Al-Risala · March 2013

حرفِ آخر

Al-Risala, March 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں اہل مغرب کا کنٹری بیوشن (contribution) ت زیادہ ہے، سیکولر اعتبار سے بھی اور اسلامی اعتبار سے بھی۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اہل مغرب کی کوششوں سے ایک نئی دنیا وجود میں آئی ہے، جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، منصوبہ بہ خداوندی کا ایک حصہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ فطرت میں چھپے ہوئے قوانین دریافت کیے جائیں۔

کے تخلیقی امکانات کو انفولڈ (unfold) کیا جائے۔ مادی دنیا میں چھپے ہوئے آلاء اللہ (wonders of God) کو علم انسانی کا حصہ بنایا جائے، تا کہ خدا کا دین روایتی دور سے نکل کر سائنسی دور تک پہنچے، تا کہ خدا کی معرفت کے اعلی پہلو انسان پر کھلیں، تا کہ قرآن کے مخفی عجائب معلوم واقعه بن جائیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھا اور مغربی تہذیب کے ذریعے اسی مطلوب الہی کی تکمیل ہوئی ہے۔

اس دنیا میں مثبت پہلو (positive aspects) کے ساتھ ہمیشہ کچھ منفی پہلو (negative aspects) شامل رہتے ہیں۔ اس کے باوجود اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ تاریخ کی مثبت تعبیر تلاش کی جائے۔ مثال کے طور پر اسلام کے عہدِ اول میں اہل ایمان کی پہلی جریشَن کے درمیان خوں ریز لڑائی ہوئی، جو کہ بلاشبہ ایک منفی واقعہ تھا، مگر اس منفی واقعے کے باوجود اسلام کے مثبت انقلابی رول کا اعتراف کیا جائے گا۔ اسی طرح، اہلِ مغرب کے ترقیاتی کارناموں کے ساتھ اگر کچھ منفی پہلو شامل ہیں تو اس بنا پر ہر گز ایسا کرنا درست نہ ہوگا کہ مسلمان اہلِ مغرب کے بارے میں منفی ذہن کا شکار ہو جائیں اور وہ اہلِ مغرب کے مثبت کارناموں کا اعتراف نہ کریں۔

اس قسم کا منفی رویہ خود مسلمانوں کی اپنی ذات کے لیے شدید نقصان کی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ اس قسم کا منفی رویہ حقیقت واقعہ کا اعتراف نہ کرنا ہے اور حقیقت واقعہ کا اعتراف نہ کرنا بلاشبہ دنیا کے پہلو سے بھی ہلاکت خیز ہے اور آخرت کے پہلو سے بھی۔

Printed page