حدیبیہ اور اسوہ رسول
Al-Risala, April 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21) یعنی اللہ کے رسول میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اس آیت میں ’اسوہ‘ کسی محدود معنی میں نہیں ہے، وہ پیغمبر کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اپنی پوری زندگی کے اعتبار سے، اہل ایمان کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس عموم میں استثنا صرف کسی ایسی چیز کا ہو سکتا ہے جس کو صراحتاً پیغمبر کے ساتھ خاص کیا گیا ہو۔ مثلاً ازواج کے معاملے میں بعض پہلوؤں سے آپ کے ساتھ استثنا کا معاملہ، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ (33:50)۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول کا ہر قول اور ہر فعل امت کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہوگا، الا یہ کہ رسول کے کسی فعل کو صراحتاً رسول کی ذات کے ساتھ خاص کیا گیا ہو۔ اس اصول کی روشنی میں معاہدہ حدیبیہ کا معاملہ بلاشبہ ایک قابل تقلید اسوہ رسول کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب بھی اور جہاں بھی وہ حالات پیدا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 6 ہجری میں پیدا ہوئے تھے، تو اُس وقت اسوہ حدیبیہ اُسی طرح امت کے لیے قابل اتباع بن جائے گا، جس طرح وہ دورِ اول کے اہل ایمان کے لیے قابل اتباع بنا تھا۔
معاہدہ حدیبیہ ایک فتح کا معاملہ تھا۔ فتح کا معاملہ صرف پیغمبر کے لیے خاص نہیں، وہ تمام امت کے لیے یکساں طور پر مطلوب ہے۔ قرآن میں بار بار فتح کو اہل ایمان کے لیے ایک عمومی مطلوب کی حیثیت سے بتایا گیا ہے۔ مثلاً: وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ (61:13) جب فتح پوری امت کے لیے ایک مطلوب شے ہے تو فتح کی تدبیر بھی یقینی طور پر پوری امت کے لیے ایک مطلوب شے ہوگی۔ فتح اور تدبیر فتح کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں تدبیر فتح سے مراد سیاسی فتح (political victory) نہیں ہے، بلکہ نظریاتی فتح (ideological victory) ہے۔ موجودہ زمانے میں اس نظریاتی فتح کا امکان پوری طرح پیدا ہو چکا ہے۔ مگر اس نظریاتی فتح کو واقعہ بنانا صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ حکمت حدیبیہ کو سمجھا جائے اور آج کے حالات کے لحاظ سے اس کا استعمال کیا جائے۔