Al-Risala · April 2013

God is nothing other than man himself.

Al-Risala, April 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکی فلسفی ولیم جیمس (William James) جس کی وفات 1910 میں ہوئی، وہ بھی ہیومن ازم کا حامی تھا، انگلش فلسفی جولین ہکسلے (Julian Huxley) جس کی وفات 1975 میں ہوئی، اس نے ہیومن ازم کی حمایت میں ایک کتاب لکھی۔ اس کا ٹائٹل یہ ہے: Religion Without Revelation اس کتاب میں ہیومن ازم کی تعریف اس طرح کی گئی ہے۔ سیٹ کا خدا سے انسان کی طرف منتقل ہو جانا (Transfer of seat from God to Man)۔

ہیومن ازم کے موضوع پر عام قاری کے لیے ایک قابل مطالعہ کتاب یہ ہے: Humanism: A Very Short Introduction, by Stephen Law, 2011 بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہیومن ازم کے فلسفے کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ لوگوں نے یہ فرض کر لیا کہ انھیں دین خداوندی کا ایک بدل مل گیا ہے۔ غیر خدا پرست طبقے میں یہ سمجھا جانے لگا کہ ـ انسان ہی ہر اعتبار سے سب کچھ ہے۔ (Man is the measure of all things) مگر عین اسی زمانے میں ایک نیا طاقت ور ظاہر ہوا جس نے ہیومن ازم کے تصور کو عملاً باطل ثابت کر دیا۔ یہ طاقت ورظاہر وہ تھاجس کو عام طور پر گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے، یعنی عالمی سطح پر حرارت کا غیر متناسب طور پر بڑھ جانا جس کے نتیجے میں زمین پر زندگی کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ موجودہ زمانے میں جدید ٹیکنالوجی کے ظہور کے بعد انڈسٹری کو بہت ترقی ہوئی۔ میں کثیر تعداد میں بڑے بڑے کارخانے قائم ہوئے۔ ان کارخانوں کو چلانے کے لیے جو ایندھن (fuel) استعمال ہوتا تھا، اُس سے مسلسل طور پر بڑی مقدار میں کاربن خارج ہونے لگا۔ اس اخراج کو کاربن ایمیشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔ اس کاربن ایمیشن نے زمین کے اوپر قائم شدہ فضا کو خطرناک حد تک آلودہ بنا دیا۔

اس فضائی آلودگی یا فضائی حرارت کے نتیجے میں کئی ناقابل حل مسائل پیدا ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں برف کے بڑے بڑے ذخائر، پہاڑوں کے گلیشیر، نارتھ پول اور ساؤتھ پول کی آئس کیپ (ice cap)، سمندروں میں تیرتے ہوئے برفانی پہاڑ (iceberg) تیزی سے پگھلنے لگے۔ نتیجے میں یہ ہوا کہ سمندروں کی سطح بڑھنے لگی۔ نازک حیوانات (fragile animals) مرنے لگے۔ طرح کے واقعات کے نتیجے میں یہ ہوا کہ زمین پر قائم شدہ لائف سپورٹ سسٹم تباہ ہونے لگا، حتی کہ اب سائنس داں یہ خبر دے رہے ہیں کہ زمین بہت جلد انسان کے لیے ناقابل رہائش بن جائے گی۔ اس صورت حال کا پیدا ہونا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ یہ دراصل ہیومن ازم کے فلسفے کی موت کا ہیومن ازم کے فلسفے میں یہ مان لیا گیا تھا کہ انسان کائنات میں مرکزی مقام (central position) رکھتا ہے۔ انسان کی اس حیثیت کو ماننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ مانا جائے کہ انسان کو ہر طرح کی قدرت حاصل ہے، انسان اپنے مستقبل کا مالک ہے۔ اگر انسان واقعۂ اس طرح کی طاقت رکھتا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ موجودہ زمانے میں زمین پر واقع ہونے والی اُس انسان کش تباہی کو روکنے جو گلوبل وارمنگ کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ گلوبل وارمنگ کو روکنے میں انسان کی ناکامی نے ہیومن ازم کے فلسفے کا آخری طور پر خاتمہ کر دیا ہے۔ جب گلوبل وارمنگ کا ظاہر ہ سامنے آیا تو تمام دنیا کی حکومتیں اور تمام دنیا کے سائنس داں بڑے پیمانے پر متحرک ہوگئے۔ کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں اس موضوع پر ہونے والی کانفرنس (دسمبر 2009) میں دنیا کے تمام ملکوں کے سائنس داں بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے۔ اس طرح کی کوششیں حکومتوں کی طرف سے بھی کی جارہی ہیں اور سائنس دانوں کی طرف سے بھی۔ اس موضوع پر تحقیقات اور تجربات کا سلسلہ ساری دنیا میں مسلسل طور پر جاری ہے، مگر نتیجے کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔ گلوبل وارمنگ کا خطرہ مسلسل طور پر بڑھ رہا ہے۔ اب وہ خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے، مگر اُس کو روکے کے لیے انسان کی ہر کوشش پوری طرح بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہے۔ گلوبل وارمنگ کا یہ تجربہ کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ وہ ہیومن ازم کے نظریے کے کامل ابطال

(total negation) کے ہم معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ کے ظاہر نے اسی طرح ہیومن ازم کے فکر کا خاتمہ کر دیا ہے جس طرح اس سے پہلے فطرت پرستی کو سائنس نے ختم کیا تھا اور جمہوریت کے ذریعے بادشاہت کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔

موجودہ گلوبل وارمنگ بھی پچھلے خدائی آپریشن کی طرح ایک خدائی آپریشن ہے جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دینِ حق کے لیے ہیومن ازم کا متبادل ایک بے بنیاد متبادل (false alternative) تھا۔ اس طرح خدائی فیصلے کے مطابق، دین حق نے دوبارہ تاریخ میں فکری اظہار کا وہ درجہ حاصل کر لیا جو خدا نے اس کے لیے ابدی طور پر مقدر کیا تھا۔ اوپر جو کچھ کہا گیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن نے ساتویں صدی کے ربع اول میں یہ اعلان کیا تھا کہ خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت ہی مستند ہدایت (authentic guidance) ہے اور خدا کا دین ہی دین حق ہے۔ خدا نے یہ مقدر کر دیا تھا کہ خدا کی نازل کردہ ہدایت (قرآن) ابدی طور پر پوری طرح محفوظ رہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہدایت کے بارے میں خدا کا فیصلہ کامل طور پر پورا ہوا۔ اس سلسلے میں دوسری چیز خدا کا نازل کردہ دین ہے۔ خدا کی نظر میں یہی دین ہمیشہ کے لیے دین حق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دین کے بارے میں خدا کا یہ فیصلہ تھا کہ جب بھی انسان بطور خود اس کا کوئی غلط متبادل تیار کرے تو خود تاریخ میں ایسے اسباب پیدا ہوں جو مسلمہ دلائل کی سطح پر اس کو غیر معتبر ثابت کر دیں۔ خدا کے اس فیصلے کا اظہار بھی تاریخ میں بار بار ہوتا رہا اور اب اکیسویں صدی میں جو صورت حال ہے، وہ یہ ہے کہ ہدایت اور دینِ حق دونوں کے معاملے میں انسان کے پاس کوئی دوسرا انتخاب باقی نہیں۔ اب حقیقت کے اعتبار سے، انسان کے لیے ایک ہی ممکن انتخاب ہے اور وہ وہی ہے جو خدا نے خاتم النبیین کی بعثت کے وقت اس کے لیے مقدر کر دیا تھا۔ (20 نومبر 2012)

From Political Activism to Dawah Activism مشہور محدث امام مالک بن انس (وفات: 179 ہجری) کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: لا يصلح آخر هذه الأمة، إلا بما صلح به أولها (مسند الموطأ، رقم الحديث: 783) یعنی اس امت کے دورِ آخر کے لوگوں کی اصلاح بھی اُسی طرح ہوگی، جس طرح اس امت کے دورِ اول کے لوگوں کی اصلاح ہوئی تھی۔

امت کے لیے یہ طریقہ اصلاح کیا ہے، اس کا اندازہ رسول اور اصحابِ رسول کے دور کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے دور کو اسلام کا دورِ اول کہا جا سکتا ہے۔ دور میں جو کچھ پیش آیا، اس کی تفصیل حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 13 سال تک آپ پُرامن انداز میں اپنے مشن کو چلاتے رہے۔ اس مدت میں مکہ کے کچھ افراد نے اسلام قبول کیا، لیکن وہاں کی بڑی اکثریت آپ کی مخالف بن گئی۔ انھوں نے ہر صورت سے آپ کو ستانا شروع کر دیا، یہاں تک کہ ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ رسول اور اصحابِ رسول یا تو مکہ سے ہجرت کر جائیں یا اہل مکہ کی طرف سے جارحانہ کارروائی کا سامنا کریں۔

اُس وقت حضرت عمر فاروق اور دوسرے اصحاب نے کہا کہ اگر ہم سے جنگ کی جاتی ہے تو ہم جنگ کریں گے۔ پیغمبرِ اسلام نے حضرت عمر فاروق کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: یا عمر، إنا قليل (سیرت ابن کثیر: 1/441) یعنی اے عمر، ہم تھوڑے ہیں۔ پیغمبرِ اسلام کا یہ جواب کوئی سادہ جواب نہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ابھی فریقِ ثانی کے ساتھ ٹکراؤ کا وقت نہیں آیا۔ اللہ کے منصوبے کے مطابق، یہ ایک قبل از وقت بات ہوگی کہ ہم فریقِ ثانی سے لڑ جائیں۔ ابھی ہمیں صبر کرتے ہوئے حالات کو اُس نوبت تک پہنچانا ہے جہاں اللہ اُس کو پہنچانا چاہتا ہے۔

Printed page