Al-Risala · February 2012

Islamic Society of North America

Al-Risala, February 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

جولائی 2011 کے پہلے ہفتے میں اس کا سالانہ پروگرام شکاگو میں ہوا۔ اس موقع پر ہمارے ساتھیوں نے یہاں بک اسٹال لگایا۔ اس اسٹال کے ذریعے بڑے پیمانے پر لوگوں کے ساتھ انٹریکشن ہوا اور قرآن اور دوسری کتابوں کی اشاعت ہوئی۔ اسنا (ISNA) کے اس پروگرام میں مجھے ایک

لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ یہ لیکچر انگریزی زبان میں تھا۔ اس لیکچر کا عنوان یہ تھا: Love of God اس پروگرام کا انتظام ایک بڑے ہال میں کیا گیا تھا۔ میرے سوا اس میں دو اور مقرر تھے، ایک مرد اور ایک خاتون ۔ یہ دونوں عرب تھے۔ تقریر کے بعد لوگوں کا عام تاثر یہ تھا کہ مذکورہ دونوں صاحبان کی بات غیر واضح تھی، چناں چہ وہ سمجھ میں نہ آسکی۔ میری تقریر کے بارے میں لوگوں کا تاثر یہ تھا کہ وہ پوری طرح واضح تھی اور وہ بخوبی طور پر سمجھ میں آئی۔

میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ خدا سے محبت کا ایک پہلو یہ ہے کہ بندے کو اپنے رب سے گہرا قلبی تعلق (strong affection) ہو۔ اسی کو قرآن میں أشَدُّ حُبًّا لله (165: 2) کہا گیا ہے۔ سے محبت کا دوسرا پہلو اتباع رسول ہے۔ اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: قُل إن کنتم تحبون الله فاتبعوني، یحببکم الله (31: 3) یعنی کہو، اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو تم میری اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اس سلسلے میں، میں نے کہا کہ اتباع رسول کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ پیغمبرانہ نمونے کے مطابق ، دعوت الی اللہ کا کام کیا جائے۔

2 جولائی 2011 کی صبح کو ناشتہ کے بعد ہوٹل کے کمرے میں میرے سب ساتھی اکٹھا ان سے میں نے کچھ باتیں کیں۔ مثلاً میں نے بتایا کہ آج مجھ کو ہوٹل کے کمرہ سے باہر لے جایا یہ تقریباً آدھا کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ کئی جگہ لفٹ استعمال ہوئی۔ میں نے کہا کہ پچھلے زمانوں میں نہ لفٹ ہوتی تھی اور نہ بلڈنگ کے فرش کو ہموار بنانے کا رواج تھا۔ یہ سب مغربی تہذیب نے کیا۔ نے کہا کہ انڈیا کا بادشاہ ہمایوں سیڑھیوں سے چڑھ کر ایک بلڈنگ سے نیچے اتر رہا تھا، وہ گر پڑا ۔ سخت چوٹ آئی اور اس کی وفات ہوگئی۔ اس قسم کا واقعہ اب پیش نہیں آتا۔ کیوں کہ آج کل آدمی لفٹ کے ذریعے بآسانی بلڈنگوں پر چڑھتا اترتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس تقابل کو سامنے رکھ کر سوچئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کو آج قدیم زمانے کے بادشاہوں سے زیادہ سہولتیں ملی ہوئی ہیں۔ اس طرح کی ہزاروں چیزیں جدید مغربی تہذیب سے انسان کو ملی ہیں۔ اس کے باوجود ماضی

پر فخر کرنا اور حال پر شکایت کرنا کتنا زیادہ عجیب ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اس دنیا میں پانے کی سب سے بڑی چیز شکر ہے۔ ایک حدیث کے مطابق ، اگر آپ انسانوں کے بارے میں ناشکر گزار بنے ہوئے ہیں تو آپ خدا کے بارے میں بھی شکر گزار نہیں بن سکتے۔

میں نے کہا کہ دنیا کی زندگی میں ہمیشہ منفی تجربات ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں شکر گزاری کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ مثال کے طور پر آج کل کے مسلمان امریکا کے لیے سخت منفی جذبات رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکا نے عراق اور افغانستان پر بم باری کیوں کی۔ میں نے کہا کہ میں کبھی اس قسم کی بات نہیں کہتا، کیوں کہ مجھے اپنے آپ کو منفی جذبات سے آخری حد تک بچانا ہے۔

الرسالہ مشن سے وابستہ ایک صاحب نے کہا کہ امریکا میں ہم کس طرح کام کریں، وہ ہمیں میں نے کہا کہ اصل کام دعوت الی اللہ ہے۔ مگر اس کام کو کرنے کے لیے کوئی متعین پروگرام نہیں بتایا جا سکتا۔ اس کے لیے تخلیقی ذہن درکار ہے۔ اس کے لیے آپ اپنے اندر تخلیقی ذہن پیدا اس کے بعد آپ پروگرام ساز داعی بن جائیں گے۔

امریکا میں مقیم الرسالہ کے قاریوں نے اسنا کے فنکشن میں ایک اسٹال لگایا تھا۔ اس کے ذریعہ وہاں الرسالہ مشن کی کتابیں بڑی تعداد میں پھیلیں۔ ایک بار میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ میرے سامنے ایک شخص نے آکر قرآن کا انگریزی ترجمہ دیکھا اور پھر ترجمہ قرآن کی 10 ہزار کاپی کا آرڈر دیا۔ 2 جولائی 2011 کی سہ پہر کو مسٹر غوری کی تنظیم کے تحت ایک پروگرام ہوا۔ اس کا موضوع تھا: سوشل ورک کی اہمیت۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ سوشل ورک کی بلاشبہ اہمیت ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ لوگوں کے اندر چیلنج کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ میں نے مختلف مثالوں کے ذریعہ اس کی وضاحت کی۔ آخر میں حاضرین کی طرف سے کچھ سوالات آئے۔ ایک سوال یہ تھا: In what way can Muslims in India become a giver community? اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا کے مسلمانوں کے لیے ایجوکیشن اور انڈسٹری

جیسے سیکولر شعبوں میں بھی کام کرنے کے مواقع ہیں، لیکن دوسرا بڑا موقع یہ ہے کہ وہ دعوہ ورک کریں۔

دعوہ ورک کرنے والوں کا شمار بھی بلاشبہ گور گروپ (giver group) میں ہوگا۔

2 جولائی 2011 کو اسنا (ISNA) والوں کی طرف سے ایک بڑے ہال میں لنچ کا فنکشن تھا۔ یہاں بڑے پیمانے پر کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ بہت زیادہ کھانا میزوں پر بچا ہوا پڑا ہے۔ اسٹیج سے کچھ تقریریں ہوئیں اور اسنا کے لیے فنڈ کی اپیل کی گئی۔ جب کوئی شخص کوئی رقم دینے کی بات کرتا مثلاً 25 ہزار ڈالر یا 50 ہزار ڈالر تو مقرر بلند آواز سے کہتے تکبیر، تکبیر۔ یہ منظر امریکا کے سوا مسلمانوں کے دوسرے اجتماعات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ یہ فنڈنگ تمام تر کمیونٹی سروس کے لیے تھی۔ لیکن اس کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کی آیتیں زور وشور سے پڑھی جارہی تھیں۔ اسلام میں تکبیر کا مطلب اللہ کی بڑائی ہے، مگر موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اجتماعات میں تکبیر کے نعرے امت کی بڑائی یا اپنی کمیونٹی کی بڑائی کے لیے دھوم کے ساتھ بلند کیے جاتے ہیں، جوکہ عملاً اپنی کمیونٹی کو گلوری فائی کرنے کے ہم معنی ہوتے ہیں۔

2 جولائی 2011 کی شام کو اپنے کچھ ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کے معاملے میں ہم کو حقیقت پسند بننا چاہیے۔ ہم جو دعوتی کام کر رہے ہیں، اس کے دونشانے ہیں۔ ایک نشانہ ہے— اتمام حجت۔ اس نشانے کو پورا کرنے کے لیے توسیع (expansion) کے اصول پر عمل کرنا ہے۔ دوسرا نشانہ ہے— افراد کو تلاش کرنا اور ان کو تربیت دینا۔ اس دوسرے نشانے کے لیے ہمیں استحکام (consolidation) کے اصول کو اپنانا چاہیے۔ اس بار امریکا میں میرا قیام نسبتاً زیادہ دن تک رہا۔ بار بار مختلف شہروں اور مختلف اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے محسوس کیا کہ پہلے امریکا کا نشانہ کمفرٹ (comfort) حاصل کرنا تھا، مگر اب وہ بڑھ کر اینٹی کمفرٹ (anti-comfort) تک پہنچ چکا ہے۔ مثلاً یہاں باتھ روم کے فرش، وغیرہ اتنے چکنے ہوتے ہیں کہ میں کئی بار پھسل گیا۔ یہاں کے کارپیٹ اور گدے اتنے موٹے ہوتے ہیں کہ اُس پر اپنے آپ کو جمانا مشکل ہوتا ہے۔ یہاں کی کاریں اس طرح کی ہوتی ہیں کہ آدمی کو اپنے ہاتھ

پاوں بلکہ شاید عقل بھی استعمال نہ کرنا پڑے۔ کاریں تقریباً خود بخود سڑک پر دوڑتی ہیں۔ بلڈنگوں میں ضرورت سے زیادہ کنڈیشننگ کا عام رواج ہے۔ میں نے دیکھا کہ بلڈنگ کے باہر نہایت خوش گوار موسم ہے۔ مگر بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی اتنی ٹھنڈک ہوتی تھی کہ میرے جیسا آدمی سخت پریشان ہو جائے ۔ یہ بلا شبہ کمفرٹ سے بڑھ کر اینٹی کمفرٹ اور لکوری سے بڑھ کرائینیٹ لکوری ہے۔ میرے نزدیک، یہ ایک غیر فطری کلچر ہے۔

اس مصنوعی اور غیر فطری کلچر نے امریکا کو دو بڑے نقصان سے دوچار کیا ہے۔ افراد کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کے عمل کا رک جانا، اور دوسرا ہے قومی اور سیاسی برتری (political supremacy) کے حصول کے لیے ساری دنیا کو پرابلم میں مبتلا کر دینا۔ اس قسم کے مصنوعی کلچر کو باقی رکھنے کے لیے بھاری قیمت درکار ہوتی ہے۔ اس کے لیے امریکا کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی انڈسٹری کی مشین کو ضرورت سے زیادہ چلاتا ہے۔ اس کا نتیجہ خطر ناک فضائی آلودگی (air pollution) کی صورت میں نکل رہا ہے۔

یہاں اپنے مشن کے ساتھیوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو ایک معاملے میں بہت زیادہ حساس ہونا چاہیے ۔ وہ ہے— اپنے آپ کو بچاؤ (save yourself) کا اصول۔ کہا کہ تحریکوں کی تاریخ، مذہبی اور سیکولر، دونوں بتاتی ہے کہ قابل کار افراد صرف پہلے مرحلے میں ملتے ہیں، بعد کے مرحلے میں نہیں۔ مثلاً کمیونسٹ تحریک میں پہلے مرحلے میں اینجلز اور لینن جیسے لوگ ملے، مگر بعد کو ایسے لوگ کمیونسٹ تحریک کو نہ مل سکے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی میں پہلے مرحلے میں گاندھی اور نہرو جیسے لوگ ملے، مگر بعد کی تاریخ میں ایسے لوگ نہ مل سکے، وغیرہ۔

یہی حال اسلامی تاریخ کا بھی ہے۔ مثلاً پہلے مرحلے میں ابو بکر و عمر جیسے لوگ ملے، مگر بعد کے مرحلے میں ایسے لوگ نہ مل سکے۔ اس معاملے میں ہماری دعوتی تحریک کوئی استثنا نہیں۔ ہماری تحریک پہلے مرحلے میں ہے۔ اس وقت جو لوگ اس تحریک کو ملے ہیں، وہی آخری لوگ ہیں، بعد کے مرحلے میں ایسے لوگ دوبارہ ملنے والے نہیں۔ اس لیے آپ لوگ اپنی قیمت کو پہچانے۔

بھی دوسرے تقاضے کے دباؤ کو ہرگز قبول نہ کیجئے، خواہ وہ خاندانی دباؤ ہو یا خاندان سے باہر کا کوئی آپ لوگ اس دعوتی تحریک کا واحد سرمایہ (asset) ہیں۔ اس مشن میں آپ کو ایک تاریخی رول ادا کرنا ہے۔ صحابہ کے واقعات بتاتے ہیں کہ وہ اس راز کو جانتے تھے۔ چناں چہ انھوں نے اپنے مقصد کے سوا کسی بھی دوسرے تقاضے کا ہرگز اثر نہیں لیا۔ صحابہ کی یہی وہ صفت ہے جس کو قرآن میں أشداء على الكفار کہا گیا ہے۔ اس آیت میں أشداء کا مطلب معروف معنی میں، شدید نہیں ہے، بلکہ یہ غیر اثر پذیری کے معنی میں ہے، یعنی اصحاب رسول کسی بھی حال میں کسی خار جی اثر یا دباؤ (pressure) کو قبول نہیں کرتے تھے۔

3 جولائی 2011 کی صبح کو میں ہوٹل ہیٹ (Hyat) میں اپنے کمرے کے باہر دھوپ میں بیٹھا اُس وقت خواجہ کلیم الدین صاحب اور ڈاکٹر وقار عالم صاحب آئے۔ کلیم الدین صاحب نے مجھ کو دھوپ میں بیٹھا ہوا دیکھ کر کہا کہ درختوں کو فوٹو سنتھیسس (photosynthesis) کے عمل کے لیے دھوپ کا انتظار رہتا ہے۔ اسی طرح آپ کو بھی دھوپ کا انتظار رہتا ہے، تا کہ آپ اسپرچول فوٹو سنتھیسس (spiritual photosynthesis) کا عمل انجام دے سکیں۔

دھوپ میں بیٹھنا مجھے پیدائشی طور پر پسند ہے۔ میں بچپن سے دھوپ میں بیٹھتارہا ہوں۔ میں جب میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا، اُس وقت بھی میں گاؤں کے باہر بنے ہوئے ایک پل پر صبح شام جاکر دھوپ میں بیٹھا کرتا تھا۔ بعد کو مطالعے کے ذریعے مجھ کو معلوم ہوا کہ دھوپ میں بیٹھنا صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو غسلِ آفتابی (sun bath) کہتے ہیں۔ 3 جولائی 2011 کی سہ پہر کو اسنا (ISNA) کے تحت یہاں کے ایک ہال میں ایک خصوصی اس میں تین مصنفین کی کتابیں ٹیبل پر رکھی گئی تھیں اور اُن کو موقع دیا گیا تھا کہ وہ اپنی اپنی کتابوں پر تعارفی تقریر کریں اور اس کے بعد سوالات کا جواب دیں۔ پروگرام کا آخری جز یہ تھا کہ لوگ کتابیں خرید کر مصنف سے اس کا آٹو گراف لیں۔ میرے پاس لوگوں کی لائن لگ گئی۔ لوگوں نے یہاں سے میری انگریزی کتابیں خریدیں اور اُن پر میرا آٹو گراف لیا۔

شکاگو کے پروگرام میں میرے ساتھیوں نے وہاں ایک بک اسٹال لگایا۔ 4 دن کے اس پروگرام میں کافی لوگ اسٹال پر آئے۔ انھوں نے یہاں سے کتابیں خریدیں۔ یہاں بہت سے ایسے لوگ ملے جو مجھ کو پہلے سے جانتے تھے۔ یہ بہت بڑا پروگرام تھا۔ غیر معمولی طور پر وسیع ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر ملک کے مسلمان یہاں دکھائی دئے۔ مگر میرے تجربے کے مطابق، تقریبا سب کے سب لوگ یا تو انٹرٹینمنٹ کے لیے یہاں آئے تھے، یا شاپنگ کے لیے یا ڈونیشن کے لیے۔ کے مطابق، یہاں صرف ہمارے ساتھیوں کا اسٹال مشن کے لیے تھا۔

یہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ میرے ایک دوست کے لڑکے کا آج نکاح ہے۔ اس میں شرکت کے لیے میں شکاگو آیا ہوں۔ میں نے اُن کو بطور گفٹ دینے کے لیے تذکیر القرآن (انگریزی) لیا ہے۔ میں نے مزید اُن صاحب کو اپنی ایک نئی کتاب (The Secret of a Successful Family Life) دی۔ اس کتاب پر میں نے حسب ذیل جملہ لکھ کر مذکورہ صاحب کو دے دیا:

Marriage is adjustment, and love marriage is extra adjustment. یہاں ایک بک اسٹال پر میں بیٹھا ہوا تھا۔ دو مسلم نوجوان ملاقات کے لیے آئے۔ کے دوران انھوں نے بتایا کہ 6 مہینے پہلے ان کا نکاح ہوا ہے، لیکن ہم دونوں روزانہ ایک دوسرے پر غصہ ہوتے ہیں اور باہم آرگو مینٹ (argument) ہوتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہماری زندگی میں سکون نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم دونوں پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں، اِس کے باوجود جھگڑا ختم نہیں ہوتا۔

میں نے کہا کہ آپ لوگ رجچول عبادت (ritual prayer) کرتے ہیں۔ اسپرپیچول عبادت (spiritual prayer) نہیں کرتے۔ پھر میں نے کہا کہ اسپرپیچول عبادت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ نماز میں آپ بار بار اللہ اکبر کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے_ اللہ بڑا ہے۔ مگر اس میں ایک اور بات چھپی ہوئی ہے، اور وہ یہ کہ میں بڑا نہیں ہوں۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ

آپ کے اندر ماڈسٹی (modesty) پیدا ہو۔ اگر ماڈسٹی آ جائے تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ 3 جولائی 2011 کی شام کو کئی لوگ ملاقات کے لیے ہوٹل میں آ گئے۔ ان سے دیر تک گفتگو میں نے ایک بات یہ کہی کہ عام طور پر لوگ ناقص رپورٹنگ کرتے ہیں۔ مثلاً میاں بیوی کے درمیان جھگڑے ہوتے ہیں۔ مگر جب وہ رپورٹ کرتے ہیں تو ہمیشہ یک طرفہ رپورٹ کرتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا مسئلہ صرف کسی ایک فریق کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔ حالاں کہ اس دنیا میں کبھی کوئی مسئلہ یک طرفہ نہیں ہوتا، مسائل ہمیشہ دوطرفہ سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔ ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ مسئلہ کبھی ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے۔ اسنا (ISNA) کے اس فنکشن میں ایک بہت بڑے ہال کے اندر بازار لگا ہوا تھا۔ بہت سے اسٹال تھے، جس میں طرح طرح کی چیزیں فروخت ہو رہی تھیں۔ یہاں اسٹال کے نام عجیب وغریب تھے مثلاً ایک اسٹال کا نام اسلام فیشن (Islam Fashion) تھا۔ ایک اور اسٹال کا نام قرآن اسمارٹ (Quran Smart) تھا۔ ایک اور اسٹال پر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ کی دھن میں گیت بج رہا تھا۔ یہاں مختلف ناموں سے لوگ ڈونیشن لے رہے تھے۔ کوئی اسکول کے نام سے، کوئی مسجد کے نام سے، کوئی ریلیف ورک کے نام سے، وغیرہ۔ اِسی طرح کے ایک اسٹال پر یہ بورڈ لگا ہوا تھا: Ummah Relief International اس سے اندازہ ہوا کہ آج کل مسلمانوں کے درمیان اسلام کے نام پر بہت سے کام ہو رہے ہیں، مگر اسلام کی اسپرٹ بظاہر کہیں دکھائی نہیں دیتی۔

اسنا (ISNA) کے فنکشن میں ایک انوکھی بات یہ دکھائی دی کہ اس میں کثرت سے ایسے مسلمان ملے جو نو مسلم تھے۔ اِس میں سیاہ فام اور سفید فام دونوں طرح کے لوگ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکا میں لوگ کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔

ہوٹل کے کمرہ میں 4 جولائی 2011 کی صبح کو میری آنکھ کھلی۔ ابھی میں بستر پر تھا اور لیٹے لیٹے سفر کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اچانک خیال آیا کہ انسان عجیب وغریب طور پر دو مختلف چیزوں کا

مجموعہ ہے ۔ ایک ، دماغ اور دوسرے ، جسم ۔ ایک طرف ، اس کے اندر سوچنے والا دماغ (thinking mind) ہے ، اور دوسری طرف اس کا ورکنگ جسم (working body) ہے ۔ یہ انسان کے ساتھ خالق کا عجیب معاملہ ہے ۔ کائنات میں ایک طرف پہاڑ اور دریا جیسی مادی چیزیں ہیں ۔ ان کے پاس گویا صرف ورکنگ باڈی ہے ۔ اس کے بعد حیوانات ہیں ۔ ان کے پاس ورکنگ باڈی ہے ، اور سوچنے کی طاقت اتنی کم ہے کہ ان کا دماغ بھی گویا ورکنگ دماغ کی حیثیت رکھتا اس کے بعد انسان ہے جس کے پاس پورے معنوں میں ایک تھنکنگ دماغ ہے اور پورے معنوں میں ایک ورکنگ باڈی ۔ انسان کی یہی امتیازی صفت ہے جس کی بنا پر قرآن میں انسان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کو احسن تقویم کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے ۔ اسی احسن تقویم کی بنا پر انسان کے لیے دو چیزیں ممکن ہوتی ہیں ۔ پہلے پلاننگ کرنا اور پھر اس کو عمل میں لانا ۔ بیک وقت یہ دونوں چیزیں انسان کے سوا کسی دوسری مخلوق میں نہیں پائی جاتیں ۔

امریکہ کے اس سفر میں ، میں مختلف مقامات پر گیا اور کثرت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ اس سے اندازہ ہوا کہ امریکہ میں بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو مجھ کو جانتے ہیں ۔ والوں میں ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی اور عیسائی بھی اور یہودی بھی ۔ مگر تقریباً ہر ایک ’’ڈالر کلچر‘‘ میں اتنا زیادہ گم ہے کہ اس کو ہمارے دعوتی مشن میں اس کا ساتھ دینے کا موقع نہیں ۔ وہ لفظی طور پر ہمارے مشن کی خوب تعریف کر سکتا ہے ، مگر عملی طور پر کچھ کرنے کے لیے اس کے پاس وقت نہیں ۔ امریکہ کے اس سفر میں ایک بات کا مجھ کو شدت کے ساتھ احساس ہوا ، وہ یہ کہ لوگوں میں دو قسم کے ذہن ہوتے ہیں ۔ معمولی ذہن اور غیر معمولی ذہن ۔ یہاں مجھے کئی ایسے لوگ ملے جو بظاہر دین کے کام میں لگے ہوئے تھے ، مگر عام طور پر وہ اوسط ذہن کے تھے ۔ جو زیادہ ذہین لوگ ہیں ، وہ تقریباً سب کے سب مادی کلچر میں غرق ہیں ۔ ان کو دین کے بارے میں سوچنے کا موقع نہیں ۔ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے مجھ کو حضرت عمر فاروق کا ایک قول یاد آیا ۔ حضرت عمر نے لمبے تجربے کے بعد کہا تھا: اللهم إني أعوذ بك من ضعف الأمين، وخيانة القوي (خدایا، میں تجھ

سے پناہ مانگتا ہوں امانت دار شخص کے ضعف سے، اور قوی انسان کی خیانت سے )۔ گویا جو لوگ دین دار ہیں، وہ عام طور پر ضعیف العقل اور کمزور ہیں۔ اور جو قوی العقل ہیں، وہ دین دار نہیں۔ امریکا جانے سے پہلے، دہلی میں میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ اس وقت امریکا کا موسم کیا سب لوگوں نے بتایا کہ یہاں اس وقت گرمی کا موسم ہے۔ چناں چہ میں اپنے ساتھ گرم کپڑے نہیں مگر امریکا آنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ باہر کی دنیا میں تو ضرور گرمی ہے، مگر بلڈنگوں کی دنیا میں ائرکنڈیشننگ کی وجہ سے سردی۔ اس تجربے کے بعد میں نے سوچا کہ انسان کی پلاننگ کیوں ناقص ہوتی اس کا سبب یہ ہے کہ وہ معاملہ کے صرف کچھ پہلوؤں کو جان پاتا ہے اور کچھ دوسرے پہلوؤں سے وہ بے خبر رہتا ہے۔ ہر پہلو سے کامل واقفیت کے بعد منصوبہ بندی کرنا صرف خدائے عالم الغیب کے لیے ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی دنیا میں ہمیشہ ناقص پلاننگ کے نتائج دکھائی دیتے ہیں، جب کہ نیچر میں منصوبہ بندی اتنی کامل ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کا کوئی خلا اب تک دریافت نہ ہو سکا۔ ہوٹل میں جس اسٹوری (منزل) میں میرا کمرہ تھا، اس میں میں نے دیکھا کہ 212 کے بعد 214 نمبر آگیا۔ درمیان میں 213 نمبر کمرہ موجود نہیں۔ میں نے یہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ کمرہ نمبر 213 کیوں موجود نہیں۔ معلوم ہوا کہ امریکا میں 13 کے عدد کو منحوس عدد سمجھا جاتا ہے۔ سے بلڈنگوں میں اسٹوری نمبر 13 نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہاں روم نمبر 13 بھی نہیں ہوتا۔ یہ یقینی طور پر توہم پرستی (superstition) کی بات ہے۔ امریکا جیسے ملک میں اس قسم کی توہم پرستی عجیب ہے، مگر وہ بہت زیادہ عام ہے۔ صدر رونالڈ ریگن امریکا کے پریزیڈنٹ تھے، لیکن ان کا یہ حال تھا کہ وہ سونے کا نعل اپنی کوٹ کی اندرونی جیب میں ہمیشہ رکھتے تھے۔ وہ اس کو اپنے لیے اچھا شگون (good omen) سمجھتے تھے۔ اس قسم کی تو ہم پرستی ساری دنیا میں عام ہے، حتی کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بھی اس طرح کی توہم پرستی کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ زندگی میں بار بار انسان یہ تجربہ کرتا ہے کہ یہاں کوئی نامعلوم عامل (unknown factor) ہے جو ہمارے کنٹرول سے باہر ہے۔ خدا پر سچا عقیدہ رکھنے والا اُس کو خدا سے

منسوب کر کے توجیہہ کر لیتا ہے، لیکن جو لوگ خدا کو نہ مانیں، وہ اس کی توجیہہ نہیں کر पाते۔ ہوتا ہے وہ تو ہم پرستانہ نظریات کے تحت اس کی توجیہہ کرنے لگتے ہیں۔

4 جولائی 2011 کی صبح کو اسنا (ISNA) کے بانی ڈاکٹر سید سعید (70 سال) ہوٹل میں مجھ سے ملاقات کے لیے آئے۔ وہ میرے مشن سے اور میرے حالات سے واقف تھے۔ انھوں نے میری استقامت کا اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے بعض نظریات کی بہت زیادہ مخالفت ہوئی ، لیکن آپ اپنے اصول پر قائم رہے۔ اب یہ حال ہے کہ عام طور پر لوگ آپ کے نظریات سے اتفاق کر رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس انفراسٹرکچر ہے اور آپ کے پاس لٹریچر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اور آپ کے درمیان تعاون کی صورت پیدا ہو۔ اس سے دعوتی اعتبار سے دونوں کو فائدہ ہوگا۔ انھوں نے ہمارے مشن سے پوری طرح اتفاق کیا۔ انھوں نے دعوت دی کہ میں دوبارہ امریکا آؤں اور اسنا (ISNA) کے پروگرام میں شرکت کروں۔

9/11 کے بعد عام طور پر مسلمانوں کو شبہہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ اُن کو محسوس ہوا کہ اس سے پہلے ہم امریکا میں عزت کے ساتھ رہ رہے تھے، اب ہم کو ذلت کے ساتھ رہنا پڑے گا۔ یہاں کے مسلمانوں میں ایک نیا ذہن پیدا ہوا ہے۔ انھوں نے اب بھی مسلم ملٹنسی کو کھلے طور پر کنڈم نہیں کیا ہے، البتہ انھوں نے یہ کیا ہے کہ پیچ اپ (patch up) کر کے ایک درمیانی راستہ نکالا مثلاً کرسچن پڑوسی کو پھول کا تحفہ پیش کرنا، انٹرفیتھ ڈائیلاگ کر کے اس میں خوش نما تقریریں کرنا، اکیڈمیوں میں داخل ہو کر ٹالرنس کے موضوع پر مقالات لکھنا اور لکچر دینا، کچھ ظاہری کارروائی کر کے یہ ظاہر کرنا کہ ہم امریکا کے وفادار شہری ہیں۔ اسی طرح امریکا کے بڑے بڑے لیڈروں کو مسلم اداروں میں بلا کر تقریریں کروانا، امن کے موضوعات پر ڈاکومنٹری بنانا، وغیرہ۔ ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ آج کل امریکی مسلمانوں کی کوششوں کا خاص نشانہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکا میں اسلام کو با عزت جگہ ملے: We want a dignified presence of Islam in America.

میں نے کہا اس قسم کی نمائشی تدبیروں سے کچھ ہونے والا نہیں۔ اصل یہ ہے کہ آپ مسلم ملٹنسی کو کھلے طور پر کنڈم کریں۔ ماضی کی غلطی کو مانتے ہوئے صحیح معنوں میں امن پسند بنیں۔ مزید یہ کہ آپ پر امن دعوہ ورک کریں۔ دعوہ ورک آپ کو اس ملک میں دینے والا گروپ (giver group) بنا دے گا۔ جب تک آپ دینے والے (giver) نہ بنیں ، آپ کو عزت کا مقام ملنے والا نہیں۔ میں نے کہا کہ مذکورہ جملے میں اسلام کی جگہ مسلم رکھ دیجیے تو یہاں کے مسلمانوں کی سرگرمیوں کا مشترک ٹائٹل مل جاتا ہے۔ ان سرگرمیوں کا اصل نشانہ امریکی مسلمانوں کو با عزت زندگی دلانا ہے، لیکن اس کو اسلام کا نام دے دیا گیا ہے۔ اس قسم کی کلچرل سرگرمیوں سے مسلمانوں کو با عزت زندگی حاصل ہونے والی نہیں۔ با عزت زندگی کا راز صرف ایک ہے، اور وہ ہے دعوت الی اللہ کا کام انجام دینا۔ عرصہ ہوا امریکہ میں ایک ادارہ قائم ہوا تھا۔ اس ادارے کا نام یہ تھا: Islamization of Knowledge اس ادارے کو مسلمانوں کا بڑا تعاون حاصل ہوا۔ اس ادارے کے ایک ممبر سے ملاقات میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ کو لمبی مدت تک کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ بتائیے کہ اس کا مثبت نتیجہ کیا نکلا۔ مگر وہ کوئی خاص بات نہ بتا سکے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اُن کاموں میں خوب تعاون کرتے ہیں جس میں اُن کو مسلم فخر کی غذا ملتی ہو۔ آف نالج ، اسلامائزیشن آف بینکنگ، اسلامائزیشن آف پائٹکل سسٹم ، وغیرہ ۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل کام اسلامائزیشن آف مین (Islamization of man) ہے، یعنی اسلامی بنیادوں پر ربانی شخصیت کی تعمیر، مگر اس کام سے غالباً کسی مسلمان کو کوئی دلچسپی نہیں۔ میرے ہوٹل کے کمرے میں ایک بڑے سائز کا ٹی وی رکھا ہوا تھا۔ ہمارے ساتھی نے ایک بار اس کو کھولا تو اسکرین پر بڑے حروف میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :

Welcome Maulana Wahiduddin Khan to the Hyat Regency. ہوٹل کے ایک رکن نے بتایا کہ ہمارے ہوٹل میں جب کسی ملک کی کسی خاص شخصیت کا قیام ہوتا

ہے تو ہم اس طرح اس استقبال کرتے ہیں ، تا کہ ہوٹل میں قیام پذیر لوگوں کو اس کا علم ہو جائے ۔ ایک صاحب جو پاکستان سے آ کر یہاں مقیم ہوئے ہیں ، انھوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ امریکا میں مقیم مسلمانوں کے اندر حب وطن کا جذبہ نہیں ہے ۔ آپ کا یہ کہنا صحیح نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے مسلمانوں کے اندر امریکا کے لیے حب وطن کا جذبہ پوری طرح موجود میں اس کا ثبوت دیتا ہوں ۔ میری ایک بیٹی جو امریکا میں پیدا ہوئی ، وہ میرے ساتھ پاکستان وہاں اس نے کہا کہ میں امریکا کو مس (miss) کر رہی ہوں ۔

میں نے کہا کہ یہ آپ کی غلط فہمی ہے ۔ آپ کی بیٹی امریکا کو مس نہیں کر رہی تھی ، بلکہ وہ اُس پر عافیت زندگی کو مس کر رہی تھی جو اُس کو پاکستان میں حاصل نہیں تھی ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ حقیقتِ واقعہ کو نہیں مانتے ، اور حقیقتِ واقعہ کو نہ ماننا ہمیشہ ڈبل اسٹینڈرڈ بننے کی قیمت پر ہوتا ہے ۔ بلا شبہ اس سے زیادہ بری کوئی اور چیز نہیں ۔

4 جولائی 2011 کی سہ پہر کو ہم لوگ شکاگو کا مشہور سیرس ٹاور (Sears Tower) دیکھنے گئے ۔ اس ٹاور کا موجودہ نام ولس ٹاور (Willis Tower) ہے ۔ اس کی 103 منزلیں نیو یارک کا ورلڈ ٹریڈ ٹاور ، ٹوئن ٹاور (Twin Tower) تھا۔ شکاگو کا یہ ٹاور ، سنگل ٹاور (Single Tower) ہے ۔

لفٹ کے ذریعے ہم لوگ اس ٹاور کے اوپر گئے ۔ اوپر سے دیکھنے میں نیچے کی چیزیں چھوٹی نظر آتی اس ٹاور کے اوپر پہنچ کر مجھے یاد آیا کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا کے کچھ مخالفین نے نیو یارک کے ٹاور کو ہوائی جہاز سے ٹکرا کر ڈھا دیا ۔ مگر شکاگو کا ٹاور اپنی شان و شوکت کے ساتھ اب بھی موجود ہے ۔ اُس وقت مجھے یاد آیا کہ جب برطانیہ کا کوئی بادشاہ مرتا ہے تو وہ کہتے ہیں :

The king is dead, long live the king!

یعنی بادشاہ مرگیا ، بادشاہ ہمیشہ زندہ رہے ۔ اسی طرح یہ کہنا درست ہوگا کہ : American tower is demolished, long live the American tower.

سیرس ٹاور (Sears Tower) کی بلڈنگ کو ایک مسلمان نے بنایا تھا۔ اُن کا نام یہ تھا— فضل الرحمٰن خاں۔ ٹاور کے فرسٹ فلور پر مٹل (metal) کا ایک اسٹیچو فضل الرحمٰن خاں کا بنا ہوا تھا۔ اسٹیچو کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :

The Structural Engineers Association of Illinois Recognizes Fazlur Rahman Khan as one of the great structural engineers of our time. (Chicago, April, 1988)

فضل الرحمٰن خاں آرکیٹیکچرل انجینئر تھے۔ وہ بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے۔ 1982 میں ان کا انتقال ہو گیا، جب کہ اُن کی عمر صرف 52 سال تھی۔ ان کا انتقال ہارٹ اٹیک میں ہوا تھا۔ ہارٹ اٹیک کا سبب اکثر اسٹریس (stress) ہوتا ہے، اور اسٹریس کا سبب اسپرچوئلیٹی سے محرومی ہے۔ فضل الرحمٰن خاں کے اسٹریس کا سبب غالباً یہ تھا کہ وہ معیار پسندی کی حد تک ہیومنسٹ (Humanist) میں نے سوچا کہ فضل الرحمٰن خاں نے فزیکل ٹاور بنایا، لیکن وہ غالباً اسپرچوئل ٹاور نہ بنا سکے۔ ایک عجیب سبق ہے جو اُن کی زندگی سے ملتا ہے۔

انجینئر فضل الرحمٰن خاں کے معاملے میں امریکا نے جس اعلیٰ اعتراف اور قدردانی کا ثبوت دیا ہے، اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا کی ترقی کا راز کیا ہے۔ وہ راز ایک لفظ میں امتیاز (excellence) ہے۔ امریکا میں امتیازی لیاقت کو فوقیت دی جاتی ہے۔ جس شخص کے اندر یہ صلاحیت ہو، وہ خواہ کسی گروہ سے تعلق رکھتا ہو، اس کو امریکا میں اپنی صلاحیت کی بھر پور قیمت ملے گی۔ سیرس ٹاور سے واپسی کے بعد میں ہوٹل ہیئت سے ہلٹن ہوٹل میں چلا گیا۔ کیوں کہ ہمارے دوسرے ساتھی اِسی ہوٹل میں مقیم تھے۔ ایک رات ہلٹن میں رہ کر صبح کو دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ 5 جولائی 2011 کو صبح کا وقت ہے۔ میں ہلٹن ہوٹل کی ایک بڑی کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوں۔ کی روشنی میں باہر کی تمام چیزیں صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ ہوٹل شکاگو ائر پورٹ کے بہت قریب ہے، اس لیے یہاں جہاز کی پرواز بہت نیچی ہو جاتی ہے۔ ایک طرف سڑکوں پر کاریں دوڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ دوسری طرف ہوائی جہاز فضا میں چڑیوں کی طرح اوپر اڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کل میں سمندر کے کنارے

وہاں ساحل پر سمندر کے کنارے ہر طرف بحری جہاز دکھائی دے رہے تھے۔ ان مناظر کو دیکھ کر مجھ کو قرآن کی یہ آیت یاد آئی : ولقد کرمنا بني آدم وحملناہم في البر والبحر (70:17) امریکہ کے سفر میں جہاں بھی گیا، ہر جگہ ہندوستان اور پاکستان کے لوگ کثرت سے ملے۔ دونوں ملکوں کے لوگ بڑی تعداد میں آکر یہاں آباد ہوئے ہیں اور اکثر وہ اپنی فیملی کے ساتھ یہاں یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ 1947 سے پہلے انڈیا اور پاکستان دونوں جگہ کے رہنما رومانٹک باتیں کرتے تھے۔ انڈیا کے لیڈر یہ کہتے تھے کہ آزادی کے بعد وہ انڈیا میں سوشلسٹ نظام بنائیں گے، اور پاکستان کے لیڈر یہ کہتے تھے کہ پاکستان بننے کے بعد وہاں اسلامی نظام بنایا جائے گا۔ کے لیڈر مشترک طور پر امریکی ماڈل کے خلاف بولتے تھے، جو کہ اُن کے نزدیک سرمایہ داری اور پرائیویٹ اکانمی کے اصول پر مبنی تھا۔ مگر 1947 کے بعد دونوں جگہ کے لوگ بڑی تعداد میں اپنے ملک کو چھوڑ کر امریکہ چلے گئے۔ مگر امریکہ میں مقیم انڈیا اور پاکستان کے لوگوں میں سے کوئی بھی شخص مجھے نہیں ملا جو یہ مانے کہ 1947 سے پہلے ہم غلطی پر تھے۔ سب کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے لیڈروں کی غلطی کو مانے بغیر امریکہ میں اپنی فیملی کے لیے جگہ بنانے میں مشغول ہیں۔ یہ لوگ اگر اپنی غلطی کو مان لیتے تو ان کے لیے یہاں رہنا جائز ہوتا۔ لیکن اپنی غلطی کو مانے بغیر اس طرح امریکہ میں آباد ہونا صرف دہر اپن ہے، اور دہر اپن بلاشبہ اعلیٰ شخصیت کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ 5 جولائی 2011 کو ہم لوگ صبح کو 11 بجے ہلٹن ہوٹل سے نکل کر ائر پورٹ کے لیے روانہ یہ ہوٹل، ائر پورٹ سے بہت قریب ہے۔ ائر پورٹ پر اقبال صاحب اور ان کی فیملی کے دوسرے ممبران ملاقات کے لیے آئے۔ وہ سب کے لیے کھانا لے کر آئے تھے۔ کھانے سے فراغت کے بعد یہاں ایک مختصر کلاس ہوئی۔ تقریباً 15 افراد تھے۔ ان میں عورتیں اور مرد دونوں تھے۔ حدیث: ذاق طعم الإيمان، من رضي بالله رباً، وبالإسلام دینًا، وبمحمد رسولاً (صحيح مسلم، رقم الحديث : 34) کی روشنی میں آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ اس میں تزکیہ اور تربیت کے اعتبار سے میں نے چند باتیں کہیں ۔ یہ تقریر اُسی وقت ریکارڈ کر لی گئی۔

شکاگو سے دہلی کے لیے ڈائرکٹ فلائٹ ہے جو تقریباً 13 گھنٹے میں دہلی پہنچتی ہے۔ تقریباً 13 ہزار کلومیٹر ہے۔ یہ ایک نان اسٹاپ پرواز ہے۔ راستے میں مجھ کو نیند آگئی۔ بہت دیر تک میں سوتا رہا۔ اس طرح آسانی کے ساتھ راستہ طے ہو گیا۔

دہلی سے شکاگو کے سفر میں ایک واقعہ پیش آیا۔ ہمارے قریب بزنس کلاس کی تین سیٹ ایک شخص کے پاس تھی۔ اُس کے لیے، اُس کی بیوی کے لیے اور اس کے چھوٹے بچے کے لیے۔ دو سال کا تھا۔ بچہ کسی وجہ سے مسلسل روتا چلا تار ہا۔ اس کی ماں گھنٹوں اس کو گود میں لے کر بہلاتی رہی، لیکن وہ چپ نہیں ہوتا تھا۔ گھنٹوں کے بعد غالباً بچہ تھک کر سو گیا۔ اس کی ماں ذرا بھی غصہ نہ ہوئی اور نہ اس نے کسی قسم کی پریشانی کا اظہار کیا۔ وہ نارمل طریقے سے بچے کو چپ کرانے کی کوشش کرتی رہی۔ جہاز جب دہلی ائر پورٹ پر اترا تو ڈاکٹر فریدہ خانم، قرآن کے انگریزی ترجمے کا ایک نسخہ لے کر اُس عورت کے پاس گئیں۔ انھوں نے اس کو قرآن کا ترجمہ دیا اور کہا:

Printed page