مانع جرم سزا کی ضرورت
Al-Risala, March 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
16 دسمبر 2012 کو دہلی میں گینگ ریپ (gang-rape) کا ایک بھیانک واقعہ پیش 23 سالہ متاثرہ لڑکی کا صحافتی نام نر بھے (fearless) بتایا جاتا ہے۔ اس بھیانک واقعے کے بعد ایک طبقہ مطالبہ کر رہا ہے کہ مجرم کے لیے قتل کی سزا مقرر کی جائے۔ مگر ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ (Human Rights Activists) اس کے خلاف ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ۔ ایک مجرم کی متشددانہ موت تشدد کلچر کو گھٹائے گی یا بڑھائے گی:
مذکورہ مضمون میں اس معاملے کو صحیح زاویے سے نہیں دیکھا گیا ہے۔ اس میں مجرم کی سخت سزا کو تشدد کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ مگر صحیح یہ ہے کہ مجرم کی سخت سزا کو ایک مانع جرم سزا (deterrent punishment) کے زاویہ نظر سے دیکھا جائے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ سزا کی تخفیف سے جرم کی حوصلہ افزائی کا ماحول بنتا ہے اور سزا کی شدت سے جرم کی حوصلہ شکنی کا ماحول۔ مفکر نے درست طور پر کہا ہے کہ۔ سزا کی شدت آدمی کو جرم سے نہیں روکتی، یہ سزا کی ناگزیر یت ہے جو مانع جرم کا کام کرتی ہے:
سوال و جواب حال ہی میں دہلی میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ لوگوں میں کافی غم وغصہ ہے اور ہر آدمی مجرم کو پھانسی کی سزا دینے کی حکومت سے ڈمانڈ کر رہا ہے۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بتائیں کہ کیا اسلام میں کسی بھی بڑے سے بڑے گناہ کے لیے پھانسی کی سزا ہے یا نہیں۔ (حافظ احمد علی، اڈیشہ)
انڈیا ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں کسی جرم کی سزا یہاں کے ملکی قانون (law of land) کے مطابق ہوتی ہے۔ انڈیا کے سیاق میں، اسلامی قانون کے نفاذ کی بحث کرنا ایک غیر متعلق بات ہے۔ اس کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔ جہاں تک اصولی اعتبار سے، پھانسی کی سزا کا تعلق ہے، اسلام کے قوانین میں پھانسی کی سزا کا ذکر نہیں۔ لیکن پھانسی کی سزا کو غیر اسلامی نہیں کہا جا سکتا۔ میں قانون کی دو صورتیں ہیں—ایک، شرعی حد اور دوسرے، حاکم کی طرف سے دی ہوئی تعزیری سزا (executive order)—اسلامی اصول کے مطابق، حاکم کو یہ حق ہے کہ وہ مخصوص حالات کی بنا پر کسی فرد کے لیے کسی مخصوص سزا کا نفاذ کرے۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ شرعی حد کی حیثیت ایک عمومی قانون کی ہے، لیکن تعزیر ایک استثنائی سزا ہے، اس کی حیثیت قانون کی نہیں۔ اس دوسرے قسم کے قانونی اختیار کو اصطلاح میں حاکم کا اختیار تمیزی (discretionary power) کہا جاتا ہے۔ آپ کی تصنیف ’’کتاب معرفت‘‘ زیر مطالعہ ہے۔ بہت اہم موضوعات پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ آپ کے خلاف منفی باتیں پھیلانے والوں کے لئے یہ کتاب ایک علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی آپ کے خلاف بہت کچھ پڑھنے کو ملا، البتہ مجھ سمیت بیدار مغز افراد کی ایک بڑی تعداد نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ خدائے برحق آپ کے بدخواہوں کو ضرور ناکام کرے گا۔ ’’صبح کشمیر‘‘ خاص کر
جموں و کشمیر کے باشندوں کے لئے بہت چشم کشا ہے۔ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ 1991 میں جب کہ وادی بھر میں تحریک زوروں پر تھی، آپ نے صاف صاف بتایا تھا کہ " فیصلے بندوق سے نہیں ہوتے"۔ جناب کافر ماننا صحیح نکلا کہ باہمی بات چیت سے ہی مسائل کا حل ڈھونڈ اجا سکتا ہے۔ (حسن ساہو، کشمیر) کشمیر کے معاملے میں، میری جو کتاب "صبح کشمیر" کے نام سے شائع ہوئی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ ایک طے شدہ اشو (settled issue) ہے۔ میں نے کشمیر کے موضوع کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ جن لوگوں نے کشمیر کے سوال کو لے کر کشمیر میں احتجاجی مہم چلائی، وہ بھی غلطی پر تھے۔ اس کے بعد جن لوگوں نے کشمیر کے سوال پر کشمیر میں عسکری تحریک (militancy) چلائی، وہ بھی غلطی پر تھے۔ اب جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کو ہم گفت و شنید یار یفرنڈم کے ذریعے حل کریں گے، وہ بھی غلطی پر ہیں۔ اس قسم کی تمام باتیں "مشت بعد از جنگ" کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یقینی طور پر اُن کا کوئی بھی اس قسم کی کوئی بھی تحریک خواہ بظاہر وہ پُر امن ہو، وہ صرف کشمیریوں کے مسائل میں اضافہ کرنے والی ہے، وہ ہرگز کشمیریوں کے مسائل کو حل کرنے والی نہیں۔
میں نے 1993 میں ہندوستان ٹائمَس میں ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اس مضمون میں کشمیری تحریک اور پنجاب (انڈیا) کی خالصہ تحریک دونوں کے بارے میں، میں نے ایک ہی بات کہی تھی۔ وہ یہ کہ دونوں کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے حقیقت کا اعتراف (acceptance of reality)۔ قومی معاملات میں فیصلے بار بار بدلتے نہیں۔ یہ تاریخ کا اٹل قانون ہے۔ اس تاریخی اصول سے ٹکرانا صرف اپنی تباہی میں دوبارہ اضافہ کرنا ہے۔ مثلاً پاکستان کی قیادت اگر یہ چاہے کہ بنگلہ دیش دوبارہ مشرقی پاکستان بن جائے ، تو یقینی طور پر یہ نا ممکن ہوگا۔ اِسی طرح پاکستانی قیادت اگر یہ چاہے کہ جموں وکشمیر انڈیا سے الگ ہو کر پاکستان کا حصہ بن جائے تو یہ بھی بلا شبہ ایک ناممکن بات ہے۔ اس طرح کے معاملات میں مشہور فارمولا منطبق ہوتا ہے کہ سیاست ممکنات کا کھیل ہے: