نصرت باعتبار فتح
Al-Risala, April 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
ہجرت کے دوسرے سال اس انڈر کرنٹ عمل پر تقریباً 20 سال گزر چکے تھے۔
نصرت باعتبار پر اس کا عمل اپنی تکمیل کے مرحلے تک پہنچ گیا تھا۔ اب ضرورت تھی کہ اس پیدا شدہ امکان کو بھر پور طور پر دعوت کے لیے استعمال (avail) کیا جائے۔ مگر مخالف فریق نے جنگ اور ٹکراؤ کا جو ماحول بنا رکھا تھا، اس کی موجودگی کی بنا پر اس پیدا شدہ موقع کو استعمال کرنا عملاً نا ممکن ہو گیا تھا۔ اس لیے اب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت حکمت کے ساتھ ایک نیا منصوبہ بنایا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت مدینہ میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب دکھایا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ جا رہے ہیں۔ آپ نے یہ خواب اپنے اصحاب کو بتایا۔ اس کو سن کر لوگ بہت خوش ہوئے۔ وہ عمرہ کے لیے مکہ جانے کی تیاری کرنے لگے۔ اس کے مطابق،
آپ یکم ذی القعدہ 6 ہجری کو عمرہ کے ارادے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ اُس وقت تقریباً 15 سو مہاجرین اور انصار آپ کے ساتھ تھے۔ اہل مکہ کو پیغمبر اسلام کے اِس سفر کی اطلاع ہوگئی۔ طے کیا کہ وہ کسی قیمت پر پیغمبر اسلام کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ چناں چہ انھوں نے آگے بڑھ کر حدیبیہ کے مقام پر آپ کے قافلے کوروک دیا جو کہ مکہ سے 9 میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حدیبیہ میں پڑاؤ ڈال دیا۔ اِس کے بعد اہل مکہ کے نمائندے وہاں آنے لگے اور تقریبا دو ہفتے تک دونوں فریق کے درمیان گفت وشنید جاری رہی۔ اس گفتگو کے دوران پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملا کہ آپ اہل مکہ سے یہ کہیں کہ ہمارے اور تمھارے درمیان ٹکراؤ اور جنگ کی جو صورت حال پیدا ہوگئی ہے، وہ ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ اور ضروری ہے کہ اس کو ختم کر دیا جائے۔ آخر کار یہ طے ہوا کہ فریقین کے درمیان صلح کا معاہدہ (peace treaty) ہو جائے۔ صلح کا یہ معاہدہ جب کاغذ پر لکھا جانے لگا تو اہل مکہ کے نمائندہ سردار نے شدید انداز میں حمیت جاہلیہ (48:26) کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے ضد اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی یک طرفہ شرطوں کی بنیاد پر معاہدہ کیا جائے، حتیٰ کہ انھوں نے اصرار کیا کہ ”رسول اللہ “کے لفظ کو معاہدے کی تحریر سے مٹا دیا جائے۔ پیغمبر اسلام نے اہل مکہ کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا، صرف اِس لیے کہ اس معاہدے کے ذریعے دونوں فریق کے درمیان امن کا ماحول قائم ہو رہا تھا۔ حدیبیہ کا معاہدہ صلح اہل مکہ کی یک طرفہ شرطوں کی بنیاد پر ہوا تھا۔ چناں چہ صحابہ کے اندر اس کے خلاف شدید رد عمل پیدا ہوا۔ عمر فاروق نے کہا: لما نعطي الدنية من ديننا (صحیح البخاري، رقم الحديث: 2731) یعنی ہم اپنے دین کے معاملے میں اِس ذلت آمیز معاہدے کو کیوں قبول کریں۔ ایک صحابی نے رسول اللہ سے کہا کہ آپ نے مدینہ میں اپنے ایک خواب کے حوالے سے ہم کو بتایا تھا کہ ہم عمرہ کرنے مکہ جا رہے ہیں، پھر یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ عمرہ کے بغیر درمیان سے لوٹ رہے ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ کیا میں نے یہ کہا تھا کہ ہم اسی سال مکہ جا کر عمرہ کریں گے (أفأخبرتك أنا نأتيه العام؟ اِن تمام مخالفتوں کے باوجود آپ نے اہل مکہ سے
امن کا معاہدہ کر لیا اور حدیبیہ سے مدینہ کے لیے واپسی کا فیصلہ فرما لیا۔ معاہدہ حدیبیہ کی تکمیل کے فوراً بعد وہ سورہ اتری جو قرآن میں الفتح کے نام سے شامل ہے۔ سورہ کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا (48:1) یعنی ہم نے تم کو کھلی فتح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سورہ اپنے اصحاب کو پڑھ کر سنائی تو ابتداء صحابہ کو یہ بیان بہت عجیب معلوم ہوا۔ عمر فاروق نے کہا: او فتح ہو یا رسول اللہ - قال: نعم، والذي نفسي بیدہ إنه لفتح (القرطبی 16/261) یعنی اے خدا کے رسول، کیا یہ کوئی فتح ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ ہاں، اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یقیناً وہ فتح ہے۔ اِسی طرح ایک اور صحابی نے کہا: ما هذا بفتح - فقال: بل هو أعظم الفتوح - (القرطبی 16/260) یعنی یہ تو کوئی فتح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ فتح ہے، بلکہ سب سے بڑی فتح ہے۔ معاہدہ حدیبیہ دراصل ایک تدبیر تھی۔ اُس نے عمل کے میدان کو بدل دیا۔ اس سے پہلے اہل ایمان مجبور تھے کہ وہ ٹکراؤ اور جنگ کے میدان میں فریق ثانی سے مقابلہ کریں، لیکن اب اُن کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ اپنی پوری قوت کو یکسوئی کے ساتھ دعوت کے میدان میں استعمال کریں۔ میدانِ عمل کی یہ تبدیلی بے حد اہم تھی۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ صرف دو سال کے محدود عرصے میں اسلام پورے جزیرہ عرب میں پھیل گیا۔
اس نتیجے کو دیکھتے ہوئے مشہور تابعی ابن شہاب الزہری (وفات: 124 ہجری) نے کہا تھا کہ: لقد كان الحديبية أعظم الفتوح (القرطبی، 16/261) یعنی حدیبیہ اسلام میں سب سے بڑی فتح تھی۔ مگر یہ سادہ طور پر صرف نتیجے کی بات نہیں، بلکہ وہ منصوبہ (planning) کی بات تھی۔ کوئی اتفاقی نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک گہری منصوبہ بندی کے ذریعے پیش آنے والا منصوبہ تھا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے نصرت باعتبار فتح کا عنوان دیا ہے۔
یہ معاملہ دراصل نصرت بذریعہ پراسس کا معاملہ تھا۔ حدیبیہ سے پہلے تقریباً 20 سال تک بظاہر ٹکراؤ اور مخالفت کے جو واقعات پیش آرہے تھے، اُن کے ساتھ فطری طور پر ایک زیر سطح پراسس
اس پر اس کو ایک لفظ میں منفی تعارف کہا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ہر ایک کے لیے اسلام ایک ایسی حقیقت بن گیا جو یہ تقاضا کر رہا تھا کہ اُس کو براہِ راست جاننے کی کوشش کی جائے ۔ دوسرے لفظوں میں، اس صورت حال نے بڑے پیمانے پر اسلام کے لیے دعوت کے مواقع پیدا کر دئے، جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے۔
معاہدہ حدیبیہ کا معاملہ بلاشبہ ایک حکیمانہ منصوبہ بندی کا معاملہ تھا۔ یہ حکیمانہ منصوبہ بندی تمام تر فطرت کے قوانین پر مبنی ہے، اس لیے ہر زمانے میں دوبارہ اس کا کامیاب تجربہ کیا جا سکتا ہے، جس طرح دور اول میں اس کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا’’نصرت باعتبار فتح‘‘ کا معاملہ خصائصِ نبوی کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ اسوہ نبوی کا معاملہ ہے۔ اس کو ہر زمانے میں اُسی طرح دہرایا جا سکتا ہے جس طرح پیغمبر کے دوسرے نمونوں کو دہرایا جا سکتا ہے۔