Al-Risala · February 2012

My son will be an empire builder.

Al-Risala, February 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

باپ کا یہ اندازہ صحیح ثابت ہوا۔ بیٹا جب بڑا ہوا تو اس نے ایک بزنس شروع کیا۔ اس کی خداداد صلاحیت کی بنا پر اس کے کام میں غیر معمولی ترقی ہوئی، یہاں تک کہ وہ اپنا ایک بزنس ایمپائر بنانے میں کامیاب لیکن یہ ایمپائر زیادہ دن تک اس کا ساتھ نہ دے سکا۔ آخر کار ایک محدود مدت کے بعد وہ بھی مر کر اس دنیا سے اُسی طرح چلا گیا جس طرح دوسرے لوگ اس دنیا میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ یہ مادی ایمپائر (material empire) کی بات ہے۔ مادی ایمپائر صرف مختصر مدت تک آدمی کا ساتھ دیتا ہے، لیکن یہاں ایک اور ایمپائر ہے جو ہمیشہ کے لیے آدمی کے ساتھ رہتا ہے۔ ایمپائر (intellectual empire) ہے۔ فکری ایمپائر سے مراد ہے ۔ ذہنی ارتقا، روحانی دریافت، شخصیت کی تعمیر، انسانی امکانات (potentials) کو واقعہ (actual) بنانا۔ یہی وہ انسان ہے جس کو مذہب کی زبان میں ربانی انسان کہا جاتا ہے۔

ربانی انسان وہ ہے جو اپنے خالق کو دریافت کرے، جو اپنی عقلی صلاحیتوں کو استعمال کر کے خدا کی معرفت حاصل کرے، جو خدا کے تخلیقی پلان کو جانے اور اس کے مطابق ، اپنی زندگی کو ڈھالنے کی کوشش کرے، جو اپنے آپ کو جنتی کردار والا انسان بنائے، یعنی ایسا انسان جس کو موت کے بعد کی دنیا میں ابدی جنت میں بسایا جائے گا۔ دوسرے لوگ اگر مادی دنیا میں اپنا ایک خارجی ایمپائر بناتے ہیں تو ایسا شخص خود اپنے اندر ایک داخلی ایمپائر بناتا ہے۔ مادی ایمپائر صرف کچھ مدت تک کسی آدمی کا ساتھ دیتا ہے، لیکن روحانی ایمپائر (spiritual empire) وہ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ تک کسی آدمی کو حاصل رہے اول الذکر ایمپائر اگر وقتی خوشی کا ذریعہ ہے، تو ثانی الذکر ایمپائر ابدی خوشی کا ذریعہ۔

Printed page