Al-Risala · January 2013

ارضیاتی شواہد

Al-Risala, January 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں ارضیات (Geology) کے بارے میں بہت زیادہ تحقیقات کی گئی ہیں۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں ایک حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ عراق اور ترکی کے درمیان کا جو علاقہ ہے، اُس میں کئی ہزار سال پہلے بہت بڑا سیلاب آیا تھا۔ یہ سیلاب اتنا بڑا تھا کہ اس نے اُس وقت کی آباد دنیا کو پوری طرح تباہ کر دیا۔ اس موضوع پر بہت سی تحقیقات چھپ چکی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم تحقیق درج ذیل کتاب کی صورت میں شائع ہوئی ہے جس کو دو مصنفین نے تیار کیا ہے: Noah's Flood: The New Scientific Discoveries About the Event that Changed History, by William Ryan and Walter Pitman, Published: 1999 by Simon & Schuster, USA, 320 pages ان تحقیقات سے یہ بات علمی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ ہزاروں سال پہلے ایک عظیم سیلاب آیا، لیکن محققین اپنے سیکولر (secular) ذہن کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ مختلف قوموں میں اور اسی طرح بائبل میں نوح کا جو قصہ بیان ہوا ہے، وہ بعد کو اسی تاریخی واقعے کو لے کر وضع کیا گیا ہے۔ کے نزدیک یہ تاریخی واقعہ کو کہانی کا روپ دینا (mythicization) ہے، حالاں کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ مانا جائے کہ ارضیاتی تحقیق سے جو بات ثابت ہوئی ہے، وہ عظیم سیلاب کے بارے میں اُس واقعے کی تاریخی تصدیق کرتی ہے جو پہلے سے بائبل اور قرآن میں موجود تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بائبل اور قرآن کے نزول کے زمانے میں حضرت نوح اور ان کے عہد میں آنے والے طوفان کے بارے میں تاریخی طور پر کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ البتہ قرآن کے بیان میں مزید یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ مستقبل میں حضرت نوح کی کشتی ظاہر ہوگی اور وہ حضرت نوح کے معاملے کی تاریخی تصدیق کرے گی (54:15)۔

ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے کہ ارضیاتی تحقیق سے جو بات ثابت ہوئی ہے، اس کو بائبل اور

قرآن کی تاریخی تصدیق (historical verification) سمجھا جائے، نہ کہ برعکس طور پر یہ کہا جائے کہ قدیم زمانے میں جو عظیم سیلاب آیا تھا، اُس کی بنیاد پر لوگوں نے فرضی کہانی بنا لی۔

Printed page