اسلام کی تاریخ
Al-Risala, May 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے پیغمبر کے بارے میں بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنا، اس کا ایک سیاسی پس منظر تھا۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استثنائی طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک عظیم تاریخ آپ کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگئی۔ آپ کے زمانے میں اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں ایک بڑا سیاسی انقلاب پیش آیا۔ اس سے پہلے کسی پیغمبر کے زمانے میں اس قسم کا سیاسی انقلاب پیش نہیں آیا پیغمبر اسلام نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا موحدانہ مشن شروع کیا، جب کہ اُس وقت آپ ایک فردِ واحد کی حیثیت رکھتے تھے، مگر 23 سال کے بعد جب 632 عیسوی میں آپ کی وفات ہوئی تو پورا عرب آپ کے دین کا پیرو بن چکا تھا۔ اُس کے بعد آپ کے اصحاب نے آپ کے مشن کو جاری رکھا، یہاں تک کہ اگلے 25 سال کے دوران عرب کے اطراف کے بیشتر ممالک میں آپ کے پیروؤں کا اقتدار قائم ہوگیا۔ ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر کا خاتمہ ہوگیا۔ آپ کی بعثت کے 100 سال کے اندر یہ ہوا کہ آپ کے ماننے والوں نے ایک عظیم مسلم ایمپائر قائم کر لیا، جس کا دبدبہ کم و بیش ہزار سال تک باقی رہا۔ یہ سیاسی انقلاب اتنا زیادہ واضح تھا کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ کے طور پر ایک امریکی مصنف جان ڈرنک واٹر (وفات: 1937) نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ— وہ عالمی تاریخ میں ایک انتہائی ممتاز انسان کی حیثیت رکھتے ہیں: One of the most remarkable men in history of the world. (The Outline of Literature by John Drinkwater, 1923)
انڈیا کے ایک مشہور اسکالر ایم این رائے (وفات: 1954) نے پیغمبرِ اسلام اور آپ کے بعد بننے والی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ— محمد کا اس حیثیت سے اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ تمام پیغمبروں میں سب سے بڑے پیغمبر تھے۔ اسلام کی توسیع تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے: Muhammad must be recognised as by far the greatest of all prophets. The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (The Historical Role of Islam, by M. N. Roy, 1939, p. 4)
امریکی مصنف ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس میں انھوں نے انسانی تاریخ کے ایک سو ایسے افراد کا ذکر کیا ہے جنھوں نے تاریخ میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی۔ فہرست میں انھوں نے پیغمبرِ اسلام کو نمبر ایک پر رکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ـــ آپ تاریخ کے تنہا شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے۔ مذہبی سطح پر بھی اور سیکولر سطح پر بھی: Mohammad was the only man in history who was supremely successful on the religious and secular levels. (Dr. Michael H. Hart, The 100, 1978)
اسی طرح ، ایک امریکی اسکالر چارلس اساوی (وفات: 2000) نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہےـــ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہے کہ اگر کوئی ایک شخص ایسا ہے جس نے تاریخ کے دھارے کو بدل دیا، تو وہ شخص محمد تھے:
It does not seem too much to say that if any one man changed the course of history, that man was Muhammad. (Muhammad's Historical Role, by Charles Issawi, 1950, p. 95)
اس طرح کے بہت سے سیکولر مصنفین اور غیر مسلم محققین ہیں جنھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ نہایت شان دار الفاظ میں کیا ہے۔ پیغمبر اسلام کے مشن کے ذریعے تاریخ میں جو انقلابی دور آیا، وہ اتنا عظیم تھا کہ تمام اہلِ علم نے اس کا اعتراف کیا، خواہ وہ سیکولر اہلِ علم ہوں یا مذہبی انھوں نے کثرت سے اس موضوع پر کتابیں لکھیں اور مقالات شائع کیے۔ اقتباسات اس معاملے کی وضاحت کے لیے کافی ہیں۔