ہوا تھا، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہم کو بتایا کہ ساری نعمتیں صرف اللہ کے لیے ہیں (العظمة لله وحده)۔ اس دریافت نے ہمارے دماغ کو کھولا، اور ہمیں ذہنی ارتقا کی نعمت سے نوازا اور ہمیں اپنے ان صاحب معرفت بندوں میں شامل ہونے کی تربیت اور توفیق دے رہا ہے جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: يغبطهم الأنبياء والشهداء يوم القيامة الخ۔ یہ چند احساسات تھے، جو میرے دماغ میں ہلچل پیدا کر رہے تھے۔

Printed page