اجتماعی توبہ کی ضرورت
Al-Risala, May 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ صورت حال بلاشبہ توبہ کی متقاضی ہے، یعنی منفی سوچ کو ترک کرکے مثبت سوچ کی اب تمام مسلمانوں کے لیے اُس عمل کا وقت آگیا ہے جس کا حکم قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا تھا: وَتُوْبُوْا إِلَى اللهِ جَمِيْعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (24:31) یعنی اے ایمان والو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، تا کہ تم فلاح پاؤ۔ قرآن کی اس آیت میں جس چیز کا حکم دیا گیا ہے، اس سے مراد اجتماعی تو بہ (collective repentance) ہے۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ مذکورہ قسم کا منفی ذہن تمام مسلمانوں کا قومی ذہن بن گیا ہے ۔ مسلمانوں کی تمام قومی پالیسیاں اسی منفی ذہن کے مطابق بنتی ہیں۔ اس معاملے میں مسلمان اتنا زیادہ متحد الخیال ہیں جیسے کہ اس معاملے میں تمام مسلمانوں کا اجماع (consensus) ہوگیا ہو ۔ اس وقت سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اس عمومی ذہن کو بدلا جائے ۔ یہی موجودہ مسلمانوں کی اصلاح کا نقطہ آغاز ہے۔ اس ذہن کے باقی رہتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان کوئی بھی نتیجہ خیز اصلاحی کام نہیں کیا جاسکتا۔ صدر اسلامی مرکز کے آڈیو اور ویڈیو لیکچرز کے لیے حسب ذیل لنکس ملاحظہ ہوں: رات روپیہ ، ریڈیو ، ٹیلیویژن ، ویڈیوز قرآنِ پاک کی عمومی اشاعت میں حصہ لینے کے لیے تفصیلات درج ذیل ہیں: Fill the form at: www.alquranmission.org/QuranDistributor.aspx you would like to spread the Quran to the following address: