Al-Risala · May 2013

رسول اور اصحابِ رسول کی مثال

Al-Risala, May 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی۔ اُس وقت سارا عرب اسلام کے ماتحت پیغمبر اسلام اس عرب ریاست کے سربراہ تھے۔ آپ نے ایک با اختیار صدر مملکت کی حیثیت سے یہ اعلان کیا کہ: لا فضل لعربي على عجمي، ولا لعجمي على عربي، ولا لأحمر على أسود، ولا لأسود على أحمر، إلا بالتقوى (مسند أحمد، رقم الحديث: 24204) یعنی کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے۔ کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت ہے، سوا تقویٰ کے۔ یہ تاریخ میں حصولِ جمہوریت کا پہلا باضابطہ اعلان تھا۔ اس ریاستی اعلان کا مطلب یہ تھا کہ نظریاتی اعتبار سے، اب غیر جمہوری دور کا خاتمہ ہو گیا اور جمہوری دور کا اصولی طور پر آغاز ہو گیا۔ اس طرح تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا جو انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے بتدریج بعد کی تاریخ میں جاری رہا۔

اسی اعلان جمہوریت کا ایک عملی مظاہرہ وہ تھا جو اس اعلان کے تقریباً 10 سال بعد حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں پیش آیا۔ اُس وقت حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں مصر کا ملک مدینہ کی ریاست میں شامل ہو چکا تھا۔ اُس وقت مصر میں ایک واقعہ ہوا، وہ یہ کہ ایک عرب مسلمان اور ایک مصری مسیحی کے درمیان ایک مسئلے پر نزاع ہوئی۔ عرب مسلمان جو گورنر کا بیٹا تھا، اس نے مسیحی کو کوڑا مار دیا۔ یہ مسیحی مصر سے چل کر مدینہ آیا۔ اُس نے خلیفہ عمر فاروق سے شکایت کی۔ خلیفہ نے گورنر اور اس کے بیٹے دونوں کو مدینہ جب وہ لوگ آگئے تو خلیفہ نے مصر کے مسیحی کو ایک کوڑا دیا اور کہا کہ گورنر کے بیٹے کو مارو۔ مسیحی نے کوڑا اپنے ہاتھ میں لیا اور گورنر کے بیٹے کو مارنا شروع کیا۔ جب وہ اچھی طرح مار چکا تو اس کے بعد خلیفہ نے مذکورہ عرب مسلمان کے باپ عمرو بن العاص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: متی استعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارا (سیرۃ عمر بن الخطاب، علي محمد الصلابي، 1/ 306) یعنی اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، جب کہ ان کی ماؤں نے اُن کو آزاد پیدا کیا تھا۔ جس وقت یہ واقعہ ہوا، اُس وقت خلافت ایک ایمپائر بن چکی تھی جس کے حدود مملکت ایشیا

سے افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں خلیفہ کے الفاظ محض ایک شخص کے الفاظ نہ تھے، بلکہ وہ وقت کی سب سے بڑی سلطنت کی طرف سے گویا بین اقوام پالیسی کا اعلان تھا۔ یہ پالیسی تاریخ میں سفر کرتی رہی۔ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے وہ تاریخ کو ایک نیا شیپ (shape) دیتی رہی، یہاں تک کہ یہ عمل یورپ تک پہنچ گیا۔ فرانس کے مشہور جمہوری مفکر روسو (J. J. Rousseau) کی کتاب سوشل کنٹریکٹ (Social Contract) 1762 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں جمہوریت (democracy) کی آئیڈیالوجی کو پیش کیا گیا تھا۔ روسو نے اپنی کتاب کا آغاز جس جملے سے کیا، وہ گویا خلیفہ عمر فاروق کے مذکورہ قول کا اعادہ تھا۔ روسو کی کتاب کا ابتدائی جملہ یہ تھا— انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں: Man was born free, but I see him in chains. جمہوریت کی یہ تحریک 1789 میں ایک باقاعدہ سیاسی واقعہ بن گئی، جب کہ یورپ میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو انقلاب فرانس (French Revolution) کہا جاتا ہے۔ انقلاب فرانس نے اصولی طور پر بادشاہت (kingship) کے نظام کا خاتمہ کر دیا اور جمہوریت کو ایک سیاسی نظام کی حیثیت سے بالفعل قائم یہ تاریخی عمل 1948 میں آخری طور پر مکمل ہو گیا، جب کہ اقوام متحدہ (UNO) کا باضابطہ قیام عمل میں آیا اور دنیا کی تمام قومیں باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کی ممبر بن گئیں۔ اس ادارے کے تحت دنیا کی تمام قوموں نے اس عہد نامے پر دستخط کر دئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ استبدادی ماڈل اب آخری طور پر غیر مطلوب ماڈل قرار پا گیا اور جمہوری ماڈل کو عملاً مسلمہ ماڈل کی حیثیت دے دی گئی۔ جمہوریت کی تعریف (definition) عام طور پر اس طرح کی جاتی ہے — عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے:

Government of the people, by the people, for the people یہ تعریف جمہوریت کے صرف ظاہری ڈھانچے کو بتاتی ہے۔ اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جمہوریت کے حقیقی

فوائد کاور ہیں اور انسانی زندگی کے حق میں اس کے دور رس نتائج پیدا ہوئے۔ جمہوریت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، اُس سے بہت زیادہ ہے جیسا کہ وہ مذکورہ تعریف کے مطابق، نظر آتی ہے۔ جمہوریت کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس نے اُن تمام رکاوٹوں کو ختم کر دیا جو قدیم غیر جمہوری نظام کے تحت انسان پر عائد تھیں۔ جمہوریت نے کامل معنوں میں، انسان کو فکر و خیال کی آزادی دے دی۔ انسان اپنے فطری وجود کے اعتبار سے، امکانات کی ایک کائنات اپنے اندر رکھتا ہے۔ امکانات (potentials) کو انفولڈ (unfold) کرنے کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے کامل آزادی۔ قدیم زمانے میں اس انسانی آزادی پر پابندی لگی ہوئی تھی، اس کا یہ نتیجہ تھا کہ قدیم زمانے میں انسان کوئی بڑی ترقی نہ کر سکا، نہ مذہبی اعتبار سے اور نہ سیکولر اعتبار سے۔ موجودہ زمانے میں جمہوریت کا دور آیا تو اسی کے ساتھ کامل آزادی کا دور آگیا۔ کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کی تمام فطری صلاحیتیں انفولڈ ہونے لگیں۔ وہ تمام ترقیاں جن کے مجموعے کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے، وہ دراصل اسی انفولڈنگ (unfolding) کا نتیجہ ہیں۔ اسی کے نتیجے میں یہ ہوا کہ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور آیا۔ فطرت کے اندر چھپی ہوئی سائنسی حقیقتوں کی انسان کو پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کی دولت ملی۔ تاریخ میں پہلی بار وہ انقلاب آیا جس کو عالمی کمیونیکیشن (global communication) کہا جاتا ہے، وغیرہ۔

جدید تہذیب کی یہ تمام ترقیاں اسلام کے عین موافق تھیں۔ انھوں نے دین خداوندی کی اشاعت کے ایسے دروازے کھول دئے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلے تھے۔ جدید تہذیب نے اس کو ممکن بنایا کہ اسلام کی حقیقتوں کو علم انسان کی اعلیٰ سطح پر ثابت شدہ بنایا جا سکے۔ ان نئی دریافتوں کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ انسان اعلیٰ سطح کی معرفت کا تجربہ کر سکے۔ اسی کے ذریعے یہ ممکن ہوا کہ اللہ کے پیغام کی اشاعت کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر عالمی سطح پر انجام دیا جا سکے۔ اسی جدید تہذیب کی بنا پر تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ عالمی سطح پر ایک دعوہ ایمپائر (Dawah empire) قائم کیا جا سکے، وغیرہ۔

یہ سب کچھ جو دورِ جدید میں ہوا، وہ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے مطابق ہوا۔

وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان کی آزادی کو ہر حال میں باقی رکھا جائے ۔ جو کام بھی کیا جائے ، وہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے کیا جائے ۔ خدا کے اسی تخلیقی منصوبے کی بنا پر ایسا ہوا کہ تہذیبی ترقیوں کے ساتھ انسان کے لیے یہ موقع باقی رہا کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے ، خواہ اس کے نتیجے میں فساد کی صورتیں پیدا ہو جائیں ۔ یہ دو طرفہ صورتِ حال موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی بصیرت کا امتحان تھی ۔ یہاں ضرورت تھی کہ مسلمانوں کے رہنما اُس صلاحیت کا ثبوت دیں جس کو خدا کی کتاب میں فرقان (9:29) کہا گیا ہے ، یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کر کے دیکھنا۔ اس موقع پر مسلم رہنماؤں کو یہ کرنا تھا کہ وہ مغربی تہذیب اور اہلِ مغرب کی قومی سیاست دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھیں ۔ مغربی تہذیب ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، مغربی تہذیب نہیں ہے ، بلکہ وہ خدائی تہذیب (divine civilization) ہے۔ وہ فطرت میں چھپے ہوئے خدائی قوانین کی دریافت کے ذریعے وجود میں آئی ہے ۔ وہ قوانین فطرت کا انسانی سطح پر ظہور ہے۔ فطرت کے قوانین جب انسانی ٹکنالوجی میں ڈھل جائیں تو اسی کا نام تہذیب ہوتا ہے۔ جدید تہذیب کو سمجھنے کے لیے اُسی طرح اس کو مغرب کے قومی پہلو سے الگ کر کے دیکھنا چاہئے ، جس طرح اسلام کو مسلمانوں کے قومی پہلو سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے۔

دورِ جدید کے مسلم رہنما اگر اس بصیرت کے حامل ہوتے کہ وہ جدید تہذیب اور مغربی قوم ، دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھتے تو یقیناً وہ پا لیتے کہ جدید تہذیب اُن کے لیے ایک خدائی نعمت ہے ، وہ حضرت یوسف کے 'احسن القصص' کا عالمی اظہار ہے ، وہ حضرت ابراہیم کے جاری کردہ عمل (process) کا براہِ راست حصہ ہے ، وہ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ذریعے لائے جانے والے انقلاب کا تکمیلی مرحلہ ہے۔ جدید تہذیب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے وہ عالمی مواقعہ آخری حد تک کھول دئے ہیں ، جب کہ پیغمبرِ اسلام کی ایک پیشین گوئی کو واقع بنایا جا سکے۔ آپ کی اس پیشین گوئی کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے — ادخال الكلمة في كل البيوت ۔ اوپر کے صفحات میں تاریخ کا جو جائزہ پیش کیا گیا ہے ، اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ

خدائی منصوبہ کیا تھا جس کو قرآن میں امامت ابراہیم کہاگیاتھا اور جس کے بارے میں بائبل میں یہ الفاظ آئے تھے کہ زمین کی سب قومیں اس کے وسیلے سے برکت پائیں گی۔

اس خدائی اعلان کا مطلب یہ تھا کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کرے گا جو آخر کار اس انجام تک پہنچے گا کہ انسانی زندگی میں سیاسی جبر کا فتنہ کامل طور پر ختم ہو جائے اور جمہوریت کے تحت ایک ایسا سیاسی نظام بنے گا جس میں دوبارہ زیادہ بڑے پیمانے پر اور عالمی سطح پر وہ حالت قائم ہو جائے گی جو حضرت یوسف کے زمانے میں قدیم مصر میں وقتی طور پر اور محدود طور پر قائم ہوئی تھی، یعنی سیاسی حکمراں کا اقتدار ”تخت‘‘ تک محدود رہے گا۔ ”تخت‘‘ کے سوا تمام غیر سیاسی شعبے مکمل طور پر آزاد ہو جائیں گے۔ ہر انسان کو یہ موقع ہوگا کہ وہ کامل معنوں میں مذہبی آزادی کی فضا میں جیے۔ وہ اپنے چوائس (choice) کے مطابق، جس مذہبی عقیدے کو چاہے، اختیار کرے، وہ عبادت کے جس طریقے کو چاہے، اس کے مطابق، عبادت کرے۔ مذہب کی تبلیغ و اشاعت پر کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے، انسان کو مکمل معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہو، اس واحد شرط کے سوا کوئی اور شرط اس کے لیے موجود نہ ہو کہ وہ دوسرے انسانوں کو کسی بھی قسم کی عملی جراحت (physical injury) نہیں پہنچائے گا۔ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے یہی واحد ممکن ماڈل تھا جس کو اللہ کے منصوبے کے تحت بروئے کار لایا گیا۔

اس مذہبی آزادی میں یہ بات بھی اپنے آپ شامل ہے کہ تمام مواقع کار جو سیکولر لوگوں کو حاصل ہوں گے، وہ سب کے سب مکمل طور پر اہل مذہب کو بھی حاصل ہوں گے۔ مواقع کے استعمال میں مذہبی انسان اور غیر مذہبی انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔

Printed page