Al-Risala · May 2013

منصوبہ تخلیق

Al-Risala, May 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے بعد انسانی نسلوں کی ہدایت کے لیے اولاً پیغمبر بھیجنا شروع کیا۔ حضرت آدم سے لے کر حضرت ابراہیم تک بڑی تعداد میں پیغمبر آئے، لیکن دنیا میں مطلوب حالت قائم نہ ہوسکی ۔ وہ مطلوب حالت یہ تھی کہ ایک طرف، دین خداوندی کا مستند متن محفوظ

ہو جائے ۔ اور دوسری طرف انسان کو دین خداوندی کے معاملے میں کامل آزادی حاصل ہو۔ معاملے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ مگر مختلف اسباب کے تحت ایسا ہوا کہ انسانی زندگی میں ایک برعکس حالت قائم ہوگئی۔ اس کو ایک لفظ میں، استبدادیت (despotism) کہا جاسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں ہر جگہ انسانی زندگی میں استبدادی ماڈل (despotic model) رائج ہوگیا۔ اس ماڈل کے تحت انسانی زندگی کے تمام معاملات مُستَبِد حکمران (despotic rulers) کے تحت یہ مُستَبِد حکمران اپنے مزاج کے تحت ہر نئی چیز کے دشمن ہوتے تھے۔ وہ ہر نئی تحریک کو پوری طاقت سے کچل دیتے تھے، تا کہ لوگوں کے اوپر ان کی حکمرانی غیر مشروط طور پر قائم رہے۔ اِسی نظام کا ایک ظاہر وہ تھا جس کو قرآن میں فتنہ (8:39) کہا گیا ہے۔ اس ظاہرے کا سیکولر نام مذہبی جبر ہے۔ اِسی مذہبی جبر کی بنا پر قدیم زمانے میں لوگوں کو مذہب توحید اختیار کرنے کی اجازت نہ تھی، کیوں کہ وہ حکمراں کے اختیار کردہ مذہب کے خلاف ہوتا تھا۔ اسی بنا پر قدیم زمانے میں موحدین کو قتل کر دیا گیا یا آگ میں جلا دیا گیا۔ اِسی بنا پر اصحابِ کہف (Seven Sleepers) اپنی بستی کو چھوڑ کر ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، وغیرہ۔ قدیم زمانے میں اس قسم کے جو شدید واقعات پیش آئے، اس کا سبب کوئی سیاسی اختلاف نہ تھا، بلکہ اس کا سبب تمام تر صرف مذہبی اختلاف تھا۔ حضرت ابراہیم کے زمانے میں اللہ نے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کیا۔ انسان کی آزادی کو منسوخ کیے بغیر کیا گیا۔ اسی کے ساتھ اسباب کے ماحول کو پوری طرح برقرار رکھا اس صورت حال کی بنا پر اس خدائی عمل کے ساتھ ایک شبہہ کا عنصر (element of doubt) شامل ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مذاہب ثلاثہ کے علماءِ خدا کے اس منصوبے کو سمجھ نہ سکے۔ حضرت ابراہیم کی امامت کا معاملہ علما مذاہب کے لیے ایک پر اسرار معاملہ بنار ہا۔

مذاہب ثلاثہ کے علما اس معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہیں۔ وہ اس واقعے کی کوئی ایسی تو جیہہ دریافت نہ کر سکے جو اس معاملے میں اُن کو یقین پر کھڑا کرنے والی ہو۔ انھوں نے اپنے ذہنی سانچے

(mind-set) کے اعتبار سے، بعض توجیہات کیں، مگر انھوں نے دیکھا کہ ان توجیہات کو تاریخ کی تصدیق حاصل نہیں ہورہی ہے، اس لیے وہ اس معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہوکر رہ گئے۔ مثلاً کچھ لوگوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم کے ذریعہ دنیا کو توحید کی مستند آئیڈیالوجی ملی۔ بات حقیقت واقعہ کے خلاف ہے، کیوں کہ دنیا کو توحید کی آئیڈیالوجی قرآن کے ذریعے حاصل ہوئی، نہ کہ صحف ابراہیم (87:19) کے ذریعے، جو کہ عملاً اب گم شدہ صحائف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لوگوں نے یہ کہا کہ حضرت ابراہیم کے ذریعے ساری دنیا میں خدائی حکومت قائم ہوئی، مگر تاریخ میں ایسے کسی واقعے کا ذکر نہیں جب کہ ساری دنیا میں خدائی حکومت قائم ہو اور حضرت ابراہیم اس میں صدر کی حیثیت رکھتے ہوں، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام توجیہات لوگوں کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں، اُن کا خدا کے نقشہ تخلیق سے کوئی تعلق نہیں۔

اس معاملے میں خدا کا منصوبہ کیا تھا، اس کو قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم کیا جاسکتا قرآن کی سورہ المائدہ میں ایک آیت آئی ہے جس کو اکمال دین (5:3) کی آیت کہا جاتا ہے۔ اس آیت میں اکمال دین سے مراد شرعی احکام کی فہرست کا مکمل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اہل دین کے لیے خوف کی حالت کا خاتمہ ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کو آیت میں ان الفاظ میں کہا گیا ہے: الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ (5:3) یعنی آج منکرین تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے، پس تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں کسی وقتی واقعے کا ذکر نہیں ہے، اس میں ایک تاریخی حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ آیت حجة الوداع (10 ہجری) کے موقع پر نازل ہوئی۔ اس آیت کا نزول دراصل تاریخ کے ایک دور کے خاتمے اور تاریخ کے دوسرے دور کے آغاز کا اعلان تھا۔ یہ اعلان اب پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ اگرچہ اہل مذاہب اپنے خود ساختہ ذہن کی بنا پر اس حقیقت سے بے خبر رہے۔ اسباب اور انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے جو خدائی منصوبہ بندی کی گئی، اس کا خاص نشانہ

یہ تھا کہ دنیا میں مذہبی جبر کا مکمل خاتمہ ہو جائے، ہر انسان کو یہ موقع ہو کہ وہ مذہب کے معاملے میں اپنے انتخاب (choice) کے لیے مکمل طور پر آزاد ہو جائے۔ یہ منصوبہ بندی مکمل طور پر ایک غیر سیاسی منصوبہ بندی اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا، نہ نظری اعتبار سے اور نہ عملی اعتبار سے۔ حضرت ابراہیم کے ذریعے جو منصوبہ بندی کی گئی، اس کے دو پہلو تھے ۔ ایک یہ تھا کہ مطلوب صورت حال کا ایک ابتدائی نمونہ (prototype) تیار کرنا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ میں ایسا عمل (process) جاری کرنا جو آخر کار ایک نئے دور کو وجود میں لائے، جب کہ مذکورہ ابتدائی اور وقتی نمونہ ایک عالمی انقلاب کی صورت اختیار کرلے اور اس طرح تمام دنیا کے انسانوں کے لیے عمومی طور پر اور مستقل طور پر یہ امکان کھل جائے کہ وہ کسی بھی جبر کے بغیر ہر قسم کی مذہبی سرگرمیوں کے لیے آزاد ہوں۔ اپنے ذاتی عقیدے کے معاملے میں بھی اور دوسروں کے درمیان اپنے عقیدے کی اشاعت کے معاملے میں بھی۔

وہ چیز جس کو اوپر ابتدائی نمونہ (prototype) کہا گیا ہے، اس کی مثال حضرت یوسف کے ذریعے قائم کی گئی۔ حضرت یوسف، حضرت ابراہیم کے گریٹ گرینڈسن (great grandson) وہ فلسطین اور شام کے درمیان ایک گاؤں (کنعان) میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں مصر ایک ترقی یافتہ ملک تھا۔ یہاں ایک خاندان حکومت کرتا تھا، جس کو ہکساس بادشاہ (Hyksos Kings) کہا جاتا ہے۔ حضرت یوسف کے زمانے میں یہاں جو بادشاہ حکومت کر رہا تھا، اس کا نام یہ تھا— اپوفس یہ بادشاہ استثنائی طور پر ایک منفرد مزاج کا آدمی تھا۔ وہ شخصی طور پر ایسی صفات کا حامل تھا جو مطلوب منصوبے کے لیے ایک موزوں کردار کی حیثیت رکھتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ خدائی منصوبے کے تحت حضرت یوسف کو کنعان سے نکال کر قدیم مصر کی راجدھانی ممفس (Memphis) پہنچایا گیا۔ یہاں ایسے اسباب پیدا ہوئے جن کے تحت حضرت یوسف اُس وقت کے مصری بادشاہ کے دربار میں بادشاہ حضرت یوسف کی صلاحیت سے اتنا زیادہ متاثر ہوا کہ اُس نے اپنے ایک فیصلے کے تحت، حضرت یوسف کو مصر کے خزائن (وسائل ارض) کا انچارج بنا دیا (12:55)۔

حضرت یوسف کا یہ قصہ قرآن اور بائبل دونوں میں یکساں طور پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بائبل کا بیان یہ ہے کہ بادشاہ نے کہا۔ میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب میں بزرگ تر ہوں گا:

Only in regard to the throne, I will be greater than you. (Genesis 41:40)

حضرت یوسف کے ذریعے مصر میں جو مثال قائم ہوئی، وہ دراصل اُس عمومی اور عالمی حالت کا ایک ابتدائی نمونہ تھا جو حضرت ابراہیم کے جاری کردہ تاریخی عمل کے نتیجے میں بعد کو زیادہ بڑے پیمانے پر قائم ہونے والا تھا۔ حضرت یوسف کے ذریعے قدیم مصر میں یہ مثال قائم ہوئی کہ اگر حاكم کے محدود سیاسی اقتدار کو تسلیم کر لیا جائے اور اُس سے کوئی تعرض نہ کیا جائے تو کس طرح ایک انسان کے لیے ہر قسم کے مذہبی دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہ گویا سیاسی ادارہ (political institution) اور غیر سیاسی اداروں (non-political institutions) کے درمیان علاحدگی کا معاملہ تھا۔ یہ علاحدگی اللہ کے منصوبے کے عین مطابق تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو قرآن میں احسن القصص (12:3) کہا گیا ہے، یعنی بہترین قصہ (best story)۔

قرآن کی اس آیت میں ’’بہترین قصہ‘‘ سے مراد دراصل بہترین ماڈل (best model) اللہ تعالی کے نزدیک انسان کی اجتماعی زندگی کا بہترین ماڈل وہی ہے جس کا ایک ابتدائی نمونہ حضرت یوسف کے ذریعے ساڑھے تین ہزار سال پہلے قدیم مصر میں قائم کیا گیا۔ اس معاملے کو دوسرے الفاظ میں، اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ قدیم مستبدانہ ماڈل (despotic model) کی جگہ جمہوری ماڈل (democratic model) کو دنیا میں رائج کرنا۔ کچھ لوگ جمہوری نظام کو لا دینی نظام کہتے ہیں، مگر یہ درست نہیں۔ جدید جمہوری نظام دراصل سیکولرزم کے اصول پر قائم ہے۔ اس کے مطابق، جمہوریت عدم مداخلت کی پالیسی (policy of non-interference) کا دوسرا نام ہے، یعنی سیاسی اقتدار کے ادارے کا اس پر راضی ہو جانا کہ وہ اپنے حدود کو انتظامیہ (administration) تک محدود رکھے گا۔ نظام ملکی سے باہر جو ادارے ہیں، وہ اپنے دائرے میں

مکمل طور پر آزاد ہوں گے۔ مثلاً تعلیم، صحافت، اشاعتی ادارے، اقتصادی سرگرمیاں، مذہب، دعوت و تبلیغ، اس میں وہ تمام پُرامن سرگرمیاں شامل ہیں جن کو موجودہ زمانے میں غیر سیاسی سرگرمیاں (non-political activities) یا این جی اوز (NGOs) کی سرگرمیاں کہا جاتا ہے۔ نئی نسل کی تیاری اس سلسلے میں دوسری زیادہ بڑی منصوبہ بندی جو حضرت ابراہیم کے ذریعے چار ہزار سال پہلے شروع کی گئی، اس کا مرکز قدیم مکہ تھا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی ایک دعا میں یہ الفاظ کہے تھے: رب إنهن أضللن كثيراً (14:35)۔ ان الفاظ میں دراصل اُس دور کا ذکر تھا جس کو ماقبل ابراہیم دور (pre-Abraham age) کہا جاسکتا ہے۔ اس قدیم دور میں شرک تمام انسانی آبادیوں میں ایک عمومی کلچر کی حیثیت اختیار کر چکا تھا، حتیٰ کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہو گیا ۔ مزید یہ کہ مشرکانہ کلچر کو قدیم زمانے کی حکومتوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

اس حکومتی حمایت کی بنا پر ایک شدید تر صورت حال پیدا ہو گئی ۔ وہ تھا— اعتقادی شرک کے ساتھ اس میں حکومتی تشدد کا شامل ہو جانا۔ اعتقادی شرک اور سیاسی اقتدار کے اس اتحاد کی بنا پر وہ صورتِ حال پیدا ہوئی جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ اس نظامِ جبر کو ختم کر کے نظامِ آزادی کو دنیا میں لانا ایک لمبا تاریخی منصوبہ تھا۔ اس کے لیے صرف آئیڈیالوجی کافی نہیں تھی، اس کے لیے ضرورت تھی کہ ایک مطلوب ٹیم وجود میں آئے۔ یہ ٹیم ایک آئڈیالوجی کے تحت متحد ہو، تمام ضروری شرطوں کو اختیار کرتے ہوئے یہ ٹیم ایک ہمہ گیر جدوجہد کرے، وہ انسانی تاریخ میں ایک نئے انقلابی عمل (revolutionary process) کا آغاز کرے، انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے وہ اپنا سفر شروع کرے اور پھر اللہ کی خصوصی تدبیر (management) کے ذریعے وہ اپنے منتہا (culmination) تک پہنچ جائے۔ میں جو سیاسی انقلاب آگیا اور جس کے نتیجے میں جمہوری ماڈل دنیا میں رائج ہوا، وہ حضرت ابراہیم کے ذریعے جاری کردہ اسی عمل کی تکمیل کی حیثیت رکھتا تھا۔

Printed page