Al-Risala · May 2013

یہ اسلام نہیں

Al-Risala, May 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف ایک تحریک اُٹھی۔ اس کی قیادت الاخوان المسلمون کے لوگ کر رہے تھے۔ اس کے نتیجے میں حسنی مبارک کی حکومت ختم ہوگئی۔ اس کے بعد مصر میں الیکشن الیکشن کے بعد الاخوان المسلمون کے ایک لیڈر ڈاکٹر محمد مرسی مصر کی نئی حکومت کے صدر مقر رہوئے۔ جنوری 2013 میں اس’’انقلاب‘‘ پر ایک سال گزر چکے ہیں، مگر ابھی تک وہاں امن قائم نہیں ہوا۔ 26 جنوری 2013 کو سوئز کے کنارے واقع شہروں میں مصریوں کا ایک جلوس نکالا گیا۔ واقعے کو لے کر جلوس اور پولیں کے درمیان ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ میں تقریباً 50 آدمی مارے گئے۔ کے شرکا اپنے ہاتھ میں بہت سے بینر لیے ہوئے تھے۔ ان بینروں میں پچھلے سال اسی قسم کے ایک تصادم میں ہلاک ہونے والے مصریوں کی تصویریں تھیں۔ ان تصویروں کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا: لن ننساکم( (ہم ہرگز تم کو نہیں بھولیں گے)۔

یہ نہ بھولنے کا کلچر ہر جگہ کے مسلمانوں میں عام ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان بار بار ایسا کرتے ہیں کہ وہ جذباتی اِشوز پر پرشور مظاہرے کرتے ہیں۔ یہ مظاہرہ بعد کو تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ میں بہت سے لوگ زخمی ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ مارے جاتے ہیں۔

ہر جگہ کے مسلمان اسی نفسات میں جی رہے ہیں کہ ہم اپنے ’’شہیدوں‘‘ کو نہیں بھولیں گے، ہم ضرور اُن کا بدلہ لیس گے۔ اس کے نتیجے میں مسلمان ایک قسم کی آتش پذیر کمیونٹی (combustible community) بن گئے ہیں۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں ہر جگہ یہی کلچر پھیلا ہوا ہے۔ اس کلچر نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو نفرت اور تشدد کی نفسیات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہر جگہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ منفی جذبات سے بھرے رہتے ہیں اور کوئی بھی خلاف واقعہ پیش آنے پر وہ فوراً بھڑک اُٹھتے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی یہ منفی نفسیات بلا شبہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

لازم ہے کہ وہ نہ بھلانے والے کلچر کو چھوڑ کر ، بھلانے والا کلچر اختیار کریں ، ورنہ وہ قیامت تک اس کے تباہ کن نتائج بھگتے رہیں گے۔ کوئی بھی دوسری تدبیر اس معاملے میں اُن کو نجات دینے والی نہیں۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے دوران مسلمانوں کے اندر بڑی بڑی سیاسی تحریکیں ان تمام تحریکوں کا نشانہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر صرف ایک تھا کھوئے ہوئے مسلم ایمپائر کا دوبارہ قیام۔ مگر دوسوسال کی دھواں دھار سرگرمیوں کے باوجود یہ نشانہ حاصل نہیں ہوا۔ تمام سیاسی تحریکوں کے مسلم رہنما آخر کار مایوسی میں مبتلا ہوئے اور مایوسی میں اس دنیا سے چلے گئے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ کوئی سیاسی ایمپائر، خواہ وہ مسلم ایمپائر ہو یا غیر مسلم ایمپائر، حالات کے تحت قائم ہوتا ہے۔ یہ قدیم زمانے کا ایک ظاہر ہ تھا کہ مختلف قوموں نے اپنے ایمپائر قائم کیے۔ زمانی حالات کی بنا پر مسلمانوں کو بھی یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنا ایمپائر قائم کریں۔ مگر اٹھارھویں صدی میں یہ زمانی حالات ختم ہوگئے ۔ اب کسی قوم کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ قدیم طرز کا سیاسی ایمپائر قائم کرے۔ مسلمانوں کی سیاسی تحریکوں کو جو ناکامی ہوئی ، وہ کسی دشمن کی’’ سازش‘‘ کی بنا پر نہ تھی، وہ صرف اس لیے تھی کہ موجودہ زمانے میں اٹھنے والے مسلم رہنما زمانے کی تبدیلی سے بے خبر تھے۔ اس بنا پر وہ ایسی سیاست کے چیمپئن بنے رہے جو نئے دور میں سرے سے ممکن ہی نہ تھی۔

اب جو لوگ مسلم تحریکوں کی ناکامی کو دشمن کی’’ سازش‘‘ قرار دے کر مضامین اور کتابیں لکھ رہے ہیں، وہ صرف اپنی بے دانشی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ اکیسویں صدی میں تمام دنیا کے مسلمانوں کو صرف ایک ہی کام کرنا ہے، یہ کہ وہ ماضی میں کی ہوئی اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور یہ عہد کریں کہ اب دوبارہ وہ ایسی غلطی نہ کریں گے، نہ فکری اعتبار سے اور نہ عملی اعتبار سے۔ موجودہ دنیا میں غلطی کرنا ایک امر فطری ہے۔ کوئی بھی شخص غلطی کر سکتا ہے، لیکن غلطی کے بعد جب موافق نتیجہ نہ نکلے تو یہ بلا شبہ دیوانگی ہوگی کہ اپنی ناکامیوں کا سبب دشمنوں کی سازش کو قرار دے غلطی کرنا قابل معافی ہے، لیکن غلطی کا اعتراف نہ کرنا ہر گز قابل معافی نہیں۔

Printed page