I admire your patience. Here is a gift for you.
Al-Risala, February 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
اُس عورت نے نہایت شوق سے قرآن کا نسخہ لیا۔ عورت انڈین تھی اور اس کا شوہر امریکن تھا۔ یہ ایک سادہ واقعہ ہے، لیکن اس میں بہت بڑا سبق ہے، وہ یہ کہ قرآن کا انگریزی ترجمہ جب چھپ کر تیار ہو چکا ہے تو اس کے بعد کسی کو کچھ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ موقع کے لحاظ سے تالیف قلب کا ایک جملہ بولے اور قرآن کا ایک نسخہ مخاطب کو پیش کر دے۔ 15 جون 2011 کو میں دہلی سے امریکا گیا۔ 6 جولائی 2011 کو دوبارہ دہلی واپسی ہوئی۔ تین ہفتہ کے سفر کے بعد جب میں دہلی واپس آیا تو میں نے پایا کہ سفر سے پہلے جو کچھ مجھے دہلی میں ملا ہوا تھا، وہ دوبارہ میرے لئے اُسی طرح یہاں موجود تھا۔ اس تجربے سے میری سمجھ میں آیا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ موت کے واقعہ سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔ وہ ہر سفر کے بعد جب واپس آتے ہیں تو وہ دیکھتے ہیں کہ سب کچھ پہلے کی طرح یہاں ان کے لیے موجود ہے۔ اس طرح غیر شعوری طور پر ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ موت کے بعد بھی اُن کو وہ سب کچھ اسی طرح حاصل رہے گا جو موت سے
پہلے ان کو یہاں حاصل تھا۔
آدمی شام کے وقت سوتا ہے پھر صبح کے وقت جب وہ اٹھتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ وہ سب کچھ دوبارہ یہاں اس کے لیے موجود ہے جو شام کو سونے سے پہلے اس کو ملا ہوا تھا۔ وہ صبح کو اپنی زندگی کا ایک سفر شروع کرتا ہے اور جب شام ہوتی ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ جو کچھ اس کو صبح کے وقت ملا ہوا تھا، وہ شام کے وقت دوبارہ اس کو ملا ہوا ہے۔ یہ صورت حال آدمی کے اوپر روزانہ گزرتی ہے۔ یہ گویا ایک کنڈیشننگ ہے، جو ہر عورت اور مرد کے ساتھ روزانہ پیش آتی ہے۔ یہی کنڈیشننگ موت سے غفلت کی سب سے بڑی وجہ ہے، حتیٰ کہ لوگ دوسروں کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں تب بھی وہ خود اپنے بارے میں سوچ نہیں پاتے کہ انھیں بھی ایک دن مرنا ہے اور مرنے کے بعد سب کچھ چھوڑ کر دنیا سے چلے جانا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ موت کے بارے میں اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ (conditioned mind) کی بہت زیادہ ڈی کنڈیشننگ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں اپنے شعور کو بیدار کرے، وہ اس معاملے میں اپنی کنڈیشننگ کو بہت زیادہ توڑے ۔
تین ہفتے کے بیرونی سفر کے بعد 6 جولائی 2011 کی شام کو جب میں اپنے وطن دہلی واپس آیا تو یہ میرے لیے وہ تجربہ تھا جس کو ہوم کمنگ (home coming) کہا جاتا ہے۔ سچے اہل ایمان کے لیے موت کے بعد آخرت کی دنیا میں داخل ہونا بھی اسی طرح ہوم کمنگ کا ایک تجربہ ہوگا۔ اللہ نے ایک جنتی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے اور موجودہ دنیا میں اس کو امتحان کے لیے رکھ دیا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں پورے اتریں، وہ موت کے بعد جنت میں اس طرح داخل ہوں گے، جیسے کوئی مسافر لمبے سفر کے بعد اپنے مانوس گھر میں داخل ہوتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: والذی نفسي بیدہ، أن أحدهم بمنزله في الجنة أهدى منه بمنزله الذي كان في الدنيا (دنیا میں کوئی شخص جس طرح اپنے گھر کو پہچانتا ہے، جنت میں جانے والا شخص اُس سے زیادہ وہاں اپنے گھر کو پہچان لے گا)۔