Al-Risala · March 2013

عصری ذہن

Al-Risala, March 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

عام طور پر مسلمان عصری ذہن کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ اس کا سبب وہی ہے جس کو الناس أعداء ما جهلوا کہا جاتا ہے، یعنی بے خبری کی بنا پر کسی کو اپنا دشمن سمجھ لینا۔ ذہن کے بارے میں عادلانہ رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حقیقت پسندانہ ذہن کے تحت اس کا تجزیہ کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ حقیقت واقعہ کے اعتبار سے ، عصری ذہن کا کیس کیا ہے۔ عصری ذہن کی اصل مغربی ذہن ہے۔ مغربی ذہن یورپ کی نشاة ثانیہ (Renaissance) کے بعد پیدا ہونے والے ذہن کا نام ہے۔ اُس دور میں کچھ ایسے افراد یورپ میں اٹھے جنھوں نے فطرت (nature) کا مطالعہ غیر روایتی انداز میں شروع کیا۔ اس سلسلے میں پہلا نمایاں نام اٹلی کے سائنس داں گلیلیو (وفات: 1642) کا ہے۔ گلیلیو تاریخ کا پہلا شخص ہے جس نے فلکیات کے مطالعے میں دوربین (telescope) کا استعمال کیا۔ یہ 1609 کا واقعہ ہے۔ اُس زمانے میں روایتی تصور یہ تھا کہ زمین مرکز میں ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے۔ گلیلیو نے اپنے دور بینی مشاہدے میں جن حقیقتوں کو دریافت کیا، اُن سے یہ اخذ ہوتا تھا کہ سورج مرکز میں ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے۔ سترھویں صدی کے آغاز میں عام طور پر روایتی طرز فکر کا غلبہ تھا۔ اُس وقت گلیلیو کا یہ اعلان ایک دھماکہ خیز واقعہ ثابت ہوا۔ اُس وقت مسیحی چرچ یورپ میں روایتی طرز فکر کا نمائندہ تھا۔ کو یورپ کا بے تاج بادشاہ (uncrowned king) سمجھا جاتا تھا۔ چناں چہ مسیحی چرچ اور سائنس دانوں کے درمیان زبردست ٹکراؤ پیش آیا۔ اس ٹکراؤ میں سائنس دانوں کو فتح ہوئی۔ مسیحی چرچ کے اختیار کا دائرہ دن بدن سمٹنے لگا، یہاں تک کہ 1929 میں حکومت اٹلی اور مسیحی پوپ کے درمیان وہ معاہدہ ہوا جس کو لیٹران معاہدہ (Lateran Treaty) کہا جاتا ہے۔

اس معاہدے کے مطابق، مسیحی چرچ اس پر راضی ہو گیا کہ اس کا دائرہ اختیار روم کے ایک مختصر علاقہ ویٹکن (Vatican) تک محدود رہے گا جس کا کل رقبہ صرف 109 ایکڑ ہے۔

اس طرح تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جس کو سائنس کا دور کہا جاتا ہے۔ اگر اس واقعے کو مذہبی اصطلاح میں بیان کیا جائے تو اس دور کو ایمان بالغیب کے بجائے ایمان بالشہود کا دور کہا جائے گا۔ اس دور میں فطرت کا مطالعہ مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں کیا جانے لگا۔ نتیجے میں فطرت کے اندر چھپے ہوئے بے شمار رموز دریافت ہوئے جو اب تک انسان کے لیے غیر دریافت شدہ بنے ہوئے تھے۔ اس کے نتیجے میں نئی ٹکنالوجی، نئی صنعتیں، نئے ذرائع و وسائل انسان کی دسترس میں آگئے۔

یہ نئی مسحور کن دنیا تمام تر آبجیکٹیو مطالعہ (objective study) کے ذریعے انسان کی دسترس میں آئی تھی۔ اس میں مبنی بروحی مطالعہ کا بظاہر کوئی دخل نہیں تھا۔ یہ دور بظاہر سائنس دانوں کی تحقیقات کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ اس دور کا ایک عملی نتیجہ یہ تھا کہ قابل پیمائش (measurable) کو نا قابل پیمائش (non-measurable) سے الگ کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں علمی دنیا میں فکر کا وہ طریقہ رائج ہوا جس کو موضوعی طریق مطالعہ (objective method of study) کہا جاتا ہے۔ اس طریقے کی عملی کامیابی کی بنا پر اس کو موجودہ دور میں رواج عام حاصل ہو گیا۔ سائنس دانوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اُن کا طریق مطالعہ تمام حقائق کو جاننے کے لیے واحد کار آمد طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، انھوں نے کھلے طور پر یہ تسلیم کیا کہ سائنس پورے علم حقیقت کا احاطہ نہیں کرتی، وہ حقیقت کا صرف جزئی علم دیتی ہے:

Science gives us but a partial knowledge of reality. سائنسی طریق مطالعہ اپنی عملی کامیابی، نہ کہ نظری صداقت کی بنا پر موجودہ زمانے میں بہت زیادہ عام ہو گیا، حتی کہ فلاسفہ اور مفکرین نے بھی اسی طرزِ فکر کو اختیار کر لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جس طرح فطرت (nature) کا مطالعہ موضوعی انداز میں کرتے تھے، اسی طرح وہ مذہب کا مطالعہ بھی موضوعی انداز میں

وہ مذہب کو الہامی ظاہرہ (revealed phenomenon) تسلیم کرنے کے بجائے، اس کو صرف ایک سماجی ظاہرہ (social phenomenon) سمجھنے لگے۔ وہ اپنے مزاج کے مطابق، پیغمبر اور پیغمبر کے کام کا اسی طرح تجزیہ کرنے لگے جس طرح وہ مادی چیزوں کا تجزیہ کر رہے تھے۔ جدید مفکرین کا یہ طریقہ از روئے حقیقت درست نہ تھا، لیکن اس کا سبب عناد یا سازش نہ تھی، بلکہ وہ اُن کے اختیار کردہ طریقِ مطالعہ کا نتیجہ تھا۔ اگر چہ یہ طریقہ مذہب کے خلاف تھا، مگر وہ کسی بد نیتی کا نتیجہ نہ تھا۔ وہ بطور خود اس کو درست طریق مطالعہ سمجھتے تھے۔ اگر چہ یہ طریقہ مذہب کے خلاف تھا، مگر وہ کسی بدنیتی کا نتیجہ نہ تھا۔ وہ بطور خود اسی کو درست طریق مطالعہ سمجھتے تھے۔ سنجیدگی کے ساتھ ان کا یہ یقین تھا کہ یہ طریقہ جس طرح مظاہرِ فطرت کے مطالعے میں کامیاب ثابت ہوا ہے، اسی طرح وہ وحی والہام کے مظاہر کے مطالعے میں بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔

سائنس دانوں نے جو کام کیا، وہ تائید (support) کے اعتبار سے، اہلِ اسلام کے لیے انتہائی مفید تھا، لیکن مسلم ذہن اپنی منفی سوچ کی بنا پر اس فرق کو سمجھ نہ سکا۔ انھوں نے نئے دور میں پیدا ہونے والی مغربی تہذیب کو کلی طور پر اسلام دشمنی کا کیس قرار دے دیا، حالاں کہ اگر وہ اس معاملے میں غیر جانب دارانہ انداز میں اہل مغرب کے کیس کو سمجھتے تو وہ جان لیتے کہ اہل مغرب کا کام، خود پیغمبرِ اسلام کی پیشین گوئی کے مطابق، باعتبار نتیجہ، تائیدِ دین کی حیثیت رکھتا تھا، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے تخریب دین کا معاملہ نہ تھا۔

Printed page