حکمت حدیبیہ
Al-Risala, April 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیبیہ کے واقعے کو سیرت کی کتابوں میں غزوہ الحدبیہ کے عنوان کے تحت درج کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حدیبیہ کا واقعہ دوسرے بہت سے غزوات میں سے ایک غزوہ تھا۔ حدیبیہ کا واقعہ نہ غزوہ تھا اور نہ دوسرے واقعات نبوی کی طرح صرف ایک واقعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیبیہ کا واقعہ ایک اعلیٰ درجے کا منصوبہ تھا۔ حدیبیہ کے واقعے کو، معروف معنی میں، غزوہ کہنا بلا شبہ اس کا کم تر اندازہ (underestimation) کرنے کے ہم معنی ہے۔
حکمتِ حدیبیہ دراصل ایک فطری قانون ہے۔ اس قانون کا ذکر قرآن کی سورہ الفتح میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا (48:27) یعنی اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ یہ قرآن کا ایک اسلوب ہے۔ اس سے مراد اللہ کا علم غیب نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اُس وقت ایک صورتِ حال موجود تھی، لیکن اس کو جاننے کے لیے ربانی عقل درکار تھی، عام آدمی اُس کو سمجھ نہیں سکتا۔ عام آدمی ہمیشہ چیزوں کو فیس ویلو (face value) پر لیتا ہے، عام آدمی صرف اُس بات کو جان پاتا ہے جو سطح پر ہوتی ہے۔ لیکن ربانی عقل رکھنے والا انسان
اپنی بصیرت کے تحت اُس حقیقت کو جان لیتا ہے جو وہاں زیرِ سطح موجود ہوتی ہے۔ 6 ہجری میں عرب کے اندر یہ صورتِ حال تھی کہ بظاہر لوگ پیغمبر کے مخالف بنے ہوئے تھے، لیکن داخلی نفسیات کے اعتبار سے، ہر ایک کے اندر سکنڈ تھاٹ (second thought) آچکا تھا، یعنی شعوری یا غیر شعوری طور پر مذہبِ توحید کے بارے میں دلوں کے اندر نرم گوشہ (soft corner) کا اس کی ایک علامتی مثال خالد بن الولید (وفات: 21 ہجری) کا واقعہ ہے۔ وہ فتح مکہ سے کچھ پہلے ایمان لائے۔ وہ اپنے اُس وقت کے احساس کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: قد شهدت هذا المواطن كلها على محمد صلى الله عليه وسلم، فليس في مواطن أشهده إلا أنصرف وأنا أرى في نفسي أني موضع في غير شيء (حياة الصحابة، جلد 1، صفحہ 160) خالد بن الولید کے ان الفاظ کو اگر جنرلائز کیا جائے تو اُس وقت کے عربوں کی اکثریت کا احساس یہی ہو چکا تھا۔ اگرچہ خارجی سطح پر ٹکراؤ اور مخالفت کا ماحول نظر آتا تھا، لیکن داخلی نفسیات کے اعتبار سے بیش تر لوگ فقد صغت قلوبكما (66:4) کا نمونہ بن چکے تھے۔
یہ صورتِ حال تھی جس کو استعمال (avail) کرنے کے لیے ایک عملِ اعتدال (process of normalization) درکار تھا، کیوں کہ معتدل ماحول کے بغیر اس امکان کو استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یک طرفہ بنیاد پر معاہدہ حدیبیہ کر کے یہی معتدل ماحول بنایا گیا۔ اور اس کے بعد فطری طور پر وہ نتیجہ برآمد ہوا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (110:1-2) ظاہر دنیا، باطن دنیا صلح حدیبیہ 6 ہجری میں ہوئی۔ اس واقعے کو قرآن میں فتح مبین (48:1) کہا گیا ہے۔ حکمت (wisdom) کے تحت حدیبیہ کا معاہدہ کیا گیا، اُس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا (48:27) یعنی اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی، پس اللہ نے اس سے پہلے ایک فتح قریب ٹھہرا دی۔
قرآن کی اس آیت میں بظاہر دنیا کا اور آخرت کا ذکر ہے، مگر اس آیت کا ایک توسیعی مفہوم (extended sense) بھی ہے، جس کا اشارہ آیت کے اس لفظ میں ملتا ہے: يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (30:7)۔ گو یا دنیا کا ایک ظاہر ہے اور ایک اس کا باطن ہے۔ مگر ظاہر ہیں لوگ صرف اس کے ظاہر کو جانتے ہیں، وہ اس کے باطن سے بے خبر رہتے ہیں، یعنی اکثر لوگ چیزوں کو ان کے فیس ویلو(face-value) پر لیتے ہیں، حالات کے گہرے پہلوؤں تک ان کی نظر نہیں پہنچتی۔ یہ آیت قرآن میں صلح حدیبیہ کے سیاق میں اتری۔ اس پس منظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے آیت پر غور کیجئے تو اس سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سطح (surface) پر جو کچھ نظر آتا ہے، وہ صرف حالات کا ظاہری پہلو ہوتا ہے، اس کے سوا ایک اور چیز ہوتی ہے جو انڈر کرنٹ (undercurrent) ہوتی ہے۔ جس آدمی کے اندر ربانی بصیرت ہو، وہ سطح سے گزر کر انڈر کرنٹ امکانات کو دیکھ لے گا۔ وہ سطح کی باتوں کو نظر انداز کرے گا اور جو چیز انڈر کرنٹ ہے، اس کو دریافت کرکے اس کے مطابق، اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے گا۔
یہ ایک حکمتِ حیات ہے، یعنی سطح کی باتوں کو نظر انداز کرکے انڈر کرنٹ جو حالات ہیں، ان کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرنا۔ معاہدۂ حدیبیہ اسی حکمت کی ایک پیغمبرانہ مثال ہے۔ یہ مثال پیروانِ رسول کے لیے ایک ابدی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیروانِ رسول کو چاہیے کہ وہ رسول اللہ کے اس نمونے کو اپنے حالات پر منطبق کریں اور اُس عظیم کامیابی کے حصے دار بنیں جو اس حکمت پر اللہ نے مقدر کی ہے۔ اکیسویں صدی میں حدیبیہ منصوبہ اکیسویں صدی میں دوبارہ وہی حالات زیادہ بڑے پیمانے پر پیدا ہو گئے ہیں جو کہ پہلی صدی ہجری میں معاہدہ حدیبیہ کے وقت عرب میں پیدا ہوئے تھے۔ اکیسویں صدی میں دوبارہ پوری طرح وہ امکان پیدا ہو گیا ہے جب کہ معاہدہ حدیبیہ کی تاریخ کو عالمی سطح پر دہرایا جائے۔ اس امکان کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کی شرط دوبارہ وہی ہے جو دو راؤل میں پیش آئی، اور وہ ہے صابرانہ دانش مندی یا دانش مندانہ صبر۔ موجودہ زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مغربی قومیں نئے ذرائع سے مسلح ہو کر پوری دنیا میں
پھیل گئیں ۔ انھوں نے ہر جگہ اپنا دبدبہ قائم کر دیا۔ یہ واقعہ زیادہ بڑے پیمانے پر اٹھارھویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ اُس وقت کی دنیا میں مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں قائم تھیں— برصغیر ہند میں مغل ایمپائر، ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں ترک ایمپائر، وغیرہ۔ مغربی قوموں نے مسلمانوں کی ان سلطنتوں کو مغلوب کر لیا اور ہر جگہ اپنا دبدبہ قائم کر لیا۔ اس عمل کا نقطہ آغاز متعین کرنا ہو تو وہ 1799 قرار پائے گا۔ اسی سال دو بڑے فیصلہ کن واقعے ہوئے۔ ایک طرف، اسی سال بحر متوسط (naval fleet) میں مغربی طاقتوں نے ترکوں کے عظیم بحری بیڑہ (Mediterranean Sea) پر حملہ کر کے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اور دوسری طرف، اسی سال برٹش فوج نے سلطان ٹیپو کی فوج کو کامل شکست دے دی۔ اس کے بعد برٹش جنرل نے فاتحانہ جذبے کے ساتھ کہا تھا کہ— آج انڈیا ہمارا ہے! (Today, India is ours!
اس کے بعد انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مسلسل اس طرح کے واقعات ہوتے رہے۔ مثلاً 1857 میں انڈیا میں مغل سلطنت کا خاتمہ، 1924 میں خلافت عثمانی کا خاتمہ، 1948 میں اسرائیل کا قیام، اور پھر دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کے بعد نام نہاد امریکی امپیریل ازم (American Imperialism) کا ظہور، وغیرہ۔
اس طرح کے واقعات نے پوری مسلم دنیا میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ ہر جگہ نفرت اور تشدد اور جہاد ایکٹوزم شروع ہو گیا۔ ہر جگہ کے مسلمانوں میں وہی جارحانہ کلچر وجود میں آگیا جس کی ترجمانی عرب شاعر خیر الدین الزرکلی (وفات: 1976) کے ان الفاظ سے ہوتی ہے :
هاتِ صلاح الدين ثانيةً فينا جدّدی حطینا أو شبه حطين (صلاح الدین کو دوبارہ ہمارے درمیان لے آؤ۔ حطین یا حطین جیسا معرکہ دوبارہ گرم کرو) واقعات بتاتے ہیں کہ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کی دوسوسالہ مدت تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ’’جہادا یکٹوزم‘‘ کی صدی تھی۔ تمام مسلم دنیا اس جہادا یکٹوزم میں شامل تھی، اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ تقریر اور تحریر کی زبان میں نفرت اور تشدد کی بولی بول رہے تھے، اور بقیہ لوگ
باقاعدہ ہتھیاروں کے ذریعے اپنے مفروضہ دشمن کے ساتھ باقاعدہ لڑائی چھیڑے ہوئے تھے، لیکن یہ دوسوسالہ مقابلہ آرائی یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی مغلوبیت پر ختم ہوئی۔ آج ساری دنیا کے مسلمان ایک ہی بولی بول رہےکہ ہیں — ہم مخالفین کی سازشوں سے گھرے ہوئے ہیں، ہم دشمنوں کی معاندانہ کارروائیوں کا شکار ہیں، وغیرہ۔ اس موضوع پر آج کا مسلم پریس، عربی، فارسی، انگریزی اور اردو میں جو کچھ کہہ رہا ہے، اس کا خلاصہ ایک جملے میں یہ ہے — ہم محاصرہ کی حالت میں ہیں (We are under siege)۔