ایک مسئلے کی وضاحت
Al-Risala, May 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی زندگی کی تشکیل کا جو نقشہ اوپر بیان کیا گیا ہے، بظاہر اس میں حکومت یا سیاسی اقتدار کا معاملہ شامل نہیں ہے، لیکن بالواسطہ طور پر وہ یقیناً اس میں شامل ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ اگر
حکومت کے معاملے کو مذکورہ نقشہ میں شامل کیا جائے تو پورا خدائی منصوبہ تخلیق عملاً معطل ہو کر رہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں شعبوں میں کوئی مثبت کام نہ ہو سکے گا، نہ عبادت اور دعوت کے شعبے میں اور نہ سیاست اور حکومت کے شعبے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ مذکورہ دونوں شعبوں کی حیثیت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ عقیدہ اور عبادت اور دعوت کا معاملہ اُس میدان سے تعلق رکھتا ہے جہاں آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ پرامن طور پر اپنی تمام سرگرمیوں کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھ سکے۔ اس کے برعکس، سیاست کا دائرہ ایک ایسا دائرہ ہے جہاں داخل ہوتے ہی فوراَ دوسرے فریق سے نزاع پیدا ہوجاتی ہے۔ دائرے میں ہمیشہ کوئی فرد یا گروہ اتھارٹی کی پوزیشن میں ہوتا ہے، اس لیے سیاست کے دائرے میں داخل ہونا عملاً پولیٹکل اتھارٹی سے ٹکراؤ کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ یہ ٹکراؤ اس ماحول کو ختم کر دیتا ہے جب کہ ایک شخص عقیدہ اور عبادت اور دعوت کے میدان میں موجود مواقع کو استعمال (avail) کر سکے۔ خدا کے منصوبہ تخلیق میں اس مسئلے کا حل یہ مقرر کیا گیا کہ سیاسی اقتدار کے شعبے کو عقیدہ سے وابستہ کرنے کے بجائے اس کو سماجی حالات (social conditions) سے وابستہ کر دیا جائے، یعنی کسی وقت سماج کے جو حالات ہوں اور انسانوں کے درمیان جس سیاسی ڈھانچے پر اتفاق ہو سکتا ہے، اس کو اختیار کر لیا جائے۔ یہ صورت حال جاری رہے گی، یہاں تک کہ سماج کے حالات بدل جائیں اور سیاسی ڈھانچے کے بارے میں کوئی دوسرا نقشہ لوگوں کے لیے قابل قبول بن جائے۔ اس حکمت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:38) یعنی ان کا معاملہ ان کے آپس کے مشورے کے تابع ہے۔ اس آیت میں امر سے مراد اقتدار کا معاملہ ہے۔ اس آیت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ سیاسی اقتدار کا معاملہ کسی مخصوص عقیدے کے تابع نہ ہو، بلکہ وہ لوگوں کی آزاد رائے کے تابع ہو۔ آج کل کی زبان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی ادارے کا معاملہ عوامی الیکشن کے تابع ہے۔ فری اینڈ فیر الیکشن (free and fair election) کے ذریعے جو لوگ منتخب ہوں گے، ان کو حق ہو گا کہ وہ اُس وقت تک حکومت کا نظام چلائیں جب تک
لوگوں کی رائے بدل نہ جائے اور سماجی حالات کا یہ تقاضا ہو کہ اقتدار کی زمام کچھ دوسرے لوگوں کے حوالے کی جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: کما تکونون ؛ كذلك يؤمر عليكم (البيهقي، رقم الحديث: 7391) یعنی جیسے تم ہوگے، ویسے تمھارے حکمراں ہوں گے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ حکمراں کا تعین کسی مخصوص عقیدے کی بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ اس کا تعین لوگوں کی رائے (vote) کے ذریعے کیا جائے گا۔
یہ ایک قسم کے سماجی بندوبست (social settlement) کا معاملہ ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ زندگی کے دونوں شعبوں (سیاسی اور غیر سیاسی) میں امن کا قیام ممکن ہو جاتا ہے۔ عبادت اور دعوت کے میدان میں لوگوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ پر امن طور پر اپنی تمام سرگرمیوں کو جاری رکھیں، وہ اپنے حق میں مواقع کا بھر پور استعمال کریں۔ دوسری طرف ، سماج کے ہر گروہ کو یہ موقع حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ سماج کے اندر اپنے افکار کی پر امن اشاعت کر سکے اور پھر اگلے الیکشن کے موقع پر، حسب حالات، وہ اپنی پرامن کوششوں کا فائدہ اٹھائے۔ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے سماجی بندوبست کا اس سے بہتر کوئی نظام ممکن نہیں۔