Al-Risala · January 2013

سبق کا پہلو

Al-Risala, January 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک طویل روایت میں فرشتے کی زبان سے یہ الفاظ آئے ہیں: محمد فرق بین الناس (صحیح البخاري، رقم الحديث: 6852) فرق کا لفظی مطلب ہے: الفصل بين الشيئين - (دو چیزوں کے درمیان فرق کرنا)۔ یعنی محمد، انسانوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔ اس حدیث رسول کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ایسا مشن جاری ہوگا جو صالح اور غیر صالح افراد کو ایک دوسرے سے جدا کر دے، تا کہ اللہ ایک گروہ کے لیے انعام کا فیصلہ فرمائے اور دوسرے گروہ کے لیے سزا کا فیصلہ۔

یہ بات صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص نہیں ہے، یہی معاملہ تمام پیغمبروں خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے، وہ سب اسی مقصد کے لیے آئے، تا کہ ان کے ذریعے ایک ایسی تحریک چلائی جائے جو انسانوں کو ایک دوسرے سے چھانٹ دے، صالح افراد الگ

ہو جائیں اور غیر صالح افراد الگ، تاکہ اس کے بعد ایک معلوم حقیقت کے طور پر لوگوں کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ کر دیا جائے۔

قدیم زمانے میں جو انبیا آئے، اُن میں سے کم از کم دو ایسے پیغمبر ہیں جنھوں نے اس معاملے میں ایک تاریخی شہادت (historical evidence) چھوڑی جو لوگوں کے لیے مستقل طور پر منصوبہ الہی کے بارے میں تاریخی یاد دہانی (historical reminder) کا کام کرتی رہے۔ اس معاملے میں ایک تاریخی مثال وہ ہے جس کا تعلق حضرت موسی سے ہے۔ حضرت موسیٰ نے قدیم مصر میں اپنا دعوتی کام انجام دیا۔ اس کے نتیجے میں آخر کار وہ وقت آیا، جب کہ دو گروہ ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ ایک، بنی اسرائیل کا گروہ، جس نے حضرت موسیٰ کے پیغام کو قبول کیا اور دوسرے، فرعون اور اس کے ساتھی، جنھوں نے حضرت موسیٰ کے پیغام کو رد کر دیا۔ اس کے بعد قانون الہی کے مطابق، ایسا ہوا کہ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھی الگ کر کے بچا لئے گئے، اور فرعون اور اس کے ساتھی سمندر میں غرق کردئے گئے۔

اس معاملے کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب آخری وقت آ گیا اور فرعون غرق ہونے لگا، اُس وقت اللہ تعالی نے فرمایا: فاليو من نجيـك ببدنك لتكون لمن خـلـفـك آية (92:10) یعنی آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قول پورا ہوا اور حضرت موسیٰ کے ہم عصر فرعون کی لاش کو حنوط کاری (mummification) کے ذریعے اہرام مصر میں محفوظ کر دیا گیا۔ فرعون کا یہ جسم اہرام مصر میں انیسویں صدی کے آخر میں کچھ مغربی ماہرین نے اس کو نکالا اور کاربن ڈیٹنگ (carbon datinhg) کے ذریعے اس کی تاریخ معلوم کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جسم اُسی فرعون کا ہے جو حضرت موسیٰ کا معاصر (contemporary) تھا۔

فرعون کے جسم کا اس طرح محفوظ رہنا کوئی سادہ بات نہیں، وہ ایک تاریخی واقعے کی علامتی مثال فرعون کا یہ جسم جو قاہرہ (مصر) کے میوزیم میں محفوظ ہے، وہ اپنی خاموش زبان میں یہ بتا رہا ہے کہ

آخر کار انسان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، وہ یہ کہ خدائی منصوبے کے تحت، صالح بندوں کو غیر صالح بندوں سے الگ کر دیا جائے اور پھر صالح بندوں کو ابدی جنت میں عزت کی جگہ دی جائے اور غیر صالح لوگوں کو ابدی جہنم میں ذلت کی زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔

اس قسم کی دوسری مثال حضرت نوح کی ہے۔ حضرت نوح قدیم عراق (Mesopotamia) کے علاقہ میں آئے۔ وہ بہت لمبی مدت تک وہاں کے لوگوں کو بتاتے رہے کہ اللہ نے تم کو پیدا کر کے آزاد نہیں چھوڑ دیا ہے، بلکہ وہ تمھارا امتحان لے رہا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ کون اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر رہا ہے اور کون غلط استعمال کر رہا ہے۔

جب امتحان کی مدت پوری ہوگی تو خدا کا فیصلہ ظاہر ہوگا اور اچھے انسان اور برے انسان دونوں چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کر دئے جائیں گے۔ اس کے بعد اچھے لوگوں کو جنت میں داخلہ ملے گا اور برے لوگوں کو جہنم میں۔

طوفان سے پہلے حضرت نوح نے اللہ کے حکم سے پیشگی طور پر ایک بڑی کشتی بنا لی تھی۔ حضرت نوح اور آپ کے ماننے والے لوگ کشتی میں سوار ہو گئے۔ یہ لوگ اس کشتی کے ذریعے سیلاب کے اوپر تیرتے ہوئے محفوظ رہے۔

اُس وقت اللہ نے جو کہا تھا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: قيل يا نوح اهبط بسلام منا وبركات عليك وعلى أمم ممن معك، و أمم سنمتعهم ثم يمسهم منا عذاب أليم (11:48)

یہ بات پانچ ہزار سال پہلے کی ہے، جب کہ دنیا میں نہ کوئی تہذیب تھی اور نہ کوئی ٹکنالوجی۔ بات اگرچہ بائبل اور قرآن میں بتائی گئی تھی، لیکن لوگ اس کو مذہبی افسانہ (religious myth) سمجھتے تھے، مگر عجیب بات ہے کہ بیسویں صدی کے آخر میں یہ دونوں باتیں ایک معلوم واقعہ بن گئیں۔ ایک طرف، عراق اور شام کے علاقے میں ایسے آثار ملے جو بتاتے ہیں کہ اس علاقے میں ایک بہت بڑا سیلاب آیا تھا، اور دوسری طرف کشتی نوح جو بھاری برف کے نیچے دبی ہوئی تھی، وہ برف کے

پگھلنے سے سامنے آگئی۔ یہ واقعہ ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع پہاڑ کے اوپر پیش آیا۔ بیسویں صدی کے وسط تک اس پورے معاملے کو فرضی کہانی سمجھا جاتا تھا، مگر اب خالص تاریخی شواہد کی بنا پر یہ مان لیا گیا ہے کہ اس علاقے میں ایک ایسا بڑا سیلاب آیا تھا جو نہ اس سے پہلے کبھی آیا اور نہ اس کے بعد۔ یہاں اس سلسلے میں تفسیر ماجدی سے ایک حوالہ نقل کیا جاتا ہے: The story of Noachion deluge, so long dismissed as legendary, has at last come to be recognized as'hisotorical disaster for which material evidence has bee found in the soil of Ur). Woolly, ‘Abraham’, p. 170)

Archaeological evidence has established the reality of the Flood). Marston, ‘The Bible Comes Aline’, p. 33)

Both Sumerian and Hebrew legends speak of a flood which destroyed the habitable world as they knew it).Lt. Col. Wagstaff, a distinguished explorer)

یہی معاملہ کشتی نوح کا ہے۔ قدیم زمانے میں کشتی نوح کا معاملہ ایک مذہبی افسانہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب وہ ایک تاریخی واقعہ بن چکا ہے۔

کوئی بھی شخص ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع پہاڑی سلسلے کے اوپر ہوائی پرواز کر کے کشتی کو دیکھ سکتا بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ یہ مقام ٹورسٹ میپ (tourist map) میں خصوصی جگہ حاصل کرلے۔ خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ ترک گورنمنٹ اس علاقے کو سیاحتی مقام کے طور پر ڈیولپ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

اسلام کی تعلیمات کے مطابق، جب انسانی تاریخ کے خاتمہ کا وقت آئے گا اور آخرت کا دور شروع ہوگا تو فرشتہ اسرافیل صور پھونکے گا۔ یہ صور آواز کی صورت میں نئے دور کی آمد کا اعلان کشتی نوح کا ظہور اسی قسم کا ایک واقعہ ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ صور اسرافیل کے ذریعے جس حقیقت کا اعلان زبان قال کی صورت میں کیا جائے گا، کشتی نوح زبان حال کی صورت میں اسی حقیقت کو بیان کرے گی۔

Printed page