Al-Risala · June 2013

انگریزی تعلیم

Al-Risala, June 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹی بی میکالے(Thomas Babington Macaulay) ایک انگریز مورخ اور سیاست وہ 1800 میں پیدا ہوا، اور 1859 میں اس کا انتقال ہوا۔ وہ 1835 میں انڈیا آیا۔ وقت کی برٹش حکومت میں اس کو ایک بڑا عہدے دار بنایا گیا ۔ اس نے ایک تعلیمی نظریہ وضع کیا جس کو میکال ازم (Macaulayism) کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد تھا ملک میں اینگلی سائزڈ انڈین (anglicised Indians) کا ایک نیا طبقہ پیدا کرنا۔

لارڈ میکالے سے پہلے انڈیا کی آفیشیل زبان فارسی تھی۔ لارڈ میکالے کی کوششوں سے ایسا ہوا کہ 1938 میں انگریزی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ اس کے بعد ملک کے اسکولوں میں انگریزی زبان ذریعہ تعلیم قرار پائی۔ لارڈ میکالے کا کہنا تھا کہ — اس سے ایک نئی نسل پیدا ہوگی جو کہ پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی اور اپنے ذہن کے اعتبار سے انگریز ہوگی : So that a generation may arise which is Indian in birth and English in thought. لارڈ میکالے نے جب یہ کہا تو اس کے خلاف سخت ہنگامہ کیا گیا، خاص طور پر مسلم رہنما انگریزی تعلیم کے شدید مخالف ہو گئے، حتی کہ انھوں نے کہا کہ انگریزی تعلیم گاہیں مسلمانوں کے لیے قتل گاہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر یہ سب غیر ضروری اندیشے تھے۔ عملاً جو کچھ ہونے والا تھا، وہ صرف یہ کہ ان درس گاہوں میں تعلیم پانے کی وجہ سے کٹرپن ختم ہو جائے اور لوگوں کے اندر کھلا پن آ جائے ۔ اپنے نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو لارڈ میکالے کا قول ایک لفظی تبدیلی کے ساتھ دراصل یہ تھا : So that a generation may arise which is Indian in birth and liberal in thought. چناں چہ تجربہ بتاتا ہے کہ ان انگریزی اداروں میں تعلیم پائے ہوئے مسلم نوجوانوں میں سے بہت سے ایسے تھے جو بعد کو بہترین مسلمان بنے۔ مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو انھیں انگریزی اداروں سے

بہترین افراد حاصل ہوئے، وغیرہ۔ اس معاملے میں اصل قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ لارڈ میکالے یا برٹش حکمرانوں نے بطورِ خود کس نظریے کے تحت انگریزی تعلیم گاہیں بنائیں، بلکہ اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ باعتبارِ نتیجہ ان کا انجام کیا ہوا، اور یہ کہ یہاں سے کس قسم کے لوگ تعلیم پا کر نکلے۔ انگریزی تعلیم حقیقتاً برٹش تعلیم نہ تھی، بلکہ وہ جدید علم (modern learning) کے حصول کا ماڈرن ایجوکیشن اپنی حیثیت کے اعتبار سے نہ پروبرٹش (pro-British) تھی اور نہ اینٹی مسلم، وہ صرف جدید علوم تک پہنچنے کا ایک ذریعہ تھی۔ ’’انگریزی تعلیم‘‘ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اندر ذہنی جمود ٹوٹا، ان کے اندر کھلاپن آیا، ان کے اندر متعصبانہ طرزِ فکر (biased thinking) کا خاتمہ ہوگا، وہ چیزوں کو موضوعی انداز (objective way) میں دیکھنے لگے، ان کے اندر کٹر پن ختم ہو گیا، ان کے اندر چیزوں کو عقل (reason) کے معیار پر جانچنے کا مزاج پیدا ہو گیا، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں عین دینِ حق کے موافق تھیں، کیوں کہ دینِ حق انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، وہ عقل کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے۔ دین حق کے راستے میں اگر کوئی چیز رکاوٹ ہے تو وہ صرف متعصبانہ طرزِ فکر ہے۔ کسی بھی طریقے سے اگر متعصبانہ طرزِ فکر کو ختم کر دیا جائے تو دین حق اور انسان کے درمیان حائل فکری دیوار اپنے آپ منہدم ہو جائے گی۔ اس کے بعد انسان اس قابل ہو جائے گا کہ وہ حقیقت کو اس کی بے آمیز صورت میں دیکھ سکے۔ انگریزی تعلیم یا سیکولر تعلیم کے ذریعے یہی واقعہ پیش اس تعلیم کے ذریعے بہت سے نوجوان اس قابل ہو گئے کہ وہ حقیقت کو در یافت کر کے اس کو قبول موجودہ زمانے میں اس طرح کی مثالیں ہر مقام پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ قدیم زمانہ قیاسی استدلال کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ سائنسی استدلال کا زمانہ ہے۔ آج کے انسان کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے کے لیے سائنسی استدلال کی ضرورت ہے۔ انگریزی تعلیم نے اسی دروازے کو کھولا تھا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی صورتِ حال پیش آئے تو اگر چہ وہ بظاہر عُسر دکھائی دیتی ہو تب بھی آپ اس کے اندر یُسر تلاش کریں۔ ہر نئی صورتِ حال ہمیشہ نئے مواقع کو لاتی ہے۔ میں اصل کام صرف یہ ہے کہ مواقع کو دریافت کر کے ان کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے۔

Printed page