Al-Risala · June 2013

قانونِ فطرت کو جانیے

Al-Risala, June 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر راجندر پرشاد (وفات: 1963) آزاد انڈیا کے پہلے صدر تھے، اُن کے زمانے میں گجرات میں سوم ناتھ کا مندر دوبارہ تعمیر ہوا۔ مئی 1951 میں مرکزی وزیر کے ایم منشی نے ڈاکٹر راجندر پرشاد کو دعوت دی کہ وہ سوم ناتھ مندر کی رسمِ تنصیب (installation ceremony) میں ڈاکٹر راجندر پرشاد نے اس تقریب میں شرکت کی اور وہاں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ میرے نزدیک سوم ناتھ مندر کی تعمیرِ ثانی اُس دن مکمل ہوگی، جب کہ یہاں نہ صرف ایک شان دار عمارت کھڑی ہوگی، بلکہ سوم ناتھ مندر کی شان دار تعمیر انڈیا کی خوش حالی کی علامت بن جائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ سوم ناتھ مندر اس بات کی علامت ہے کہ تخریب کے مقابلے میں تعمیر کی طاقت ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔

یہ واقعہ اُس وقت کے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور ڈاکٹر راجندر پرشاد کے درمیان شدید نا اتفاقی کا سبب بن گیا، کیوں کہ نہرو سوم ناتھ مندر کی تعمیر ثانی کو ہندو احیا کی کوشش کے ہم معنی اس کے برعکس، ڈاکٹر راجندر پرشاد اور مرکزی وزیر کے ایم منشی کا خیال تھا کہ سوم ناتھ مندر کی تعمیر ثانی آزادی کا ایک پھل ہے اور ماضی میں ہندوؤں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا خاتمہ:

مذکورہ واقعہ 1951 میں پیش آیا۔ اب اس واقعے پر 60 سال سے زیادہ کی مدت گزر چکی اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ جواہر لال نہرو کے اندیشے کا عملی تجزیہ کر سکیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جواہر لال نہرو کا اندیشہ (apprehension) واقعہ نہ بن سکا۔ اس درمیان ہندو احیائیت (Hindu revivalism) کی تحریکیں اس کے داعیوں کی طرف سے پوری طاقت کے ساتھ چلائی جاتی رہیں، مگر آج عملاً جس چیز کا غلبہ ہے، وہ تمام تر مغربی کلچر ہے، نہ کہ ہندو کلچر، حتیٰ کہ جو ہندو لیڈر ہندو احیائیت کے علم بردار بنے ہوئے تھے، ان کے اپنے بیٹے اور پوتے ہندو کلچر کو چھوڑ کر تیزی کے ساتھ مغربی کلچر کی طرف دوڑ رہے ہیں۔

اس سلسلے میں دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ دوبارہ کچھ ہندو لیڈروں نے ایک رُتھ یاترا نکالی۔ رتھ یاترا سوم ناتھ سے شروع ہو کر اجودھیا تک پہنچی۔ یہاں انھوں نے ایک بھیڑ اکٹھا کی۔ نے 6 دسمبر 1992 کو اجودھیا کی تاریخی بابری مسجد کو ڈھادیا۔

یہ احیا پرست لوگ جس وقت بابری مسجد کو ڈھا رہے تھے، اُس وقت یہ نعرہ ان کی زبان پر تھا کہ ــ اجودھیا تو جھانکی ہے، کاشی، متھرا باقی ہے۔ اس واقعے کے بعد تمام مسلم رہنما اس اندیشے میں پڑ گئے کہ اب ہندوستان کی تمام مسجدیں ڈھائی جائیں گی۔ اس معاملے کو لے کر مسلم رہنماؤں نے تقریر اور تحریر کے ذریعے احتجاجی ہنگامے برپا کیے، مگر عملاً کیا ہوا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اجودھیا میں اس تحریک پر فل اسٹاپ (full stop) لگ گیا، وہ کا ما (comma) نہ بن سکا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ــ اس دنیا میں ہمیشہ حقائق غالب (prevail) ہوتے ہیں، نہ کہ اندیشے۔

Printed page