محمد نہ ہوتے، تو دنیا نہ ہوتی
Al-Risala, May 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ مصرع سن کر میرا ہندو دوست زور زور سے ہنسنے لگا۔ اور اس نے اسم محمد کی شان میں کچھ گستاخیاں بھی کیں۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، لپک کر ایک پتھر اٹھایا، اور اسے گھما کر ہندو لڑکے کے منہ پر ایسے زور سے مارا کہ اس کا سامنے کا آدھا دانت ٹوٹ گیا۔ لاشعور کی وہ کون سی لہر تھی جو اللہ کے ساتھ مذاق پر تو خاموش رہتی تھی، لیکن رسول اللہ کے ساتھ گستاخی پر آناً فاناً جوش میں آگئی تھی؟ کوئی شخص رسول خدا کے متعلق بدزبانی کرے تو اکثر لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی تک لگا بیٹھتے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں، بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسول پر اپنی جان عزیز کو قربان کر دیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد و تقویٰ میں ممتاز تھے۔
ایک عامی مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شان رسالت کے حق میں مضطرب ہوتا ہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے۔ میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ (شہاب نامہ، لاہور، 1988، صفحہ 17-16)
قدرت اللہ شہاب نے جو بات کہی ہے، وہ بلاشبہ ایک واقعہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام مسلمان، غالباً کسی استثنا کے بغیر، اسی نفسیات کا شکار ہیں۔ خدا کی بے حرمتی ہو تو مسلمانوں کے جذبات نہیں بھڑکتے، لیکن رسول کی بے حرمتی ہو تو تمام مسلمان شدید طور پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ بیانات سے لے کر عوامی مظاہرے تک وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اس معاملے میں ان کی جذباتیت کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ تشدد اور توڑ پھوڑ تک کو اپنے لیے جائز سمجھ لیتے ہیں۔ معاملے کی مثالیں بار بار میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ اس کی ایک مثال وہ ہے جو ماہ نامہ الرسالہ (دسمبر 2012، صفحہ (25) میں دیکھی جاسکتی ہے۔
خدا اور رسول کے درمیان اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کے سبب کی تحقیق کیجئے تو اس کے پیچھے مسلمانوں کی ایک ایسی کمزوری کی دریافت ہوتی ہے جو صرف ایک کمزوری نہیں، بلکہ وہ یقینی طور پر ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔