کشتی نوح
Al-Risala, January 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
ترکی کی ایک امتیازی خصوصیت ہے جو کسی دوسرے ملک کو حاصل نہیں، وہ یہ کہ ترکی وہ ملک ہے جو دورِ اول کے پیغمبر حضرت نوح کی کشتی کی آخری منزل بنا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، تقریباً 5 ہزار سال پہلے حضرت نوح کے زمانے میں ایک بڑا طوفان آیا۔ اُس وقت حضرت نوح اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک کشتی میں سوار ہو گئے۔ یہ کشتی قدیم عراق (میسوپوٹامیا) سے چلی اور ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع کوہ ارارات (Ararat Mountain) کی چوٹی پر ٹھہر گئی۔
اس واقعے کا ذکر بائبل میں اور قرآن میں نیز مختلف تاریخی کتابوں میں بشکلِ کہانی موجود تھا، لیکن کسی کو متعین طور پر معلوم نہ تھا کہ وہ کشتی کہاں ہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں مسلسل برف باری کے دوران یہ کشتی برف کی موٹی تہ (glacier) کے اندر چھپ گئی۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں جگہ جگہ گلیشیر پگھلنے لگے۔ چناں چہ ارارات پہاڑ کے گلیشیر بھی پگھل گئے۔ اس کے بعد کشتی قابلِ مشاہدہ بن گئی۔
بیسویں صدی کے آخر میں کچھ لوگوں نے ہوائی جہاز میں پرواز کرتے ہوئے پہاڑ کے اوپر اس کشتی کو دیکھا۔ اس طرح کی خبریں برابر آتی رہیں، یہاں تک کہ 2010 میں یہ خبر آئی کہ کچھ ماہرین پہاڑ پر چڑھائی کر کے ارارات کی چوٹی پر پہنچے اور کشتی کا براہِ راست مشاہدہ کیا، پھر انھوں نے کشتی کا ایک ٹکڑا لے کر اس کی سائنٹفک جانچ کی۔
اس سائنٹفک جانچ سے معلوم ہوا کہ کشتی کی عمر متعین طور پر چار ہزار آٹھ سو سال ہے، یعنی وہی زمانہ جب کہ معلوم طور پر طوفانِ نوح آیا تھا :
A group of Chinese and Turkish evangelical explorers قرآن میں کشتی نوح کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ اُن میں سے ایک وہ ہے جو کوہِ ارارات کا ایک منظر
سورہ العنکبوت میں پایا جاتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ، وجعلناها آية للعالمين (29:15) یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا۔ اور ہم نے اس (کشتی) کو سارے عالم کے لیے ایک نشانی بنا دیا:
Then we saved him and those who were with him in the Ark, and made it a sign for mankind. حضرت نوح کی کشتی تاریخ انبیا کی قدیم ترین یادگار ہے۔ قرآن کے مذکورہ بیان کے مطابق، اس قدیم ترین یادگار کو محفوظ رکھنا اس لیے تھا، تاکہ وہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے علم میں آئے اور اُن کے لیے دین حق کی ایک تاریخی شہادت بنے۔
مگر یہ سادہ بات نہ تھی، اس عالمی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے بہت سی شرطیں درر تھیں۔ کے لیے ضروری تھا کہ کشتی کا استوا (11:44) ایک ایسے ملک میں ہو جو اپنے جائے وقوع کے لحاظ سے عالمی رول ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو، کشتی نوح کے ظہور کا واقعہ ایک طے شدہ وقت پر پیش آئے، جب کشتی نوح ظاہر ہو تو عالمی کمیونیکیشن کا دور آ چکا ہو، یہ واقعہ جب ظہور میں آئے تو اس وقت گلوبل سیاحت (global tourism) کا دور بھی آ چکا ہو، پرنٹنگ پریس کا زمانہ آ چکا ہو، تاکہ خدا کی کتاب (قرآن) کے مطبوعہ نسخے لوگوں کو دینے کے لیے تیار کئے جاسکیں، دنیا کھلے پن (openness) کے دور میں پہنچ چکی ہو، اسی کے ساتھ دنیا سے کچھ چیزوں کا خاتمہ ہو چکا ہو۔ مثلاً مذہبی جبر، کٹرپن (rigidity)، علاقہ گی پسندی (separatism)، تنگ نظری (narrow-mindness)، وغیرہ۔
ترکی کے پہاڑ (ارارات) پر کشتی نوح کا موجود ہونا استثنائی طور پر ایک انوکھا واقعہ ہے۔ کا پگھلنا جب اس نوبت کو پہنچے، جب کہ پوری کشتی ظاہر ہو جائے اور وہاں تک پہنچنے کے راستے بھی ہموار ہو جائیں تو بلا شبہ یہ اتنا بڑا واقعہ ہوگا کہ ترکی کا نقشہ سیاحت (tourist map) میں نمبر ایک جگہ حاصل کر لے گا۔ ساری دنیا کے لوگ اس قدیم ترین عجوبہ کو دیکھنے کے لیے ترکی میں ٹوٹ پڑیں گے۔ اس طرح اہل ترکی کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے ساری دنیا
تک خدا کے پیغام کو پہنچادیں ۔ یہ وہ وقت ہوگا کہ جب کہ ترکی میں آنے والے سیاحوں کے لیے قرآن سب سے بڑا گفٹ آئٹم (gift item) بن جائے گا جس میں پیشگی طور پر کشتی نوح کی موجودگی کی خبر دے دی گئی تھی۔