Al-Risala · April 2013

اصحاب رسول کا رول

Al-Risala, April 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

اصحاب رسول کی یہی جماعت ہے جس نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا کہ خدا کے دین کا ایک محفوظ ایڈیشن تیار ہو گیا۔ اس سلسلے میں اصحاب رسول کے رول کے مختلف پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ایک تاریخی شخصیت بن جائے ۔ میں جو پیغمبر آئے، اُن کی تعداد روایات میں تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار بتائی گئی ہے، لیکن معروف تاریخی معیار کے مطابق، ان میں سے کسی بھی پیغمبر کی حیثیت تاریخی پیغمبر" کی نہیں ہے، حتی کہ حضرت مسیح جو پیغمبر اسلام سے قریب تر زمانے میں آئے، ان کے بارے میں بھی برٹرینڈ رسل (وفات: 1970)

نے لکھا ہے کہ ؀ تاریخی طور پر یہ امر سخت مشتبہ ہے کہ مسیح کا کبھی وجود بھی تھا: Historically, it is quite doubtful whether Christ ever existed at all. (Why I Am Not A Christian, 1967, Touchstone, UK, p. 266)

تاریخ میں پیغمبروں کا اندراج نہ ہونے کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب تاریخ نگاری کا قدیم ذوق ابن خلدون (وفات: 1406) سے پہلے، تاریخ کو بادشاہوں کی تاریخ کے ہم معنی سمجھا جاتا تھا۔ قدیم پیغمبروں کے ساتھ چوں کہ حکومت اور سیاست کے واقعات جمع نہیں ہوئے، اس لیے ان کو تاریخی طور پر نا قابلِ ذکر سمجھ لیا گیا۔

اس صورت حال کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالی نے گویا مورخین (historians) کی ایک نئی نسل (generation) تیار کی۔ یہ صحابہ اور تابعین تھے جنھوں نے اس معاملے میں عملاً وہ رول انجام دیا جس کو اس سے پہلے پروفیشنل مورخین انجام دیتے تھے۔ صحابہ اور تابعین نے پیغمبر اسلام اور آپ کی تعلیمات سے متعلق تمام واقعات کا مستند ریکارڈ تیار کیا، پہلے حافظے کی صورت میں اور پھر تحریر کی صورت یہی وہ محفوظ ریکارڈ ہے جس کو آج قرآن اور حدیث اور سیرت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ریکارڈ پہلے صحابہ کے ذریعے تیار ہوا، پھر تابعین اور تبع تابعین کے ذریعے اس کا تسلسل اسی طرح امت کی بعد کی نسلوں نے اس کام کی تدوین میں مزید کارنامے انجام دیے- یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ اٹھارھویں صدی عیسوی میں پریس کا دور آگیا۔ اب پیغمبر اسلام اور آپ کے متعلق تمام معلومات کا تاریخی ریکارڈ مطبوعہ کتابوں کی صورت میں محفوظ ہو گیا۔ اس طرح ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام کو استثنائی طور پر ایک مستند تاریخی پیغمبر کا درجہ حاصل ہو گیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حیثیت کا اعتراف خود سیکولر مورخین نے کھلے طور پر کیا ہے۔ مثال کے طور پر فرانسیسی مستشرق ارنسٹ ریناں (Joseph Ernest Renan) جس کی وفات 1892 میں ہوئی، اس نے 1851 میں ایک مقالہ شائع کیا ۔ اس کا عنوان یہ تھا: Muhammad and the Origins of Islam.

اس مقالے میں ارنسٹ ریناں نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخی حیثیت کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بڑے مذاہب کے دوسرے بانیوں کے برعکس، پیغمبرِ محمد واحد شخص ہیں جو کہ تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے:

Unlike the other founders of major religions, the Prophet Muhammad was born in the full light of history. پیغمبرِ اسلام کا مشن پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی مشن کیا تھا، اس کو قرآن کی دو آیتوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ، هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (61:8-9) یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنی پھونک سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کو ضرور مکمل کرے گا، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اللہ ہی نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ، تاکہ وہ اس کو تمام دین پر غالب کر دے، خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ قرآن کی ان آیتوں میں دولفظ استعمال کیے گئے ہیں: ہدی اور دین۔ اسی کے ساتھ ان میں دو اور لفظ استعمال کیے گئے ہیں: اتمام اور اظہار۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اتمام کا تعلق ہدی سے ہے اور اظہار کا تعلق دین سے۔ اس میں دراصل اللہ کے دو مطلوب کا ذکر ہے۔ ایک ہے، نور ہدایت کا اتمام، اور دوسرا ہے، دینِ خداوندی کا اظہار و غلبہ۔

نور ہدایت کیا ہے، وہ اصلاً دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے۔ یہ دو چیزیں قرآن اور سنتِ رسول ہیں۔ قرآن، اللہ کے دین کا نظریاتی متن (ideological text) ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ قرآن کا مستند ہدایت نامہ اپنی کامل صورت میں محفوظ ہو جائے، تاکہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے وہ خدائی ہدایت کو جاننے کا مستند ذریعہ ہو۔ اس مطلوب الہی کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (15:9) یعنی قرآن کو ہم نے

اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

قرآن کی حفاظت مکمل طور پر ایک پر امن کام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ قرآن کامل طور پر ایک محفوظ کتاب بن جائے، تاکہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے لیے خدا کی ہدایت کو معلوم کرنے کا مستند ماخذ بن سکے۔ یہ کام مکمل طور پر انجام پا گیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج پریس کے دور میں قرآن کے چھپے ہوئے نسخے تمام دنیا میں اس طرح موجود ہیں کہ ہر عورت اور مرد جب بھی چاہے، اس کو حاصل کر سکے۔

حفاظت قرآن کے اس واقعے کا اعتراف سیکولر محققین نے بھی کھلے طور پر کیا ہے۔ طور پر اسکاٹش مستشرق سرولیم میور (Sir W. Muir) جس کی وفات 1905 میں ہوئی، اس نے قرآن کی بابت لکھا ہے کہ— غالباً دنیا میں کوئی دوسری کتاب ایسی موجود نہیں جو کہ 12 صدیوں تک اپنی کامل حفاظت کو برقرار رکھے :

There is probably, in the world, no book which has (The Life of Muhammad from Original Sources, p. xxiii)

قرآن کے بعد، خدا کے نور ہدایت کا دوسرا جز وہ ہے جس کو قرآن میں پیغمبر خدا کا اسوہ حسنہ (33:21) کہا گیا ہے، یعنی عملی اعتبار سے خدا پرستانہ زندگی گزارنے کا مستند نمونہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک پُر از واقعات زندگی (eventful life) تھی۔ آپ کی زندگی میں ہر طرح کے حالات پیش آئے ۔ آپ نے ہر صورت حال میں خدا پرستانہ زندگی کا عملی نمونہ قائم آپ کے اس اعلیٰ نمونے کو قرآن میں خلق عظیم (68:4) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کے یہ نمونے حدیث اور سیرت کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔ اسلام کا یہ پہلو اتنا زیادہ واضح ہے کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ اس کی ایک مثال برٹش اسکالر ڈیوڈ جارج ہاگر تھ (David George Hogarth) ہے، جس کی وفات 1927 میں ہوئی ۔ اس نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کے بارے میں لکھا ہے کہ —

پیغمبر اسلام کا روزمرہ کا سلوک خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اس نے ایسی حیثیت اختیار کر لی جس کی اب تک لاکھوں لوگ اہتمام کے ساتھ پیروی کر رہے ہیں۔ انسانی نسل کے کسی طبقے کا کوئی آدمی یہ درجہ حاصل نہ کر سکا کہ ایک معیاری انسان کی حیثیت سے اس طرح اس کا کامل اتباع کیا جائے: Serious or trivial, his daily behaviour has instituted a course which millions observe at this day with conscious mimicry. No one regarded by any section of the human race as perfect man has been imitated so minutely. (Arabia, p. 52)

ہدیٰ سے مراد نظریاتی ماڈل ہے۔ خدا کی ہدایت کا یہ نظریاتی ماڈل قرآن اور سنتِ رسول کی شکل میں مستند طور پر محفوظ ہو گیا ہے۔ یہ نظریاتی ماڈل اب ہمیشہ کے لیے پیغمبر کا بدل ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیتوں میں دو چیزوں کا ذکر ہے — ہدیٰ اور دین۔ دونوں کی حیثیت ایسے مطلوب کی ہے جن کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ذریعے حاصل کرنا مقدر تھا۔ لیکن آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ہدیٰ سے مراد ایک نظریاتی مطلوب ہے، اور دین سے مراد ایک عملی مطلوب۔ جب قرآن کا متن محفوظ ہو گیا اور پیغمبر اسلام کا ماڈل حدیث اور سیرت کی کتابوں کے ذریعے مستند طور پر مدوّن ہو گیا تو اس کے بعد وہ مطلوب آخری طور پر حاصل ہو گیا جس کو آیت میں ہدیٰ کے لفظ میں بیان کیا گیا تھا۔ اپنے پیغمبر کے ذریعے سے اپنی ہدایت کا مستند ماخذ تیار کر دیا۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اس خدائی ماخذ سے اپنے لیے ہدایت حاصل کرتا ہے یا ہدایت حاصل نہیں کرتا۔

اظہارِ دین کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس معاملے میں اظہار، یعنی غلبہ مطلوب ہے، نہ کہ صرف نظریاتی معیار کا وجود میں آنا۔ اس لیے اظہارِ دین سے ایک ایسا مطلوب مراد لیا جائے گا جو بالفعل وقوع میں آيا۔ بالفعل وقوع میں آنے سے کم درجے کی کوئی چیز اس کی تفسیر نہیں بن سکتی۔ آیت میں اظہارِ دین سے حکومتی نظام یا قانونی نظام مراد نہیں لیا جا سکتا۔ اس لیے کہ تاریخی طور پر یہ

بات ثابت ہے کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں یا آپ کے بعد کامل معنوں میں ایسا کوئی نظام نہیں بنا اور نہ بن سکتا ہے، اس لیے کہ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے انسانی آزادی کے اصول پر بنایا ہے (فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ)۔ ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ یہاں معیاری معنوں میں کوئی کامل نظام بنایا جاسکے۔ امتحان کی مصلحت کے تحت دی ہوئی انسانی آزادی اس طرح کے معیاری نظام کو قائم کرنے میں حتمی طور پر مانع ہے۔ اس دنیا میں جب آئیڈیل کا حصول ممکن نہیں تو آئیڈیل کے حصول کو نشانہ بنانا بھی درست نہیں ہوسکتا۔

ایسی حالت میں، اظہارِ دین کی آیت میں دین کے اظہار کی ایسی تفسیر کرنی پڑے گی جو عملی طور پر وقوع میں آئی ہو۔ اس اعتبار سے غور کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں دین سے مراد شرعی دین نہیں ہے، بلکہ فطری دین ہے، اور اظہارِ دین کا مطلب ہے انسانی زندگی میں خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، حالت فطری کا قائم ہو جانا۔ دین کا یہ مفہوم قرآن کی ایک اور آیت میں موجود ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ (3:83)۔ اس آیت میں دین سے مراد دین شرعی نہیں ہے، بلکہ دین فطری ہے، یعنی وہ دین جس پر تمام کائنات بالفعل قائم ہے۔ یہ دین فطری کیا ہے، وہ قرآن کی اس آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے: الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور اللہ بہت زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔

اصل یہ ہے کہ اللہ نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کو پیدا کر کے سیارہ ارض پر بسایا۔ انسان کو زمین پر بسانا بطور امتحان (test) تھا، تا کہ امتحانی حالات سے گزار کر احسن العمل افراد کا انتخاب کیا جائے، یعنی ایسے عورت اور مرد کا انتخاب جنھوں نے کامل آزادی کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح حدود الہی کا پابند بنایا، جنھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) نہیں کیا۔ یہی منتخب افراد وہ لوگ ہیں جن کو پوری تاریخ سے لے کر ابدی جنتوں میں بسایا جائے گا۔ زمین پر یہ آزادانہ ماحول اللہ کو

لازمی طور پر مطلوب ہے۔ آزادی کے اس نظام کو کوئی بھی شخص یا گروہ اگر منسوخ (abolish) کرے تو اللہ ہرگز اس کو قبول نہیں کرے گا، وہ ایسے افراد یا گروہ کا لازماً خاتمہ کر دے گا۔ بادشاہت کے نظام کا خاتمہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت 610 عیسوی میں ہوئی ۔ اُس وقت یہ حال تھا کہ ساری دنیا میں کچھ انسانوں نے بادشاہت کا نظام قائم کر دیا تھا۔ یہ شاہی نظام عملاً جبریت (despotism) کے ہم معنی تھا۔ اس نظام نے انسانوں سے اُس آزادی کو چھین لیا تھا جو اللہ نے ان کو عطا کی تھی۔ صورت حال کو مطلوب نہیں تھی، کیوں کہ وہ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کی منسوخی کے ہم معنی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اس جابرانہ نظام سے ٹکرا کر اس کو ختم کر دیں، تا کہ دنیا میں دوبارہ اللہ کی مطلوب حالت فطری قائم ہو جائے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اُس زمانے میں ایک طرف عرب میں ملکی سطح پر قبائلی نظام تھا۔ اس قبائلی نظام نے بھی عملاً انسانی آزادی کو ختم کر رکھا تھا۔ اس صورت حال کا اشارہ قرآن کی مختلف آیتوں میں کیا گیا ہے۔ مثلاً: اَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّی (96:9) یعنی کیا تم نے دیکھا اُس شخص کو جو منع کرتا ہے، ایک بندے کو جب کہ وہ نماز پڑھتا ہو۔ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کا پہلا ٹکراؤ اس قبائلی نظام سے ہوا۔ اس کے نتیجے میں محدود نوعیت کی کچھ جنگیں (limited wars) پیش آئیں۔ آخر کار 6 ہجری میں مکہ فتح ہوا، جو عرب کے قبائلی نظام کا فتح مکہ کے بعد سارے عرب میں قبائل کا زور ٹوٹ گیا اور آزادی کی حالت قائم ہوگئی۔ کے بعد اصحاب رسول کو غلبہ حاصل ہو گیا۔ اس غلبہ کا مرکز مدینہ تھا۔ یہ غلبہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حکومت قائم ہونے کے ہم معنی نہ تھا، بلکہ وہ صرف یہ تھا کہ انتظامیہ (administration) قبائلی سرداروں کے ہاتھ سے نکل کر اصحاب رسول کے ہاتھ میں آ گیا۔

اس اعتبار سے دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ عرب کے باہر اُس وقت دو بڑی شہنشاہتیں (empires) قائم تھیں ۔ ایک، ساسانی ایمپائر (Sassanid empire) اور دوسرے، بازنتینی ایمپائر

(Byzantine empire) - ساسانی ایمپائر کا دار السلطنت عراق کا قدیم شہر ساسانیان (Ctesiphon) تھا اور بازنطینی ایمپائر کا دار السلطنت ترکی کا شہر قسطنطنیہ (Constantinople) ساسانی ایمپائر دراصل اُس وقت کے رومن ایمپائر کا مشرقی بازو (eastern wing) تھا۔ دونوں ایمپائر عرب کے قریب واقع تھے اور وہ اُس وقت کی دنیا میں بادشاہت پر مبنی جبری نظام کے نمائندے بنے ہوئے تھے۔ ان دونوں ایمپائر نے اللہ کی دی ہوئی آزادی کو عملاً منسوخ کر رکھا تھا، جو کہ اللہ کو کسی حال میں مطلوب نہ تھا۔ بازنطینی سلطنت کا اقتدار 15 ملکوں پر تھا۔ اس کا خاتمہ 678 عیسوی میں ہوا۔ اور ساسانی سلطنت کا اقتدار 13 ملکوں پر تھا۔ اس کا خاتمہ 651 عیسوی میں ہوا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حکم رانوں کو اپنے نمائندوں کے ذریعے خطوط بھیجے۔ مقصد یہ تھا کہ حکم راں پر امن طور پر اپنے جابرانہ نظام کو ختم کرنے کے لیے تیار ہو جائیں، مگر ایسا نہ ساسانی حکمراں نے آپ کے مکتوب کو اتنا حقیر سمجھا کہ اس نے اس کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ کے بعد پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کا دونوں سے ٹکراؤ پیش آیا۔ اس ٹکراؤ میں اللہ کی مدد، پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ساتھ تھی، چناں چہ وہ پوری طرح کامیاب ہوئے۔

یہ ایک عظیم تاریخی واقعہ تھا، جس نے انسانی تاریخ کے دھارے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ چناں چہ اللہ نے ایک اسرائیلی پیغمبر حبقوق کے ذریعے اس کی پیشگی خبر دے دی تھی جو موجودہ بائبل میں بدستور موجود ہے۔ اس پیشگی خبر کے الفاظ یہ ہیں ۔ وہ کھڑا ہوا اور زمین تھرا گئی ۔ اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گئیں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے۔ اس کی راہیں ازلی ہیں : He stood and measured the earth; He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills bowed. His ways are everlasting

مذکورہ بیان میں ”وہ“ سے مراد پیغمبرِ اسلام ہیں، اور ”پہاڑیوں“ سے مراد سیاسی پہاڑیاں ہیں، یعنی ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر ۔ ” اس کی راہیں ازلی ہیں“ سے مراد ہے خدا کے دین کا ابدی طور پر

محفوظ ہو جانا۔ بائبل کی یہ پیشین گوئی پیغمبر اسلام کے ذریعے کامل طور پر پوری ہوئی۔ نئے دور کا آغاز جبر پر مبنی مذکورہ دونوں سیاسی ایمپائر کا خاتمہ ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ یہ دونوں ایمپائر آزادانہ ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ جب یہ دونوں ایمپائر ختم ہوئے تو دنیا میں آزادی کا ایک نیا دور آیا۔ اس نئے دور کے حالات نہ صرف مسلم مورخین کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں، بلکہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔

انھیں سیکولر مورخین میں سے ایک فرانسیسی مورخ ہنری پرین (Henri Pirenne) ہے، جس کی وفات 1935 میں ہوئی۔ ہنری پرین نے اپنے مطالعے کے نتیجے میں کھلے طور پر اس تاریخی حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ ہنری پرین نے لکھا ہے کہ ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر نے دنیا میں مطلق شہنشاہیت (monarchical absolutism) کا نظام قائم کر رکھا تھا۔ اصحاب رسول نے اپنی غیر معمولی قربانی کے ذریعے اس نظام کو توڑ دیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ ہنری پرین کے الفاظ میں۔ اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا۔ تاریخ کے روایتی نظام کا خاتمہ ہو گیا: Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. (History of Western Europe, p. 46)

ساتویں صدی عیسوی میں جب سیاسی جبر کے نظام کا خاتمہ کیا گیا تو اس کے بعد دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا۔ یہ انقلاب فوری نتیجے کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ ایک پراسس (process) کی حیثیت اس کے بعد انسانی زندگی میں پہلی بار ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع یہ تاریخی پراسس برابر چلتا رہا، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچ یہ آخری نقطہ انتہا وہی ہے جس کو عام طور پر مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا اس تاریخی عمل کے دو بڑے دھارے تھے ۔ ایک، وہ جس کو جدید اصطلاح میں، جمہوریت (democracy) کہا جا سکتا ہے۔ اور دوسرا، وہ جس کو جدید ٹکنالوجی پر مبنی صنعت کہنا درست ہوگا۔

عام طور پر مسلم علما مغربی تہذیب کے بعض ناپسندیدہ پہلو کو دیکھ کر اس کے بارے میں منفی ہو گئے ہیں، مگر یہ ناپسندیدہ پہلو دراصل مغربی تہذیب کا کلچرل پہلو ہے، وہی اصل مغربی تہذیب نہیں اصل مغربی تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہی چیز ہے جس کو ہم نے خدا کے دین کے حق میں تائیدی عنصر کی حیثیت سے بیان کیا ہے۔

Printed page