Al-Risala · June 2013

انقلابی اسپرٹ

Al-Risala, June 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی۔ اس کے بعد پورے عرب میں سنگین صورت حال پیدا ہوگئی۔ اس کا اندازہ حضرت عائشہ کی حسب ذیل روایت سے ہوتا ہے: ولما توفي رسول الله صلی الله عليه وسلم ارتدت العرب، واشرأبّت اليهودية والنصرانية ونجم النفاق، وصار المسلمون كالغنم المطيرة في الليلة الشاتية لفقـد نبيهم، حتی جمعهم الله علی أبي بکر (البداية والنهاية (5/279) یعنی جب رسول اللہ کی وفات ہوئی تو عرب میں ارتداد پھیل گیا۔ یہودیت اور نصرانیت نے سر اٹھایا اور نفاق ظاہر ہو گیا۔ اور پیغمبر کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان جاڑے کی رات میں بھیگی ہوئی بکری کے مانند ہو گئے، یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو ابو بکر پر جمع کر دیا۔ اس نازک موقع پر حضرت ابو بکر نے جو کام انجام دیا تھا، اس کی تفصیل کتابوں میں دیکھی جا سکتی یہاں ہم اس سلسلے کی صرف ایک روایت نقل کرتے ہیں۔ جب مذکورہ صورت حال پیش آئی، اُس وقت اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حضرت ابو بکر کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تھے: أينقص الدين وأنا حي (هداية الرواة لابن حجر العسقلانی، رقم الحديث: 3031) یعنی کیا دین میں نقص پیدا کیا جائے گا اور میں زندہ ہوں۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کے اس قول سے زندگی کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے— کوئی بڑا کام ہمیشہ اُس وقت ہوتا ہے جب کہ ایک شخص کے اندر یہ عزم پیدا ہوجائے کہ یہ میری ذمے داری ہے اور میں اس کام کو کروں گا۔ بڑا کام ہمیشہ ایک با عزم انسان کے ذریعے انجام پاتا ہے، نہ کہ کسی بھیڑ (crowd) کے ذریعے— اس قسم کی طوفانی اسپرٹ ایک فرد کے اندر پیدا ہوتی ہے، نہ کہ کسی مجموعے کے اندر۔ یہ ایک کوہ شکن اسپرٹ ہے۔ اس کو ایک لفظ میں—” آئی ول ڈواسپرٹ‘‘ (I will do spirit) کے الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔

اس معاملے میں دوسری صورت یہ تھی کہ حضرت ابو بکر یہ سوچتے کہ اس وقت ملک میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ اصحاب رسول موجود ہیں، یعنی وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ایمان لائے،

جنھوں نے رسول اللہ کو دیکھا، جنھوں نے رسول اللہ کی صحبت پائی۔ یہ سوچ کر حضرت ابو بکرکہتے کہ: أينقص الدين وأصحاب الرسول أحياء (کیا دین میں نقص پیدا کیا جائے گا، حالاں کہ اصحاب رسول زندہ ہیں)۔ اس کے بجائے حضرت ابو بکر نے کہا کہ: أينقص الدين وأنا حي۔ حضرت ابو بکر اگر پہلا جملہ کہتے تو نفسیاتی طور پر وہ ذمے داری کو پورے مجموعے پر ڈال ایسی حالت میں شعوری یا غیر شعوری طور پر اُن کا ذہن یہ کہتا کہ ایک لاکھ پچاس ہزار ذمے داریوں میں سے صرف ایک ذمے داری ان کی اپنی ہے۔ اس کے برعکس، جب انھوں نے دوسرا جملہ کہا تو ان کا ذہن اس عزم سے بھر گیا کہ ساری کی ساری ذمے داری تنہا ان کی اپنی ہے، کسی کا انتظار کئے بغیر انھیں خود اپنے آپ کو اس کام میں پوری طرح جھونک دینا ہے۔

اس اسپرٹ کو ایک لفظ میں انقلابی اسپرٹ کہا جاسکتا ہے۔ تمام بڑے کام اسی انقلابی اسپرٹ کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ جہاں افراد کے اندر یہ انقلابی اسپرٹ موجود نہ ہو، وہاں باتیں تو بہت ہوں گی، لیکن ایسی صورت میں کوئی بڑا کام انجام پانے والا ہر گز نہیں۔

کسی فرد کے اندر یہ انقلابی اسپرٹ اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ وہ مسئلے کو اپنا ذاتی مسئلہ بنا لے، جب اس کو یقین ہو جائے کہ یہ کوئی خارجی سوال نہیں، یہ اس کی اپنی زندگی اور موت کا سوال ہے، یہیں اس کے لیے یا تو کامیابی کا فیصلہ ہونے والا ہے یا نا کامی کا فیصلہ۔ جب کوئی فرد اس طرح ایک مسئلے کو اپنا ذاتی مسئلہ بنالے تو اُس وقت اس کے اندر ایک انقلابی اسپرٹ پیدا ہو جاتی ہے، اور یہی انقلابی اسپرٹ کسی بڑے کام کی اصل ضامن ہے، خواہ وہ کوئی مذہبی کام ہو یا سیکولر کام۔

Printed page