Consumerism is now the Thai religion.
Al-Risala, March 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ صورتِ حال صرف تھائی لینڈ کی نہیں ہے، بلکہ آج ساری دنیا کا سب سے بڑا مذہب وہی بن چکا ہے جس کو کنزیومرازم کہا جاتا ہے، حتیٰ کہ عملاً اُن لوگوں کا بھی جو بظاہر روایتی قسم کے مذہبی لباس میں دکھائی دیتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ انیسویں صدی میں ساری دنیا میں ایک نیا دور شروع ہوا، جب کہ اشیاء صرف کے بارے میں ایک نیا تصور دنیا میں آگیا۔ یہ کلچر اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس کو کنزیومر انقلاب (consumer revolution) کہا جاتا ہے۔ اب خواہ سیکولر لوگ ہوں یا بظاہر مذہبی لوگ،
تقریبا ہر ایک کا ایک ہی کنسرن (concern) ہے ۔ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا اور بازار سے زیادہ سے زیادہ اشیاء صرف (consumer) حاصل کرنا۔
راقم الحروف نے 1961 کا ایک واقعہ ہندوستان ٹائمس کے حوالے سے اپنے ایک مضمون مطبوعہ ماہ نامہ زندگی (رام پور) میں اس طرح نقل کیا تھا: "نئی دہلی میں ہندوستان کے بین الاقوامی صنعتی میلہ میں امریکا کی طرف سے ایک ہوائی موٹر کار کی نمائش کی گئی ہے، جس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ زمین پر بھی چلتی ہے اور زمین سے چند فٹ بلند ہو کر 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا میں بھی اڑ سکتی ہے۔ اس کار کو جب ایک نوجوان سادھو نے دیکھا تو اس کے سامنے ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ کیا میں تیاگ کی زندگی کو چھوڑ کر مادی ترقیات کی دنیا میں اپنے حوصلوں کی تسکین ڈھونڈوں۔ گیروے کپڑے میں ملبوس اور لمبے بکھرے ہوئے بالوں والا یہ ہندوستانی نوجوان 20 منٹ تک اس امریکی کار کو دیکھتا رہا جس کو مستقبل کی کار (Car of the future) کا نام دیا گیا ہے۔ جب اس کے بارے میں سادھو کا تبصرہ پوچھا گیا تو اس نے گہرے تاثر کے ساتھ جواب دیا کہ اس نے مجھے اس سوچ میں ڈال دیا ہے کہ دونوں دنیاؤں میں سے وہ کون سی دنیا ہے جس کو میں اپنے لیے زیادہ بہتر سمجھوں۔ (قرآن کا مطلوب انسان، صفحہ 49) اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں ضرورت کی چیزیں بہت کم تھیں اور جو چیزیں تھیں، وہ بھی نہایت سادہ ہوتی تھیں۔ قدیم زمانے میں پرکشش سامانومات کا کوئی وجود نہ تھا۔ یہ ایک نیا ظاہرہ ہے جو جدید صنعت کے بعد دنیا میں پیدا ہوا اور انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے دوران بہت زیادہ عام ہو گیا۔ اب ساری دنیا کا یہ حال ہے کہ کوئی شخص سیکولر ہو یا مذہبی، دونوں ہی کا طرزِ فکر صرف ایک ہے اور دونوں کا معبد بھی صرف ایک ہے، اور وہ ہے شاپنگ سنٹر۔ اب آخرت کی جنت صرف ایک روایتی عقیدہ بن کر رہ گئی ہے۔ عملاً ہر ایک کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی جنت اسی دنیا میں بنانا چاہتا ہے۔ زبانِ قال یا زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ جنت آج کی دنیا میں شاپنگ سنٹر کا ایک آئٹم بن چکی ایسی حالت میں جنت کے حصول کے لیے کل آنے والی دنیا کا انتظار کرنے کی کیا ضرورت۔ ایک حدیث اس موضوع سے بہت زیادہ متعلق ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں مختصراً آئی ہے۔ امام ذہبی نے اس کو اپنی کتاب العلو للعلي الغفار في صحيح الأخبار (رقم الحديث: 98) میں تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ علامہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو تفصیلی متن کے ساتھ
تخريج مشكاة المصابیح (رقم الحدیث: 741) میں لکھا ہے۔ انھوں نے اس روایت کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں: له شاهد، إسناده حسن (اس کے حق میں شواہد موجود ہیں اور سند کے اعتبار سے یہ روایت حسن کا درجہ رکھتی ہے)۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: أن حبرا من اليهود سأل النبي - صلى الله عليه وسلم - : أي البقاع خير ؟ فسكت عنه ، وقال : أسكت ، حتى يجيء جبريل ، فسكت ، ثم جاء جبريل ، فسأله ، فقال : ما المسؤول عنها بأعلم من السائل ، ولكن أسأل ربي - تبارك وتعالى - ؛ ثم قال جبريل : يا محمد ! إني دنوت من الله دنوا ما دنوت مثله قط ؛ قال : كيف كان يا جبريل ؟ ، قال : كان بيني و بينه سبعون ألف حجاب من نور ، فقال : شر البقاع أسواقها ، وخير البقاع مساجدها۔
ترجمہ: ایک یہودی عالم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین کا سب سے بہتر مقام کون سا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ آپ نے کہا کہ ٹھہرو، یہاں تک کہ پھر وہ شخص خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد جبریل آپ کے پاس آئے تو آپ نے اُن جبریل نے کہا کہ اس سوال کے بارے میں سائل، مسئول سے زیادہ نہیں جانتا۔ اپنے رب سے پوچھوں گا۔ پھر جبریل نے کہا کہ اے محمد، میں اللہ سے اتنا زیادہ قریب ہوا جتنا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا اے جبریل۔ جبریل نے کہا کہ میرے اور خدا کے درمیان ستر ہزار نورانی پردے تھے۔ اُس وقت اللہ نے جواب دیا کہ ــــ زمین کا سب سے برا مقام بازار ہیں اور سب سے اچھا مقام مسجدیں ہیں۔
یہ حدیث آج کے حالات میں زیادہ قابل فہم ہوگئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے کے اسواق (شاپنگ سنٹر) زمین کا سب سے زیادہ برا مقام (evil spot) بن گئے ہیں۔ سنٹروں نے انسان کی سوچ کو بالکل بدل دیا ہے۔ اب انسان کی سوچ کا مرکز نہ خدا ہے اور نہ جنت اور نہ اونچے اقدار (high values)۔ اب ہر عورت اور مرد دیوانگی کی حد تک ایک ہی چیز کا طالب
بن گیا ہے اور وہ ہے دور جدید کے پر رونق شاپنگ سنٹروں میںجانا اور وہاں شاپنگ کرنا۔ اللہ کے فضل سے مجھے شاپنگ کا کوئی شوق نہیں۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ ہمارے گاؤں سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہر سال دسہرہ بازار لگتا تھا۔ بچے وہاں جاتے تھے اور مجھ کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ دوسرے بچوں کا حال یہ تھا کہ دسہرہ بازار میں وہ نہایت شوق کے ساتھ خریداری کرتے تھے اور خالی جیب کے ساتھ گھر واپس آتے تھے۔ اس کے برعکس، میرا حال یہ تھا کہ جاتے ہوئے میری ماں میری جیب میں کچھ پیسے ڈال دیتی تھیں، مگر میں دسہرہ بازار میں کوئی خریداری نہیں کرتا تھا اور واپس آ کر پورا پیسہ اپنی ماں کو لوٹا دیتا تھا۔ کانفرنسوں میں شرکت کے سلسلے میں مجھے مختلف ملکوں میں سفر کرنے کا موقع ملا۔ دیکھتا تھا کہ کانفرنس کے شرکا کا نفرنس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد مقامی بازار میں جاتے تھے اور اپنے متعلقین کے لیے باقاعدہ خریداری (shopping) کرتے تھے۔ لیکن میں کبھی کسی ملک کے بازار میں خریداری کے لیے نہیں گیا۔ 1998 کا واقعہ ہے۔ میں ایک انٹر نیشنل کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکا گیا۔ وہاں میرے کچھ ساتھی ــ خواجہ کلیم الدین، فاروق چشتی، وغیرہ اپنے ساتھ مجھ کو بازار لے گئے۔ وہاں اپنے لیے ان کو اوور کوٹ (over coat) خریدنا تھا۔ ہر ایک نے اپنی پسند کے مطابق، اوور کوٹ خریدا اور پھر مجھ سے کہا کہ آپ بھی کوئی کوٹ پسند کیجیے، ہم اس کو خرید کر آپ کو بطور تحفہ دیں گے۔ مگر میں کوٹ کے شوروم سے الگ کھڑا ہو کر اپنے خیالات میں گم رہا۔ نے کوٹ کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ میری اس بے رغبتی کو دیکھ کر میرے ایک ساتھی نے کہا کہ ــ آج میں نے یہ جانا کہ دنیا کتنی زیادہ حقیر ہے۔
کشش گنج (بہار) میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: CPG Messege Forum At+P.O. Bahadurganj, Main Road Kishanganj. Pin-855101, Bhihar Mob. 9470272115, 9430900563