Al-Risala · April 2013

سیکولر مثال

Al-Risala, April 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

ان صفحات میں جو بات کہی جارہی ہے، وہ صرف ایک مذہبی بات نہیں ہے، یہ دراصل ایک اصول فطرت (law of nature) ہے۔ خالق نے جن اصولوں کے تحت اس دنیا کو بنایا ہے، اُن میں سے ایک اصول یہ بھی ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں سطح (on the surface) پر ہوتی ہیں جن کو ہر آدمی دیکھ سکتا ہے، اور کچھ زیادہ بڑی چیزیں ہوتی ہیں، مگر وہ ہمیشہ زیر سطح (underneath the surface) ہوتی ہیں۔ ان دوسری چیزوں کو ہمیشہ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو بصیرت (wisdom) رکھنے والے ہیں۔ اس دنیا میں زیادہ بڑی کامیابی صرف اُن لوگوں کے لیے مقدر ہے جو انڈر کرنٹ چیزوں کو دیکھ سکیں اور اس کے مطابق ، اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ اس کی ایک مثال جاپان ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان محوری گروپ (Axis powers) کے ساتھ تھا۔ اُس زمانے میں جاپان ایک تشدد پسند قوم کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن جنگ کے دوران امریکا نے جاپان پر ایٹمی حملہ کیا۔ اس نے جاپان کے دو شہر ہیروشیما (Hiroshima) اور ناگاساکی

(Nagasaki) پر اگست 1945 میں دو ایٹم بم گرائے- یہ جاپان کے لیے ایک ہلاکت خیز تجربہ تھا۔ اس کے بعد جاپان بظاہر پوری طرح تباہ شدہ ملک بن گیا۔

اُس وقت جاپان کا سیاسی لیڈر ہیرو ہٹو (Hirohito) تھا۔ ہیرو ہٹو ایک مدبر آدمی تھا۔ نے اپنی بصیرت سے یہ جانا کہ سرفیس پر جو حالات ہیں، وہ بظاہر جاپان کے لیے ناموافق ہیں، لیکن انڈرکرنٹ جو صورت حال ہے، وہ جاپان کے لیے ایک موافق امکان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُس وقت کی دنیا میں دو بڑی طاقتیں تھیں— روس اور امریکا۔ دونوں ملک بھاری مصنوعات (hardware) میں مشغول تھے اور ہلکی مصنوعات (software) کا میدان تقریباً خالی تھا۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس حقیقت کو جانا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس مخفی امکان کو استعمال کرے۔ اس کے بعد جاپان نے دو کام کیے۔ ایک طرف، جاپان نے یہ کیا کہ اس نے امریکا سے ٹکراؤ کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا، اور اپنی ساری تو جہ تعلیم اور صنعت کے میدان کی طرف موڑ دیا۔ بعد جو ہوا، وہ یہ کہ تقریباً 30 سال کے اندر جاپان کی ایک نئی تاریخ وجود میں آگئی۔ جاپان نے نہ صرف جنگ کے نقصانات کی تلافی کردی، بلکہ اس نے اتنی ترقی کی وہ جدید دور میں اقتصادی سپر پاور (economic superpower) بن گیا۔ یہ معجزہ اس طرح پیش آیا کہ جاپان نے سرفیس کے حالات کو نظر انداز کیا اور انڈر کرنٹ جو امکانات چھپے ہوئے تھے، ان کو استعمال کیا۔ اس معاملے کی دوسری مثال وہ ہے جو انڈيا میں پیش آئی۔ انڈیا میں تقریباً 200 سال تک برٹش حکومت قائم رہی۔ 1857 میں انڈیا میں آزادی کی لڑائی شروع ہوئی۔ یہ لڑائی ہتھیاروں کے بل پر شروع کی گئی تھی۔ اس جنگ میں کچھ مسلم لیڈر اور کچھ ہندو لیڈر شریک تھے۔ آزادی کی یہ جنگ تقریباً 60 سال تک جاری رہی، مگر اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کسی اور صورت میں نہیں نکلا۔ آخرکار 1919 میں مہاتما گاندھی سیاست کے میدان میں آئے اور انھوں نے جنگ آزادی کی قیادت سنبھالی۔ انڈیا بظاہر ایک تباہ شدہ ملک بنا ہوا تھا، لیکن مہاتما گاندھی نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اس حقیقت کو جانا کہ یہاں انڈرکرنٹ ایک اور صورت حال موجود ہے جو انڈیا کے لیے ایک موافق امکان کی حیثیت

رکھتی ہے ۔ شرط صرف یہ ہے کہ تشدد کا طریقہ چھوڑ کر امن کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ یہ انڈر کرنٹ امکان کیا تھا ، وہ یہ تھا کہ جس زمانے میں برطانیہ انڈیا پر حکومت کر رہا تھا ، اُسی زمانے میں یورپ کے ملکوں میں شاہی خاندان راج کر رہے تھے ۔ اِن یورپی ملکوں میں ان حکومتوں کے خلاف بہت بڑے پیمانے پر تحریکیں اٹھیں ۔ بڑے بڑے یورپی دماغوں نے یہ نظریہ پھیلایا کہ کسی خاندان کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی ملک پر حکومت کرے ۔ اِس سیاسی تحریک کے نتیجے میں ایک سیاسی اصول پورے یورپ میں ایک مسلّمہ اصول بن گیا ۔ اِس اصول کو عام طور پر حکومتِ خود اختیاری (self-determination) کا اصول کہا جاتا ہے :

The right of a people to decide upon its own form of government without coercion or outside influence. یہ سیاسی انقلاب یورپ میں پہلے فکری سطح پر آیا ۔ اس کے بعد اس نے عملی صورت اختیار کی ۔ اس سیاسی انقلاب کا پہلا عملی اظہار فرانس میں ہوا ۔ یہ فرنچ ریولوشن (French Revolution) تھا جو 1789 میں پیش آیا ۔ اس انقلاب کے بعد فرانس میں شخصی بادشاہت ختم ہو گئی اور جمہوری حکومت قائم ہو گئی ۔ دھیرے دھیرے یہ انقلاب پورے یورپ میں پھیل گیا ۔

مہاتما گاندھی نے اس سیاسی مسلّم کو استعمال کیا ۔ انھوں نے کہا کہ خود یورپ کے حالات بتاتے ہیں کہ اب بادشاہت کا دور ختم ہو چکا ہے اور ہر ملک کو حق ہے کہ وہ اپنے یہاں قومی حکومت قائم کرے ۔ مہاتما گاندھی نے اس اصول کو لے کر انڈیا کی تحریک آزادی کو نیا رخ دے دیا ۔ انھوں نے تشدد کا طریقہ چھوڑ کر پورے معنوں میں پر امن طریقہ اختیار کیا ، جس کو وہ اہنسا (non-violence) کہتے تھے ۔ مہاتما گاندھی کی یہ پر امن جدو جہد آزادی برٹش حکومت کے لیے نیا مسئلہ بن گئی ۔ نے محسوس کیا کہ پہلے ، جد و جہد آزادی کو دبا نا آسان تھا ۔ کیوں کہ وہ لوگ برٹش حکومت کے خلاف ہتھیار استعمال کرتے تھے ۔ اس طرح برٹش حکومت کو موقع ملتا تھا کہ وہ ان کے خلاف ہتھیار استعمال کر کے انھیں کچل دے ۔ اس تبدیلی نے برٹش حکمرانوں سے ہتھیار کے استعمال کا جواز چھین لیا ۔ اس صورتِ حال کا

اندازہ ایک واقعے سے ہوتا ہے۔ اُس زمانے میں ایک برٹش کلکٹر نے اپنے سیکریٹریٹ کو یہ تار بھیجا۔ براہِ کرم، بذریعہ ٹیلی گرام یہ بتائیے کہ ’’شیر‘‘ کو ہتھیار کے استعمال کے بغیر کیسے ہلاک کیا جائے: Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently. یہ ایک سیکولر مثال ہے کہ کس طرح ایک لیڈر نے اپنے زمانے کے انڈر کرنٹ حالات کو سمجھا اور کامیابی کے ساتھ اس کو استعمال کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ اصولِ فطرت کا ایک اصول ہے۔ فطری امکان ہے جو ہمیشہ اور ہر صورتِ حال میں موجود رہتا ہے۔ اِس امکان کو ہر بڑے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، خواہ وہ سیکولر مقصد ہو یا مذہبی مقصد۔ یہی امکان موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے پوری طرح موجود ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو سمجھا جائے اور حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر کے حکیمانہ انداز میں اس کو استعمال کیا جائے۔ فضلِ عظیم کا معاملہ قرآن کی سورہ النساءِ میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مَّنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمْكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (4:113) یعنی اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو اُن میں سے ایک گروہ نے یہ ٹھان لیا تھا کہ وہ تم کو بہکا کر رہے گا، حالاں کہ وہ اپنے آپ کو بہکا رہے ہیں، وہ تمھارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور تم کو وہ چیز سکھائی ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے، اور اللہ کا فضل ہے تم پر بہت بڑا۔

قرآن کی اس آیت میں ’فضل‘ کا لفظ کسی پراسرار معنی میں نہیں ہے۔ فضل کے لفظی معنی ہیں: زیادہ یا شئی مزید (additional thing)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے علاوہ ایک مزید چیز دی گئی جو کہ ختم نبوت کا رول ادا کرنے کی نسبت سے آپ کے لیے ضروری تھی، یعنی وہ اسباب یا مواقع جن کو استعمال کر کے آپ خاتم النبیین کی حیثیت سے اپنا فریضہ انجام دے سکیں ۔ مثلاً ہاجرہ اور

اسماعیل کے ذریعے سے ایک نئی نسل کی تیاری جس کو ذکر قرآن کی سورہ ابراہیم (14) کی آیت نمبر 37 میں کیا گیا ہے، یا ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر دونوں کو کمزور کر دینا، جس کا اشارہ قرآن کی سورہ الروم کی آیت نمبر 2 میں کیا گیا ہے۔ مذکورہ آیت (4:113) میں اسی قسم کی نصرت مراد ہے، نہ کہ پراسرار قسم کی کوئی شخصی فضیلت نصرت کا یہ خصوصی معاملہ پیغمبر کے مشن کی نسبت سے تھا، نہ کہ پیغمبر کی ذات کی نسبت سے۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں علم کی تعلیم (وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ) سے مراد علم وحی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد مذکورہ قسم کے موافق امکانات سے پیغمبر کو باخبر کرنا ہے۔ یہی اسلوب سورہ الفتح (48) میں اختیار کیا گیا ہے جہاں ’علم ما لم تعلموا‘ کا لفظ آیا ہے۔ سورہ الفتح کی اس آیت میں علم سے مراد وہ موافق امکانات ہیں جو معاہدہ حدیبیہ کے اندر باعتبار نتیجہ چھپے ہوئے تھے۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پچھلے زمانوں میں ہزاروں سال کے دوران بہت سے پیغمبر ان پیغمبروں نے نبوت کا فریضہ پوری طرح انجام دیا، لیکن ان کا مشن صرف اعلان توحید تک پہنچا۔ اُن میں سے کسی کے زمانے میں نہ مطلوب قسم کی امت بنی اور نہ دین خداوندی کا متن محفوظ ہو سکا اور نہ توحید پر مبنی عمومی انقلاب آیا، جو کہ اللہ تعالیٰ کا مقصود تھا۔ یہی وجہ تھی جس کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے لیے اللہ تعالیٰ نے خصوصی اسباب فراہم کیے۔ ان اسباب کو استعمال کر کے یہ ممکن ہوا کہ دنیا میں توحید پر مبنی انقلاب آئے اور دین خداوندی کی نئی تاریخ بنے۔ پیغمبر اسلام کے لیے وحی کے علاوہ، جو مزید موافق اسباب فراہم کیے گئے، انھیں کو قرآن میں فضل کہا گیا ہے، یعنی اضافی اسباب یا مزید نصرت۔ اللہ تعالیٰ نے ایک لمبی مدت کے اندر یہ اضافی اسباب فراہم کیے، یہاں تک کہ رسول اور اصحاب رسول کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ ان اسباب کو استعمال کر کے وہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے کی تکمیل کریں۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں ’وعلّمک ما لم تکن تعلم، اُس وحی کے لیے نہیں ہے جو قرآن کی سورت میں آپ پر نازل ہوئی۔ بلکہ اس سے مراد وہ علم ہے جس کا تعلق مذکورہ موافق امکانات

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر ان موافق امکانات کی خبر دی، تا کہ آپ شعوری طور پر ان امکانات سے واقف ہوں اور ان کو اپنے مشن کے حق میں استعمال کر سکیں۔ 6 ہجری میں پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ ہوا تھا، وہ اس معاملے کی ایک واضح مثال ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، حضرت عمر فاروق کو اس معاہدے پر سخت اختلاف ہو گیا تھا۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ایک حصہ کتابوں میں اس طرح نقل ہوا ہے: قال عمر: فأتيت أبابكر، فقلت يا أبابكر، أليس هذا نبي الله قلت: ألسنا على الحق وعدونا على الباطل؟ قال: بلى، قلت: فلم نعطي الدنية في ديننا إذاً؟ قال: أيها الرجل، إنه رسول الله وليس يعصي ربه، وهو ناصره، فاستمسك بغرزه، فوالله إنه على الحق - (تفسیر ابن کثیر 4/ 199) یعنی عمر فاروق کہتے ہیں کہ پھر میں ابو بکر کے پاس گیا۔ میں نے کہا کہ اے ابو بکر، کیا رسول اللہ نبی برحق نہیں ہیں۔ نے کہا کہ ضرور آپ نبی برحق ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم حق پر ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر انھوں نے کہا کیوں نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر کیوں ہم اپنے دین کے معاملے میں ذلت کو اختیار کریں۔ ابو بکر نے کہا کہ اے شخص، وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ کبھی اپنے رب کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ ضرور ان کی مدد کرے گا۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو لازم پکڑو۔ خدا کی قسم، وہ حق پر ہیں۔ دورِ جدید کی مثال قرآن کی مذکورہ آیت میں اللہ کے جس 'فضلِ عظیم' کا ذکر ہے، اس کا ظہور صرف ایک بار نہیں ہوا، بلکہ خدا کی دوسری رحمتوں کی طرح وہ بھی تاریخ میں بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ فضل یا اضافی نصرت بہت بڑے پیمانے پر ظاہر ہو چکی ہے۔ اہلِ ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اس کو پہچانیں اور اس کو خدائی مشن کے حق میں بھر پور طور پر استعمال کریں۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اس لیے بھیجا، تا کہ وہ سارے عالم کو امرِ حق سے آگاہ کر دے (25:1)۔ اس آیت میں جس عالمی نشانے کا ذکر ہے، وہ اول دن سے مطلوب تھا،

مگر اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق ، اس دنیا میں کسی نشانے کی تکمیل کراماتی طور پر نہیں ہوتی، بلکہ وہ اسباب کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس عالمی دعوتی نشانے کو انجام دینے کے لیے قدیم زمانے میں عالمی مواصلات کا نظام عملاً موجود نہ تھا ، اس بنا پر مطلوب نشانہ بھی قدیم زمانے میں پورا نہ ہو سکا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں ایک نیا پراس جاری کیا۔ اس پر اس کی تکمیل باقاعدہ طور پر انیسویں صدی میں ہوئی ۔ انیسویں صدی اور اس کے بعد کی صدی میں وہ تمام اسباب وجود میں آگئے جو دین حق کی عالمی پیغام رسانی کے لیے ضروری تھے۔ آج جس چیز کو دور مواصلات کہا جاتا ہے، وہ دراصل اسی خدائی منصوبے کے تحت وجود میں آیا ہے۔

یہ دور مواصلات اور اس نوعیت کے دوسرے تائیدی ذرائع گویا کہ دور جدید کے فضل عظیم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر اسلام کو اُس زمانے کے اعتبار سے فضلِ عظیم یا موافق اسباب دئے گئے تھے، موجودہ زمانے میں پیغمبر کی امت کو دوبارہ جدید تقاضوں کے مطابق ، فضلِ عظیم یا موافق اسباب عطا کیے گئے ہیں۔ اب امت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے زمانے کے فضلِ عظیم کو پہچانے اور اس کو استعمال کرکے اپنے آپ کو اللہ کی عظیم سعادتوں کا مستحق بنائے۔ (15 ستمبر 2012) صدر اسلامی مرکز کے آڈیو اور ویڈیو لیکچرز کے لیے حسب ذیل لنکس ملاحظہ ہوں: قرآن کی عمومی اشاعت میں حصہ لینے کے لیے ملاحظہ فرمائیں:

I. Fill the form at: www.alquranmission.org/QuranDistributor.aspx 2. Send us a postcard with your Al Risala Numbe, Name, Complete Postal Address, Mobile number, Email id and the Area in which you would like to spread the Quran to the following address:

I, Nizamuddin West Market New Delhi- 110013

Printed page