Al-Risala · March 2013

فکرِ مغرب

Al-Risala, March 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

فکرِ مغرب (western thought) کیا ہے۔ فکرِ مغرب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، سائنسی طرزِ فکر (scientific thinking) کا نام ہے، اور سائنسی طرزِ فکر پورے معنوں میں ایک درست طرزِ فکر ہے۔ وہ بجائے خود اسلامی فکر نہیں ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک موافقِ اسلام طرزِ فکر ہے۔ وہ اسلام کے حق میں ایک مؤید علم (supporting knowledge) کی حیثیت رکھتا اصل مغربی فکر نہ غیر اسلامی فکر ہے اور نہ وہ کسی بھی اعتبار سے، اسلام دشمن فکر ہے۔ قرآن کی سورہ الاحقاف میں یہ آیت آئی ہے: قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَّا تَدْعُونَ مِنْ دُوْنِ اللَّهِ أَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شُرْكٌ فِي السَّمَوتِ ائْتُوْنِي بِكِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ هَذَا أَوْ أَثارَةٍ مِّنْ عِلْمٍ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (46:4) یعنی کہو کہ کیا تم نے غور کیا اُن چیزوں پر جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ مجھے دکھاؤ کہ انھوں نے زمین میں کیا بنایا ہے، یا آسمانوں میں ان کی کچھ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لے آؤ، یا کوئی علم جو چلا آتا ہو، اگر تم سچے ہو۔ مفسر ابن کثیر (وفات: 774 ہجری) نے درست طور پر لکھا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں دو قسم کے علم کو بطور مستند علم (authentic knowledge) تسلیم کیا گیا ہے— ایک، علمِ نقلی اور دوسرا علم نقلی سے مراد مبنی بروحی علم ہے اور علم عقلی سے مراد وہ علم ہے جو عقلِ انسانی پر مبنی ہو۔ تاہم علم عقلی سے مراد صرف وہ علم نہیں ہے جو عباسی دور کے معتزلہ اور متکلمین کے درمیان پایا جاتا تھا، بلکہ توسیعی طورپر اُس سے مراد سائنسی دور کا وہ جدید علم بھی ہے جس کو عقلی علم (rational knowledge) کہا جاتا ہے۔

اس جدید عقلی دور کا آغاز اٹلی کے سائنس داں گلیلیو (Galileo Galilei) سے ہوا۔ وفات 78 سال کی عمر میں 1642 میں ہوئی۔ گلیلیو پہلا شخص ہے جس نے دوربین (telescope) کا گلیلیو کو جدید سائنس کا بانی (founder of modern science) کہا جاتا ہے۔

گلیلیو سے پہلے دنیا میں زمین مرکزی نظریہ (geo-centric theory) کو مانا جاتا تھا، جس کو ٹالمی (Claudius Ptolemy) اور ارسطو (Aristotle) کی حمایت حاصل تھی۔ گلیلیو نے ثابت کیا کہ زمین مرکزی نظریہ غلط ہے اور اس کے مقابلے میں وہ نظریہ درست ہے جس کو آفتاب مرکزی نظریہ (heleo-centric theory) کہا جاتا ہے۔

اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عقلی دور یا سائنسی دور شروع ہوا۔ اس دور میں عقلی ثبوت کا یہ معیار قرار پایا کہ قابلِ اعتماد علم صرف وہ ہے جو قابل تصدیق علم (verifiable knowledge) ہو۔ مشاہدہ نے زمین مرکزی نظریہ کی تصدیق نہیں کی، اس لیے علمی دنیا میں اُس کو رد کر دیا گیا، جب کہ دور بینی مشاہدہ نے آفتاب مرکزی نظریہ کی تصدیق کر دی، اس لیے وہ عقلی طور پر درست قرار پایا۔ سائنس دراصل اسی قابل تصدیق علم (verifiable knowledge) کا اصطلاحی نام اہل سائنس نے علم وحی (revealed knowledge) کا انکار نہیں کیا، البتہ انھوں نے علم وحی کو اپنے دائرہ تحقیق سے باہر قرار دیا، کیوں کہ وہ ان کے نزدیک قابل تصدیق نہ تھا۔ اس کے بعد علم کی دنیا میں ایک تقسیم (bifurcation) کا طریقہ وجود میں آگیا۔ اب علم وحی کا دائرہ الگ ہو گیا اور عقلی علم یا سائنسی علم کا دائرہ الگ۔ یہ تقسیم بجائے خود غلطی نہ تھی۔ اس کی بنا پر اہل سائنس کو یہ موقع ملا کہ وہ آزادانہ طور پر اپنی تحقیق کو جاری رکھ سکیں۔ اس طرح سائنس کی تحقیق کا دائرہ اُس دنیا سے ہو گیا جس کو فطرت (nature) کہا جاتا ہے۔ اسی لیے سائنس کو دوسرے الفاظ میں، فطری علم (natural science) یا مادی علم (physical science) کہا جاتا ہے۔ سائنسی علم براہ راست طور پر اسلامی علم نہ تھا، لیکن بالواسطہ طور پر وہ اسلام کے لیے ایک تائیدی علم کی حیثیت رکھتا تھا۔ عقل کی صلاحیت کو لے کر سائنسی دنیا میں جو تحقیقات ہوئیں، اُس سے اسلام کو بہت زیادہ فائدے حاصل ہوئے۔ اس اعتبار سے، سائنس کا پورا علم، اسلام کے لیے تائیدی علم کی حیثیت رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس اُس حدیث رسول کی مصداق ہے جو پیشین گوئی

کی زبان میں ان الفاظ میں آئی ہے : إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاري، رقم الحديث: 3062)۔

فطرت میں سائنسی تحقیق کے ذریعے جو دریافتیں وجود میں آئیں، وہ خاص طور پر دو اعتبار سے، اسلام کے لیے غیر معمولی تائید کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ایک قسم کی تائید وہ تھی جو اس سائنس کے ذریعے حاصل ہوئی جس کو نظریاتی سائنس (theoretical science) کہا جاتا ہے۔ اور اسلام کے لیے دوسری تائید وہ تھی جس کو اصطلاحی طور پر انطباقی سائنس (applied science) کہا جاتا ہے۔ نظریاتی سائنس نے یہ کیا کہ اس نے فطرت (nature) میں چھپے ہوئے وہ قوانین دریافت کیے جو اب تک غیر معلوم تھے۔ ان قوانین کے بارے میں اشارات قرآن میں موجود تھے، لیکن قرآن میں ان کی تفصیل موجود نہ تھی۔ اہلِ ایمان کو ابھارا گیا کہ وہ زمین و آسمان میں غور کر کے ان تفصیلات کو دریافت کریں، جو کہ ان کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ ہیں۔ لیکن بعد کے زمانے کے مسلمان یہ کام نہ کر سکے۔ آخر کار، اللہ تعالیٰ نے اہلِ سائنس کے ذریعے یہ کام لیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہی منصوبہ ہے جس کو قرآن میں مستقبل کی پیشین گوئی کے طور پر اس طرح بیان کیا گیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) اس معاملے کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا (50:9) یعنی ہم نے آسمان سے مبارک پانی اتارا۔ قرآن کی اس آیت میں اُس آفاقی تطہیر کا ذکر ہے جس کو موجودہ زمانے میں ازالہ نمک (desalination) کہا جاتا ہے۔ پانی کا ذخیرہ جو سمندروں میں جمع ہے، اُس میں تحفظاتی مادہ (preservative) کے طور پر تین فی صد نمک ملا یہ نمکین پانی انسان کے لیے ناقابل استعمال ہے۔ یہاں فطرت کے قانون کے مطابق، ایک عظیم آفاقی عمل ہوتا ہے جس کے ذریعے سمندر کا پانی نمک سے الگ ہو کر اوپر فضا میں جاتا ہے اور پھر بارش کی صورت میں خالص پانی زمین کی طرف لوٹتا ہے جس کو انسان اپنی ضرورتوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ قرآن میں، مبارک کے لفظ کی صورت میں اُس کا اشارہ موجود تھا،

لیکن اس کی تفصیل ہزار سال بعد جدید سائنس نے معلوم کی، وغیرہ۔

انطباقی سائنس (applied science) کے ذریعے اسلام کو بہت سے تائیدی ذرائع حاصل مثلاً پرنٹنگ پریس اور کمیونیکیشن۔ ان جدید سائنسی دریافتوں کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ اسلام کی اشاعت کا کام عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے۔ اللہ تعالیٰ کو اول دن سے یہ مطلوب تھا کہ دین حق کو دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچایا جائے، لیکن جدید ذرائع کے وجود میں آنے سے پہلے اس کا امکان ہی نہ تھا۔ تاریخ میں پہلی بار یہ امکان جدید انطباقی سائنس کے ذریعے پیدا ہوا ہے۔ عالمی دعوت کا امکان حدیث میں اسلامی دعوت کے ایک امکان کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: لا يبقي علي ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، رقم الحديث:

24215) یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر ایسا باقی نہیں رہے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہو جائے۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ ساتویں صدی میں جب کہ اسلام کا ظہور ہوا، اُس وقت سے یہ اسلامی دعوت کا نشانہ تھا کہ اسلام کا کلمہ کرہ ارض پر بسنے والے تمام مردوں اور عورتوں تک مگر ایک ہزار سال تک یہ نشانہ عملاً پورا نہ ہوسکا، کیوں کہ اسباب کی اس دنیا میں اس نشانے کو پورا کرنے کے لیے عالمی ذرائع درکار تھے، جو کہ پچھلے ادوار میں موجود نہ تھے۔ دورِ جدید میں سائنس نے پہلی بار یہ موافق ذرائع فراہم کیے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مذکورہ حدیث کی تشریح ان الفاظ میں کرنا درست ہوگا کہ— بعد کے زمانے میں ایسا ہوگا کہ اللہ کی توفیق سے ایسے اسباب وجود میں آئیں گے جن کو استعمال کر کے یہ ممکن ہو جائے گا کہ اہل ایمان اسلام کے کلمہ کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔

Printed page