Al-Risala · April 2013

اسلام کی دریافت

Al-Risala, April 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورۃ المائدہ میں ایک آیت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دور آخر میں نازل ہوئی۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے: اَلۡیَوۡمَ یَىِٕسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَاخۡشَوۡنِ ؕ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا (5:3) یعنی آج منکر تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے، پس تم ان سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔

قرآن کی اس آیت میں اکمال دین یا تکمیل دین (completion of religion) سے مراد فہرست احکام کی تکمیل نہیں ہے اور نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اسلام حکومتی معنوں میں غالب ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام کی راہ کے موانع (obstacles) ختم ہو گئے۔ آیت کے الفاظ سے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ کیوں کہ آیت میں اکمال دین کا مطلب یہ بتایا گیا ہے کہ اب خشیت انسانی (human fear) کا دور ختم ہو گیا۔ اب خدا کے دین کے حق میں ایسے اسباب جمع ہو گئے ہیں جو اُس کو اس سے محفوظ کر دیتے ہیں کہ وہ ماضی کی طرح انسانی رکاوٹوں اور مذہبی جبر کا شکار بنے۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال کے درمیان مسلسل پیغمبر آتے مگر جیسا کہ معلوم ہے، کسی بھی پیغمبر کی تعلیمات محفوظ نہ رہ سکیں، حتی کہ ان پیغمبروں کا مدوّن تاریخ (recorded history) میں کوئی ریفرنس بھی موجود نہیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پیغمبروں کے مشن کو محفوظ رکھنے کے لیے جو تائیدی عناصر (supporting elements) درکار تھے، وہ ان کو حاصل نہ ہو سکے۔ پیغمبر آخرالزماں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان تائیدات کو جمع اس طرح یہ ممکن ہوا کہ آپ کی تعلیمات ابدی طور پر محفوظ ہو جائیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں

اسی معاملے کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ اب خدا کا دین حیثیت انسانی کے دور سے باہر آ گیا ہے۔ پچھلے پیغمبروں کی تعلیمات کے محفوظ نہ ہونے کا سبب کیا تھا، اس کا سبب یہ تھا کہ حفاظت کا یہ کام اسباب کے ذریعے ہو سکتا تھا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ اسباب جمع نہیں ہوئے۔ مثلاً کسی پیغمبر کا کام یا تو شخصی اعلان تک محدود رہا، یا یہ ہوا کہ صرف چند افراد ان کا ساتھ دینے والے بنے، اور صرف چند افراد حفاظت دین کے لیے کافی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ساتھ ایک خصوصی معاملہ یہ کیا کہ پیشگی طور پر ایک موافق نسل تیار کی۔ نسل سازی کا یہ کام حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں کیا گیا۔

عرب کے صحرا میں نسل سازی کا یہ مشن تقریباً ڈھائی ہزار سال تک چلتا رہا، اس کے بعد ایک نئی نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ اسی نسل میں 570 عیسوی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس نسل کے درمیان آپ نے پیغمبر کی حیثیت سے تقریباً 23 سال تک کام کیا۔ سے عورتوں اور مردوں کی ایک بڑی تعداد آپ کے دین میں داخل ہوگئی۔ اس طرح وہ گروہ بنا جس کو اصحاب کہا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، اصحاب رسول (عورت اور مرد) کی تعداد تقریباً 2 لاکھ تھی۔ اصحاب رسول کی اسی جماعت کے ذریعے وہ موافق اسباب فراہم ہوئے جن کو ہم نے تائیدی عناصر (supporting elements) کا نام دیا ہے۔

Printed page