Saving yourself from yourself
Al-Risala, May 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
فٹ بال کا امریکی کوچ ونس لمبارڈی (Vince Lombardi) اپنی فیلڈ کا ایک مشہور اس کی وفات 1970 میں ہوئی ۔ کھیل میں کامیابی کا راز کیا ہے ، اس کے بارے میں اس کا ایک قول یہ ہے— کامیاب انسان اور دوسروں کے درمیان فرق علم اور طاقت کے اعتبار سے نہیں ہے ، بلکہ یہ فرق عزم کے اعتبار سے ہے :
The difference between a succesful person and others, is not a lack of strength, not a lack of knowledge, but rather a lack of will. اس قول میں ایک حکمت بتائی گئی ہے ۔ اس حکمت کا تعلق صرف کھیل سے نہیں، بلکہ اس کا تعلق زندگی کے ہر میدان سے ہے ۔ زندگی کا خواہ کوئی بھی میدان ہو، ہر میدان میں کامیابی کا اصول صرف ایک ہے۔ ہر میدان میں کامیابی کے لیے عزم یا قوتِ ارادی (will power) کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس دنیا میں کامیابی کے لیے بلاشبہ طاقت کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور علم کی بھی، لیکن آخر کار جو چیز فیصلہ کن ہوتی ہے، وہ آدمی کی قوتِ ارادی ہے۔ قوتِ ارادی اگر مستحکم ہو تو ہر صورت حال میں وہ آدمی کی رہنما بنی رہتی ہے۔ زندگی میں ہمیشہ اونچ نیچ کے مرحلے پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں مسلسل جدوجہد پر قائم رہنے کے لیے جو چیز آدمی کے کام آتی ہے، وہ صرف عزم اور قوتِ ارادی ہے۔ عزم سے مراد با بصیرت عزم ہے۔ عزم کا براہِ راست تعلق بصیرت (wisdom) سے ہے، جس آدمی کے اندر گہری بصیرت ہو، وہی کامیاب پلاننگ کر سکتا ہے اور جو آدمی کامیاب پلاننگ کا اہل ہو، وہی اس امتحان میں پورا اتر سکتا ہے کہ وہ ہر پیش آمدہ صورتِ حال میں اپنے عزم پر مسلسل قائم رہے۔ عزم کسی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اور یہ بنیاد صرف بصیرت ہے۔ جہاں بصیرت نہ ہو، وہاں عزم بھی نہ ہوگا۔
سوال و جواب آپ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہم کو امتحان کے لیے رکھا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون صبر واستقامت کے اس امتحان میں کامیاب ہوتا ہے۔ آخرت کی جنت اسی کامیاب ہونے والے انسان کے لیے ہے۔ سوال یہ ہے کہ خدا نے آخرت کی کامیابی کے لیے امتحان کا یہ طریقہ کیوں اس کی وضاحت فرمائیں۔ (مکرم حسین، نئی دہلی)
یہ بات درست ہے کہ موجودہ دنیا میں ہمارے لیے ایک ہی آپشن (option) ہے اور وہ ہے ــ صبر واستقامت اور یک طرفہ ایڈجسٹ منٹ کا آپشن۔ یہی آپشن، اللہ کے تخلیقی نقشہ کے اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لیے اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ سرے سے ممکن دوسرا طریقہ خودکشی کا طریقہ ہے، نہ کہ کامیابی کا طریقہ۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمارے خالق نے ہمارے لیے یہ طریقہ کیوں مقرر کیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اسی طریقے کے ذریعے آدمی کے اندر ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔ خالق نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، مگر یہ صلاحیتیں بالقوہ (potential) کے روپ میں ہیں، یعنی امکان کے روپ میں، نہ کہ واقعہ کے روپ میں۔ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کی شخصیت کے اندر چھپی ہوئی فطری صلاحیتوں کو واقعہ بنانے کا طریقہ صرف ایک ہے اور وہ ہے چیلنج (challenge)۔ چیلنج آدمی کے سوئے ہوئے ذہن کو جگاتا ہے۔ چیلنج آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچ سکے۔ چیلنج اس بات کا ذریعہ ہے کہ آدمی منفی تجربات میں مثبت آئٹم کو دریافت کرے۔ آدمی ابتدائی طور پر ایک ناپختہ (immature) مخلوق ہے۔ یہ صرف چیلنج ہے جو آدمی کو پختہ (mature) بناتا ہے۔ آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو انفولڈ (unfold) کرے۔
عام طور پر عورتوں اور مردوں کا حال یہ ہے کہ چیلنج پیش آنے کی صورت میں وہ منفی ردعمل
(negative reaction) کا طریقہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس طرح کے مواقع پر منفی ردِ عمل، ڈی ریلیمنٹ (derailment) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کسی عورت یا مرد کی زندگی غلط رخ پر چل پڑتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ اسی میں کنڈیشنڈ (conditioned) ہو جاتے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اسی منفی مزاج میں جیتے ہیں اور اسی مزاج میں مرجاتے ہیں۔ یہ کسی عورت یا مرد کی بدترین ناکامی ہے۔ اس دنیا میں ہر شخص سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اندر ایک مثبت شخصیت (positive personality) کی تشکیل کرے۔ مگر انسان اللہ کے تخلیقی منصوبے کو نہ سمجھنے کی بنا پر یہ کرتا ہے کہ وہ چیلنج کو ایک برائی (evil) سمجھ لیتا ہے۔ وہ دنیا سے اُس چیز کو حاصل کیے بغیر چلا جاتا ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے خالق نے اُس کو اس دنیا میں بھیجا تھا۔ 1 - ہمارے ملک (پاکستان) اور عموماً پوری دنیا میں ہر مرتبہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ایک مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ کل روزہ ہوگا یا نہیں۔ یہی صورتِ حال عید کے چاند پر بھی پیدا ہوتی ہے۔ اکثر ملک کے ایک حصہ میں روزہ رکھا جاتا ہے جب کہ دوسرے حصہ میں عید منائی جارہی ہوتی ہے (یہی صورتِ حال تقریباً پوری مسلم اور غیر مسلم دنیا میں بھی ہوتی ہے) سوال یہ ہے کہ اگر روزے کا تعلق رمضان کے مہینے کی آمد سے ہے تو پھر دنیا میں ہر جگہ ایک ساتھ روزہ کیوں نہیں۔ اس سوال کا براہِ راست تعلق مذہب اور سائنس دونوں سے ہے۔ آپ ایک علمی بصیرت رکھنے والے اور جدید سائنسی اسلوب میں بات کرنے والے عالم دین ہیں۔ آپ سے التماس ہے کہ اس مسئلے کے بارے میں قرآن ، احادیث اور رویتِ ہلال کی سائنس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کی وجوہات اور اس کا حل تفصیل سے بتائیں۔
2 - مغربی دنیا کی چوٹی کے سائنس داں مثلاً آئن سٹائن اور فلاسفر مثلاً برٹرینڈ رسل وغیرہ حقیقی علم تک رسائی کیوں حاصل نہ کر سکے، حالاں کہ انھوں نے مذہب اور سائنس کا براہِ راست مطالعہ کیا تھا۔ 3 - آپ نے اپنی کتاب ’’تجدیدِ دین‘‘ کے شروع میں لکھا ہے کہ ’’فقہ‘‘ کا لفظ عباسی دور کی
قرآن اور حدیث میں اس کا ذکر موجود نہیں ہے۔ جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ حضرت معاذ بن جبل والی روایت سے جو اجتہاد کا نکتہ ہمیں ملتا ہے، وہ اصل میں فقہ کا ہی ایک حصہ ہے۔ میں نے اپنے گھر میں آپ کی ہر کتاب رکھی ہوئی ہے اور اُس کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ الرساله خود بھی پڑھتا ہوں اور اپنے اسکول کے پرنسپل صاحب کو بھی دیتا ہوں۔ میری اکثر دعا ہوتی ہے کہ خدا آپ کو لمبی عمر دے اور تندرست رکھے۔ میں ایم اے انگلش کا اسٹوڈنٹ ہوں اور ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر بھی ہوں۔ ( شہزاد احمد، پاکستان )
موجودہ زمانے میں علم فلکیات کی ترقی کی بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ پیشگی طور پر رویتِ ہلال کا ٹھیک ٹھیک یقین کیا جا سکے۔ اس لیے ذاتی طور پر میری رائے ہے کہ آبزرویٹری کے فلکیاتی مشاہدہ کے تحت جو کیلنڈر بنتے ہیں، اُس کیلنڈر کو بنیاد بنا کر رمضان اور عید کے چاند کا تعین کرنا چاہیے۔ اسی کے ساتھ میری یہ رائے ہے کہ علما چوں کہ ابھی تک اس مسئلے پر متفق نہیں ہوئے ہیں، اس لیے دفعِ فتنہ کے لیے عملاً وہی کرنا چاہئے جو علما کی اکثریت کا مسلک ہے۔
موجودہ زمانے کے سیکولر اہلِ مذہب کا مطالعہ کرتے ہیں، لیکن اُن کا طریق مطالعہ مختلف ہوتا ہے۔ ہم آپ مذہب کو وحی کا ظاہر ہ سمجھتے ہیں، لیکن سیکولر اہلِ علم مذہب کا مطالعہ اس ذہن کے تحت کرتے ہیں کہ مذہب ایک سماجی ظاہر ہ (social phenomenon) ہے، اس لیے وہ مذہب کا مطالعہ کر کے بھی مذہب کو اپنا عقیدہ نہیں بنا پاتے۔ اس سلسلے میں پہلی ضرورت یہ ہے کہ اُن کے طریق مطالعہ کو بدلا جائے۔ اس موضوع پر میں اپنی کتابوں میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔ حضرت معاذ بن جبل کی روایت میں فقہ کا لفظ موجود نہیں ہے اور میرا کہنا یہی ہے کہ فقہ کا لفظ اپنے موجودہ مفہوم کے اعتبار سے، ایک بعد کی اصطلاح ہے، دورِ اول میں یہ اصطلاح موجود نہ تھی۔ آپ کے وطن میں آپ جیسے بہت سے لوگ ہیں۔ بہتر ہوگا کہ آپ ان افراد سے ربط قائم کریں اور اجتماعی کوشش سے اپنے علاقے میں الرسالہ کے دعوتی مشن کو آگے بڑھائیں۔