Al-Risala · June 2013

دو طرفہ انتظام

Al-Risala, June 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد ایک طرف یہ کیا کہ پیغمبروں کو بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا جو ساتویں صدی عیسوی میں خاتم النبیین کے ظہور تک جاری رہا۔ یہ پیغمبر اس لیے آئے تا کہ انسان کو لفظی طور پر یہ بتا دیا جائے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ کیا ہے، تا کہ جو انسان اس تخلیقی منصوبے کے مطابق ، زندگی گزارنا چاہے، وہ اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کر سکے۔ کے ذریعے اللہ کا جو کلام قرآن کی شکل میں آیا ، وہ پوری طرح محفوظ ہو گیا، اور پرنٹنگ پریس کے دور میں ہر انسان تک اس کا مستند نسخہ پہنچ گیا۔ اس لیے اب کسی پیغمبر کے آنے کی ضرورت نہیں۔ اس خدائی انتظام کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو تاریخ کا ربانی مینٹ (divine-management of history) کہا جا سکتا ہے۔ اس مینٹ مینٹ کا خاص حصہ یہ ہے کہ زمین پر کوئی فتنے کی حالت قائم نہ ہونے پائے۔ چناں چہ جب بھی زمین پر فتنے کی کوئی حالت قائم ہوتی ہے تو اللہ ایسے حالات پیدا کرتا ہے جو اس کو ختم کر دینے والے ہوں۔ موجودہ زمانے میں اس قانون دفع کی ایک مثال یہ ہے کہ 1917 میں کمیونسٹ ایمپائر قائم ہوا۔ اس نے ایک بڑے رقبے میں خلاف مذہب قانون بنا کر انسان سے چوائس (choice) کا حق چھین لیا۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے امریکا کو استعمال کیا اور تقریباً 75 سال کے بعد 1991 میں کمیونسٹ ایمپائر کے تحت قائم شدہ جبری نظام کا خاتمہ ہو گیا۔ امت مسلمہ کا رول اس خدائی منصوبے میں امت مسلمہ کا رول کیا ہونا چاہیے، اس کو قرآن میں اشارات کی زبان میں بتا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورہ الصف کی ایک آیت یہ ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ فَآمَنَتْ طَائِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَتْ طَائِفَةٌ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ (61:14) یعنی اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا: کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا: ہم

ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا۔ نے ایمان لانے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں، مدد کی، پس وہ غالب ہو گئے۔ قرآن کی اس آیت میں ایک بہت اہم بات کہی گئی ہے۔ اس آیت کا خطاب امتِ مسلمہ سے ہے، لیکن اس میں امتِ مسیح کے ایک نمونے کو بطور ماڈل پیش کیا گیا ہے اور امتِ مسلمہ سے یہ کہا گیا ہے کہ تم بھی اُسی ماڈل کے مطابق کام کرو جس کے مطابق ، امتِ مسیح نے کام کیا یا مستقبل میں کام یہ ماڈل آئیڈالوجی یا عقیدہ کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ صرف طریقِ کار (method) کے اعتبار سے ہے۔ اس اعتبار سے، امتِ مسیح (Christian community) کے یہاں جو ماڈل ملتا ہے، اس کی دو تاریخی مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں مسیحی گروہ، تعداد کے اعتبار سے، سب سے بڑا مذہبی گروہ بن جائے گا (صحیح مسلم، ایسا کیوں کر ہوگا، اس کا جواب بھی اسی مثال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس معاملے کی پہلی مثال وہ ہے جو خود حضرت مسیح کے زمانے میں پیش آئی۔ حضرت مسیح کا مقامِ عمل قدیم فلسطین تھا۔ فلسطین میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں پر سخت ظلم کیا گیا، مگر حضرت مسیح کی تعلیم کے مطابق، اُن کے پیروؤں نے اپنے دشمنوں سے کوئی نفرت نہیں کی۔ انھوں نے دشمنوں کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی، حتی کہ ان کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ بھی نہیں کیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ فلسطین سے باہر چلے گئے اور حضرت مسیح کی تعلیم: دشمن سے محبت کرو (love your enemy) کے اصول پر عمل کرتے ہوئے پر امن دعوت (peaceful missionary work) میں مشغول ہو گئے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ سینٹ پال کے زیرِ اثر مسیحی گروہ کے اندر کچھ نظریاتی انحرافات پیدا ہوئے، لیکن جہاں تک پر امن طریق کار کا معاملہ ہے، اُس پر وہ بدستور پوری طرح قائم رہے۔ پر امن مشنری سرگرمیوں کے ذریعے مسیحیت مختلف ملکوں میں پھیلتی رہی، یہاں تک کہ رومی شہنشاہ کانسٹینٹین اول (Constantine I) نے 337 میں مسیحی مذہب قبول کر لیا۔ یہ الناس علی دین ملوکھم کا دور تھا۔ چناں چہ جلد ہی ایسا ہوا کہ یورپ کے تقریباً تمام باشندوں نے مسیحی مذہب کو اختیار کر لیا، مسیحی گروہ کو یہ

غیر معمولی کامیابی تمام تر پرامن دعوت کے ذریعے حاصل ہوئی۔

مسیحی گروہ کے ذریعے تاریخ میں اس سلسلے میں دوسرا ماڈل ساتویں صدی عیسوی میں قائم ہوا۔ ساتویں صدی میں مسلمانوں کو جب عروج ہوا تو انھوں نے رومن ایمپائر کو توڑ دیا اور اس مسیحی سلطنت کے پورے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اس علاقے میں مسیحی عقیدے کے مطابق ، مقدس مقامات، شام اور فلسطین، بھی شامل تھے۔ بعد کے زمانے میں یورپ کے مسیحی بادشاہوں کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا کہ وہ اپنے مقدس مقامات کو مسلمانوں سے واپس لے لیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے وہ جنگ چھیڑی جو تاریخ میں، صلیبی جنگ (Crusades) کے نام سے مشہور ہے۔ صلیبی جنگ وقفے وقفے سے تقریباً دو سو سال (1291-1095) تک جاری رہی۔ مورخ گبن کے الفاظ میں، اس جنگ میں یورپ کی مسیحی قوموں کو ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) ہوئی۔ مگر تاریخ کا یہ انوکھا معجزہ ہے کہ اس شکست کے بعد مسیحی قوموں میں منفی ردعمل (negative reaction) کا جذبہ پیدا نہیں ہوا، بلکہ انھوں نے یہ کیا کہ اپنے جذبے کو پر امن عمل کی طرف ڈائیورٹ (divert) کر دیا، یعنی مسلمانوں سے مسلح مقابلہ ختم کر کے علم وتحقیق کے میدان میں اپنی کوششوں کو صرف کرنا۔ ڈائیورژن (diversion) کے اس عمل کو ابتدائی زمانے میں، اسپرچول کروسیڈ (spiritual crusades) کہا گیا تھا۔ بعد کو وہ رفتہ رفتہ سائنٹفک کروسیڈ (scientific crusades) میں تبدیل ہو گیا۔ اس عمل میں اُس وقت چرچ رکاوٹ بن گیا تو انھوں نے سخت جدوجہد کے بعد چرچ کے اختیارات پر حد بندی قائم کردی، پھر 1929 میں چرچ کو ویٹیکن (روم) کے محدود رقبے میں گویا ہاؤس اریسٹ (house arrest) کر دیا جس کا کل رقبہ صرف 109 مربع ایکڑ ہے۔ اِس دور میں یورپ کے جن لوگوں نے سائنٹفک کروسیڈ (scientific crusades) یا سائنسی ریسرچ کے میدان میں کام کیا، وہ تقریباً سب کے سب مسیحی افراد تھے۔ اِس سائنسی عمل میں بریک تھرو (breakthrough) اُس وقت آیا، جب کہ 1609 میں اٹلی کے فلکیاتی عالم گلیلیو (Galileo Galilei) نے ابتدائی دوربین تیار کی اور اس کے ذریعے خلا کا مشاہدہ کیا۔

اس مشاہدے نے سائنس دانوں کے سامنے عمل کا ایک ایسا میدان کھول دیا جو نا قابل قیاس حد تک اُس وقت یورپی ذہن نے یہ جانا کہ ہم عالم صغیر میں جی رہے تھے، جب کہ یہاں عالم کبیر ہمارا استقبال کرنے کے لیے موجود ہے۔ اس کے بعد یورپ کے مسیحی اہلِ علم پوری طرح سائنسی تحقیق کے میدان میں سرگرم ہو گئے، یہاں تک کہ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار ایک نیا دور پیدا کر دیا جس کو عام طور پر جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔

Printed page